Sunday, February 4, 2018

الیکشن 2018 اور این اے 118 لاہور

گزشتہ الیکشن کی طرح اس الیکشن میں بھی امید کی جارہی ہے کہ سب سے دلچسپ اور سخت مقابلہ لاہورمیں ہونے کا امکان ہے۔اس وقت لاہور میں کل 13 قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں (این- اے 118 سے این- اے 130)۔

اکتوبر 2002 کے الیکشن میں جب بے نظیر اور نواز شریف ملک سے باہر تھے، لاہور کی 13 میں سے چار نشستوں پر ( این- اے 119 ، 120 ، 122 اور 123 ) پر مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی جبکہ تین نشستوں ( این- اے 124 ، 128 اور 130) پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی جبکہ دو نشستیں ( این – اے 125 اور 129 ) ق لیگ کے حصے میں آئی اور دو ہی نشستیں (این- اے 121 اور 126 ) متحدہ مجلس عمل کے حصے میں آئی اور این- اے 127 پر عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہرالقادری کامیاب ہوئے جبکہ این- اے 118 سے آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے- جبکہ تحریک انصاف نے اس الیکشن میں 13 میں سے 12 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیئے، این اے 122 سے عمران خان نے ایاز صادق کے مقابلے میں خود الیکشن لڑا اور 18638 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہےاور ایاز صادق 37531 ووٹ لے کر جیت گئے اس کے علاوہ کسی بھی حلقے میں تحریک انصاف کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکی یوں، تحریک انصاف کے حصے میں کوئی بھی نسشت نہیں آئی۔

فروری 2008 کے الیکشن میں جب پرویز مشرف پاکستان کے صدر تھے، 27 دسمبر 2007ء کو بے نظیر کی شہادت کے بعد آصف زرداری پیپلز پارٹی کو لیڈ کر رہے تھے اور نواز شریف مسلم لیگ (ن) کو جبکہ 5 سالہ اقتدار کے بعد مسلم لیگ (ق) کی قیادت گجرات کے چوہدریوں کے پاس تھی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا، اس تمام صورت حال میں لاہور کی 13 میں سے 11 نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیتی اور باقی 2 نشستیں( این- اے 129 اور 130) پیپلزپارٹی کے حصے میں آئی۔

2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان اصل مقابلہ تھا، مقابلہ تو اچھا ہوا لیکن تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی صرف ایک ہی نشست مل سکی، باقی تمام نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب رہی۔

آئیے ماضی کے انتخابات کو بنیاد بنا کر لاہور کے حلقہ این اے 118 کا جائزہ لے کر 2018ء کے انتخابات کے ممکنہ نتائج کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

این- اے 118 لاہور-1

2002ء کے الیکشن میں اس حلقے سے آزاد امیدوار حافظ سلمان بٹ 25484 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جنہیں مسلم لیگ (ن) کی در پردہ ہمایت حاصل تھی۔ یہی وجہ تھی کے مسلم (ن) نےاپنا امیدوار میدان میں نہیں اتارا تھا، جبکہ باقی امیدواروں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

PICTURE NUMBER 1

2008ء کے انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک محمد ریاض 55900 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ باقی امیدواروں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

PICTURE NUMBER 2

2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد ریاض 103346 ووٹ لے کر دوبارہ کامیاب ہوگئے جبکہ باقی امیدواروں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

PICTURE NUMBER 3

2013ء کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان یہ کہتے دیکھائی دیے کہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ نواز شریف کے ووٹ 2008ء کے مقابلے میں ڈبل ہو گئے کیونکہ 2008ء میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا تھا، جس کا فائدہ نواز شریف کو ہوا اور اس وقت نواز شریف 8 سال بعد وطن واپس آئے تھے، اس لئے لاہور کی فضا بھی ان کے حق میں تھی لیکن 2013ء میں حالات قدر مختلف تھے۔ اس بار تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھرپور انداز میں سرگرم تھی، پھر بھی نواز شریف کے ووٹ 2008ء کے مقابلے میں ڈبل کیسے ہوگئے ؟ آئیے این- اے 118 کے حوالے سے عمران خان کے اس اعتراض کا جائزہ لیتے ہیں۔

2002ء کے انتخابات کے مندرجہ بالا دکھائے گئے نتائج پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ این اے 118 میں لیگی ووٹ دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ ایک مسلم لیگ (ن) جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار حافظ سلمان بٹ جنہوں نے 25484(%47۔36) ووٹ حاصل کیے اور دوسرا ق لیگ کے امیدوار میاں محمد اظہر جنہوں نے 21641 (%97۔30) ووٹ حاصل کیئے۔ اگر دونوں کے ووٹوں کو جمع کیا جائے تو یہ 47125 (%44۔67) بنتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری عبدالقادر نے 16855 (%12۔24) ووٹ حاصل کیے اور اس حلقے میں ٹرن آٶٹ %22۔29 رہا۔

PICTURE NUMBER 4

2008ء میں جب میاں نواز شریف وطن واپس آچکے تھے اس انتخابات کے نتائج پر اگر نظر ڈالی جائے یہاں لیگی ووٹ یکجا ہوتا دکھائی دیتا ہے اور اس کی وجہ نواز شریف کی آمد تھی اس الیکشن میں لیگی امیدوار محمد ریاض ملک کو 55900 ( %20۔60) ووٹ ملے اور بے نظیر کی شہادت کی وجہ سے ہمدردی کی لہر کے باوجود پیپلزپارٹی کے ووٹوں میں 2002 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔ پی پی پی کے امیدوارسید آصف ہاشمی کو 24772 (%61۔26) ووٹ ملے اس کے علاوہ اس بار ق لیگ کے امیدوار نے نواز شریف کی موجودگی کے باوجود 11075 (%93۔11) ووٹ حاصل کر لیے۔ یہی وہ ووٹ ہے جو 2013 میں ق لیگ کی غیر موجودگی میں تحریک انصاف کو ملا۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور اس وقت ان دونوں جماعتوں کی مقبولیت خاطرخواہ نہیں تھی اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے حصہ لینے پر بھی انتخابات کے نتائج پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس بار ٹرن آوٹ بڑھ کر %70۔37 رہا۔

PICTURE NUMBER 5

اب آتے ہیں 2013ء کے انتخابات کی طرف، ان انتخابات میں لاہورکو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور اصل مقابلہ بھی یہیں ہونا تھا، میڈیا کا فوکس بھی اسی شہر پر تھا، پھر دو بڑے لیڈر عمران خان اور نواز شریف اس شہر سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر اس بار اس حلقے میں ٹرن آٶٹ بڑھ کر%60۔50 ہو گیا۔ ٹرن آوٹ بڑھنے کی وجہ سے ووٹوں کی تعداد تو بڑھ گئی لیکن تناسب وہی رہا اس بار مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد ریاض ملک کے ووٹوں کی تعداد بڑھ کر 103346(%23۔62) ہوگئی لیکن تناسب تقریبا وہی رہا جو 2008ء میں تھا یعنی 2008ء میں ن لیگ کو کل ووٹوں کا %20۔60 اور 2013ء میں کل ووٹوں کا % 23۔62 ملا، اس لیئے عمران خان کا یہ اعتراض کے نواز شریف کے ووٹ ڈبل کیسے ہوئے، مندرجہ بالا نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے بلا جواز اور بے بنیاد لگتا ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے امیدوار حامد زمان کو 43616 (%26۔26) ووٹ ملے اور پیپلز پارٹی کے ووٹ کم ہوکر 14054 (%46۔8) رہ گیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2013 کے انتخابات سے پہلے تقریبا تمام تجزیہ نگار یہ رائے رکھتے تھے کہ تحریک انصاف ن لیگ کا ووٹ بینک توڑے گی جب کہ حقائق اس کے برعکس ہیں مندرجہ بالا نتائج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلم لیگ ن اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے اور تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا ووٹ بینک توڑا ہے۔ تحریک انصاف کو 2013ء میں کل ووٹوں کا %26۔26 ملا جو کہ تقریباً اتنا ہی ہے جتنا 2002ء اور 2008ء میں اس حلقے سے پیپلز پارٹی کو ملتا تھا۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف 5 سے 10 فیصد ایسے نئے ووٹر کو بھی متوجہ کیا ہے جو عموماً ووٹ نہیں ڈالتا تھا۔

PICTURE NUMBER 6

مندرجہ بالا نتائج کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تحریک انصاف پنجاب میں پیپلز پارٹی کی جگہ لے رہی ہے لیکن جب تک تجریک انصاف ن لیگ کے ووٹ بینک کو متوجہ نہیں کر پاتی یا مزید نئے ووٹر کو باہر نہیں نکال پاتی، اس وقت تک اسے کامیابی نہیں مل سکتی۔ اب ظاہر ہے کہ نواز شریف کو گالیاں دینے سے تو ن لیگ کا ووٹ ٹوٹے گا نہیں اس کے لیے عمران خان کو بہتر منشور دینا ہوگا، جو لوگوں کو متوجہ کرے اور کے پی کے کو مثال بنا کر پیش کرنا ہوگا اور موجودہ صورت حال میں تحریک لبیک اور جماعت الدعوة کی صورت میں انتخابی سیاست میں ایک نیا اضافہ ہوا ہے اور این اے 120 ضمنی انتخابات کے نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں اگر اسی طرح میدان عمل میں رہی تو یہ ن لیگ کا 10 سے 15 فیصد ووٹ بینک توڑ سکتی ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ووٹوں کا فرق مزید کم ہوجائے گا اور اگر ن لیگ سے ختم نبوت قانون میں تبدیلی جیسی ایک غلطی بھی اور ہوئی تو بازی یکسر بدل سکتی اور مزید یہ کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض یہ دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں کہ کونسی پارٹی حکومت بناسکتی تاکہ وہ مستقبل میں اپنے حلقے کے اور دیگر ذاتی نوعیت کے کام کروا سکیں۔ اگر عمران خان یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ پاور میں آرہے ہیں تو بہت سا ووٹ ان کی جانب جھک جائے گا۔ اس کی ایک مثال شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب ہے اور زرداری کا اسلام آباد جلسے میں ظاہر کیا گیا پر اعتماد لہجہ ہے، جس میں دونوں نے یہ ظاہر کرنے کی کو شش کی کہ جیسے انہیں مقتدر حلقوں کی جانب سے این او سی مل چکا ہے اور وہ پاور میں آرہے ہیں۔ عمران خان میکرو لیول پر اپنے آپ کو ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر بہت حد تک منوا چکے لیکن مائیکرو لیول پر انہیں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر حلقے کے چھوٹے چھوٹے با اثر افراد کو ساتھ ملا کر ہی وہ مزید آگے بڑھ سکتے ہیں۔

2008ء اور 2013ء کے نتائج سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ن لیگ کا ووٹ بینک تمام جماعتوں کے مجموعی ووٹ بینک سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے اگر تمام جماعتوں کا اتحاد بھی ہوجائے تو بھی ن لیگ کی شکست غیر یقینی رہے گی اور اس کا منفی اثر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ اپوزیشن کی کجھ جماعتیں آپس میں حریف بھی ہیں۔ اس لیے تحریک انصاف کے لیے پیپلزپارٹی کے بجائے ق لیگ اور عوامی تحریک بہترین اتحادی ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو چاہئیے کہ وہ اس حلقے سے کھڑے ہونے والے تما م آزاد امیدواروں کی حمایت حا صل کرلے اور حلقے کے دیگر ایسے با اثر افراد جو ن لیگ کاووٹ بینک توڑ سکتے ہوں کو سا تھ ملا کر صورت حال کو اپنے حق میں کر لے۔

اور رہی بات یہ کہ جو لوگ مندرجہ بالا نتائج کو نہیں مانتے اور ان کا خیال یہ ہے کہ 2002ء سے 2013ء تک کے تمام الیکشن دھاندلی زدہ ہیں تو ان لوگوں کے لئیے میں اپنے آنے والے بلاگز میں جب این اے 120 اور 122 پر لکھوں گا تو اس اعتراض کا جواب بھی لکھونگا۔

 

The post الیکشن 2018 اور این اے 118 لاہور appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2FGHSo2

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny