Saturday, February 3, 2018

سویلین بالادستی

پاکستان کو آزاد ہوئے 70 برس ہوگئے اور ان گزری سات دہائیوں میں پاکستان کو بہت سارے نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا ۔ان گزری سات دہائیوں میں جہاں پاکستان میں جمہوریت اور سویلین بالادستی کی بات کی گئی وہاں پاکستان میں چار ادوار ایسے بھی گزرے جس میں فوجی مارشل لاء اور ملٹری ڈکٹیٹر نے پاکستان کے آئین کو معطل کر کے اس ملک پر حکومت کی،فوج کے ساتھ ساتھ سویلین حکومت کے مزے لئے اور بنا کسی حساب و کتاب اس ملک سے ایک بہت ہی احسن طریقے سے اقتدارسول حکومت کے سپرد کرکے آگے کی راہ لی۔ سب سےغور طلب بات یہ ہے کہ جہاں سول حکومت نے فوج کے اس قبضے کو،اس ڈکٹیٹرشپ کی ہر بار مذمت کی  وہاں فوج نے ہر بار فوج کے اس عمل کی حمایت کی اور اس کو سول حکومت پر شب خون مارنے کے مترادف نہیں سمجھا۔

کل ملک کے منتخب وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی کا ایک بیان میری نظر سے گزرا جس کو پڑھنے کے بعد ایک عجیب سا احساس اور، دماغ میں چند سوالوں نے جنم لیا اور میں یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ وزیراعظم کا یہ بیان  کہیں سول ناکامی کا باعث تو نہیں۔

اس بیان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ حکمرانوں نے جمہوریت کے نام پر صرف معصوم عوام کو لوٹا ہے اور وہ آج اس بات کو مان رہے ہیں کہ وہ ابھی بھی طفل مکتب ہے اور جمہوریت سے سیکھ رہے ہیں ۔ اور آج 70 برس گزرنے کے بعد بھی فوج اور سویلین حکومت کے درمیان تعلقات بہتر طریقے سے استوار نہیں ہوئے اور آج بھی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس بیان سے بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے اور ہر ناکامی کے پیچھے شاید فوج کا ہاتھ ہے۔

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سویلین بالادستی کے لئے منتخب حکومتوں کو  بھی قدم اٹھانا پڑے گا۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ منتخب حکومت ہونے کے باوجود جب بھی مارشل لاء لگا، عدلیہ نے ہر بار فوج کا ساتھ دیا۔ میرے خیال کے مطابق فوج میں رویے کا ایشو ہے ۔ اور فوج سے مراد ہر بار چند جرنلز کی بات کی جاتی ہے ۔ فوج کے جوانوں کے اوپر سیاست کی جاتی ہے، اور فوج کی طرف سے یہ بیان کہ گورننس ٹھیک کی جائے درحقیقت سویلین بالادستی پر ایک سوال ہے ۔یہاں یہ بات یاد رکھنا بھی ضروری ہے کی فوج جمہوریت نہیں سکھا سکتی۔ فوج اور منتخب حکومت اس خلا کو پر کرے،کیونکہ اس خلا کو پور کئے بنا سول ملٹری تعلقات بہتر نہیں بنائے جاسکتے ۔فوج ہر بار منتخب حکومت سے گڈگورننس کی بات کرتی ہیں تو میرا سوال ہے کہ آج تک فوج نے اوجڑی کیمپ کی انکوائری کیوں نہیں کروائی؟

اگر اس ملک میں ہر شخص آزاد ہے اور اس کو بولنے کا حق ہے تو پھر اس کو اداروں کے کردار پر بھی بات کرنے کا حق ہونا چاہیے تاوقتیکہ وہ اس حد سے تجاوز نہ کرے اور اس کا بیان اور اس کی سوچ ادارے کی بہتری کے لیے ہو ۔

کچھ روز پہلے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ایک تقریب میں کہا! پاکستان آج بھی آزاد نہیں اب سوال ہے جس کاجواب ہمیں اپنے گھر اور گھر کے بڑوں سے لینا چاہیے مگر فوج اور سویلین بالادستی ہونے کے باوجود دونوں کے بیچ میں ہر بار زیادہ طاقتور کون کی بحث چھڑی رہی۔ میرے خیال کے مطابق فوج آج بھی سویلین بالادستی کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور وہ کہیں نہ کہیں آئین اور حکومت کے ماتحت اپنے آپ کو تصور نہیں کرتی اور اسی لیے فوج ہر بار اقتدار پر قابض ہو جاتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے قبضہ ختم ہونے کے بعد کوئی بھی شخص یا حکومت ان سے سوال کرنے کی ہمت نہیں کرے گی۔

جہاں ہم سب فوج کی عزت کرتے ہیں اور اس کی حرمت اورتوقیر کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں  وہاں فوج کو بھی دل سے حقیقی معنوں میں سویلین بالادستی کو ماننا پڑے گا کیونکہ جوہو جیسی ہو جمہوریت پھر بھی مارشل لا ءسے بہتر ہے  ۔ فوج اور حکومت کو بیٹھ کر میگا ریفارمز کی ضرورت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اس ملک کو بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں اور اس ملک سے گالی گلوچ کی سیاست، رات کے اندھیرے میں جی ایچ کیو کی سیاست،اور سیاست میں فوجی کردارکی نفی کی جا سکتی ہے۔ بہر طور حالات جیسے بھی ہوں سویلین حکومت اور سویلین بالادستی ہی ملک،اس کے اداروں اور اس کی فوج کے لیے سب سے بہترین آپشن ہے۔

The post سویلین بالادستی appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2FIrUd7

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny