Saturday, March 10, 2018

الیکشن 2018ء اور این اے 120 لاہور

لاہور کا حلقہ این اے 120 سال 2002ء سے لے کر اب تک ہونے والے 3 عام انتخابات اور ایک ضمنی انتخاب میں ن لیگ کا رہا ہے۔ یہ حلقہ نواز شریف کا حلقہ کہلاتا ہے کیونکہ 2002ء سے پہلے متعدد بار اور 2013ء میں بھی نواز شریف صاحب ذاتی طور پر یہاں سے الیکشن میں کامیاب ہو چکے ہیں لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ اس حلقے میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کو ملنے والے ووٹوں کے تناسب میں کمی واقع ہوئی ہے۔

آیئے ماضی کے انتخابات کا جائزہ لے کر اس کمی کی وجوہات پر غور کرتے ہیں اور 2018ء کے عام انتخابات کے ممکنہ نتائج کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

الیکشن 2002ء میں جب نواز شریف جلا وطن تھے اور مسلم لیگ دو حصوں ن لیگ اور ق لیگ میں تقسیم تھی، اس وقت ن لیگ کے امیدوار جناب پرویز ملک صاحب 33741 (% 46.87) ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ اگر اسے دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو یہاں ق لیگ کے امیدوار کو 15085 (%20.96) ووٹ ملے تو یوں مجموعی طور پر مسلم لیگی(ن + ق) ووٹ 48826 (%67.83) رہا۔

پیپلزپارٹی نے %27.06 اور تحریک انصاف نے %3.51 اور اس کے علاوہ 6 آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر %1.60 ووٹ حاصل کیے۔ اس الیکشن میں مجموعی طور پر اینٹی نواز شریف ووٹ %53.13 رہا (جبکہ دوسرے زاویے سے اینٹی مسلم لیگ(ن+ق) ووٹ %32.17 رہا۔ کل 10 امیدواروں(جن میں سے چار مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے اور 6 آزاد امیدوار تھے) نے حصہ لیا اور ٹرن آوٹ %31.27 رہا۔

1

الیکشن 2008ء میں نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی نے مسلم لیگی ووٹ کو یکجا کیا اور مسلم لیگ(ن) کے امیدوار بلال یاسین 65946 (%68.50) ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جو کہ 2002ء کے ن+ق ووٹوں کے برابر ہے۔ پیپلز پارٹی کو %25.32 ووٹ ملا جبکہ ق لیگ کا ووٹ کم ہو کر %4.44 رہ گیا تحریک انصاف نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس کے علاوہ دو آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر %0.06 ووٹ حاصل کیئے۔ کل آٹھ امیدواروں (جن میں سے چھ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے اور دو آزاد امیدوار تھے) نے حصہ لیا۔ اس بار اینٹی نواز شریف ووٹ %31.5 رہا اور ٹرن آٶٹ بڑھ کر %36.28 رہا۔

2

الیکشن 2013ء میں نواز شریف خود اس حلقے سے امیدوار تھے اور 91683 (%60.56) ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ تحریک انصاف کی یاسمین راشد نے بھرپور مقابلہ کیا اور ق لیگ اور پیپلزپارٹی کا مکمل صفایہ کرتے ہوئے 52354 (%34.58) ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار کو 2605 (%1.72) ووٹ مل سکے۔ اس بار اس حلقے سے لڑنے والے آزاد امیدواروں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے اور ان آزاد امیدواروں کو مجموعی طور پر %1.23 ووٹ ملے۔ اس حلقے سے مجموعی طور پر 26 امیدواروں نے حصہ لیا جن میں سے 13 آزاد تھے اور 13 ہی مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس بار اینٹی نواز شریف ووٹ بڑھ کر %39.44 ہوگیا جس کی وجہ عمران خان کی اینٹی نواز الیکشن کیمپین، ٹرن آٶٹ کا بڑھ کر %51.85 ہوجانا جس کی بڑی وجہ نوجوانوں کا انتخابی عمل میں شامل ہونا تھا، 2002ء اور 2008ء کے مقابلے زیادہ پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کا میدان میں اترنا اور ن لیگ کی گورنس سے نا خوش لوگوں کا تحریک انصاف کی طرف جھکاٶ (جن کی تعداد ماضی کے اعداد شمار کو مد نظر رکھتے ہوئے 5 سے 10 فیصد معلوم ہوتی ہے) وغیرہ شامل ہیں۔

3

یہ حلقہ ان چار حلقوں میں شامل تھا جن پر عمران خان نے 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔ اسی بیانیے کے تحت انہوں نے بعد میں لانگ مارچ بھی کیا اور 126 دن کا دھرنا بھی دیا۔ پاکستان کے بہت سے دانشوروں، تجزیہ نگاروں، میڈیا گروپس اور “پڑھے لکھے باشعور عوام” کی ایک بڑی تعداد نے عمران خان کے اس دھاندلی والے بیانیے کی بھرپور حمایت کی اور اس پر من عن یقین کرلیا اور کچھ لوگ تو اس حد تک گئے کہ جو لوگ بھی ان کے بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے تھے انہیں لفافہ صحافی، پٹواری، درباری، جاہل جسے القاب سے نوازا جاتا رہا اور پورے یقین کے ساتھ عوام کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کی گئی کے دھاندلی ہوئی ہے اور کوئی سازش نہیں ہورہی۔ احتجاج کرنا عمران خان کا حق ہے۔ بس چار حلقوں کا مسئلہ ہے۔ حکومت چار حلقے کھول دے تو مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن نواز شریف سب سمجھتے تھے کہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔ اگر حلقے کھل گئے تو ہر چھوٹی چھوٹی بے ضابطگی دھاندلی تصور ہوگی کیونکہ جس مقناطیسی سیاہی کی بنیاد پر عمران خان انگوٹھے کے نشان کی تصدیق کروانا چاہتے تھے وہ تو زیادہ تر پولنگ اسٹیشنز پر دستیاب ہی نہیں تھی اور جہاں دستیاب تھی وہاں کا عملہ تربیت یافتہ نہیں تھا اس وجہ سے کسی بھی حلقے میں مکمل طور پر انگوٹھے کے نشانات کی مکمل تصدیق نہیں ہوسکے گی تو یوں حکومت اپنا اخلاقی جواز کھو دے گی اور وہ ڈی سیٹ ہوجائینگے اور پھر ‘کیوں نکالا’ ہوگا اور بات نئے الیکشن تک جائیگی۔ اس وجہ سے انہوں نے عمران خان کے احتجاج کو نظر انداز کردیا کیوں کہ اس وقت عمران خان کا مطالبہ مان کر بھی وہی نتیجہ نکلنا تھا جو دھرنے کی کامیابی کی صورت میں نکلنا تھا یعنی دوبارہ الیکشن اور اگر 2014ء میں دوبارہ الیکشن ہوتے تو اس وقت نہ تو نواز شریف بجلی کا مسئلہ حل کرپائے تھے، نہ گیس کا اور نہ ہی دہشت گردی کا اور اوپر سے دھاندلی کا دھبہ بھی لگ جاتا تو نواز شدیف بہت کمزور پوزیشن میں ہوتے۔ لیکن مخالفین کب باز آنے والے تھے پھر پانامہ کیس میں ‘کیوں نکالا’ ہوگیا۔ نواز شریف نا اہل قرار پائے اور 2017ء کے آخر میں اس حلقے میں ضمنی الیکشن ہوئے۔

مجھے ذاتی طور پر اس ضمنی الیکشن کے نتائج کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ اس حلقے کے نتائج سے 2013ء کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی نے آشکار ہونا تھا یاد رہے کہ 2017ء کا ضمنی انتخاب مکمل طور پر فوج کی نگرانی میں کروایا گیا تھا۔ اس لیے اس بار تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کا الزام دہرایا نہیں جا سکتا تھا۔ لیکن اس بار گنگا الٹی بہنے لگی اور تحریک انصاف کے بجائے ن لیگ دھاندلی کا شور مچانے لگی فرق صرف اتنا تھا کہ تحریک انصاف نے 2013ء میں پوسٹ پول دھاندلی کا الزام لگایا جبکہ اس بار ن لیگ نے پری پول دھاندلی کا شور مچایا۔

آئیے 2017ء میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس کے الزامات میں کتنی صداقت ہے۔ ستمبر 2017ء میں نواز شریف کی نااہلی کے نتیجے میں خالی ہونے والی این اے 120 کی نشست پر ضمنی الیکشن ہوئے جس میں غیر معمولی طور پر 43 امیدواروں نے حصہ لیا، ن لیگ کی امیدوار بیگم کلثوم نواز 61745(%49.35) ووٹ لے کر کامیاب قرار پائیں۔ تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد 47099 (%37.64) ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں جبکہ تحریک لبیک کے امیدوار 7130(%5.70) ووٹ لے کر تیسرے اور ملی مسلم لیگ کے امیدوار 5822(%4.65) ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہے جبکہ پیپلزپارٹی 1414(%1.13) ووٹوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہی۔ اس کے علاوہ 31 آزاد امیدواروں کو مجموعی طور پر %0.90 ووٹ مل سکے۔

اس بار اینٹی نواز شریف ووٹ بڑھ کر %50.65 ہوگیا اور ٹرن آٶٹ 2013ء کے مقابلے میں تقریبا %11 کمی کے ساتھ %39.42 رہا۔

4

ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک نے 2013ء کے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا لہذا یہ خیال کیا جارہا تھا کہ یہ دونوں جماعتیں ن لیگ اور تحریک انصاف کا ووٹ کم کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اگر ان دونوں جماعتوں کا ووٹ تحریک انصاف کے ووٹ کے ساتھ جمع کیا جائے تو بھی فتح ن لیگ کی ہی بنتی ہے تجریک لبیک +ملی مسلم لیگ+پی ٹی آئی = 60051(%47.99) مسلم لیگ (ن) = 61745(%49.35) جس سے ن لیگ کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی جبکہ اگر ان دونوں جماعتوں کے ووٹ مسلم لیگ (ن) کے ووٹوں کے ساتھ جمع کیئے جائیں تو یہ تناسب تقریباً اتنا ہی بنتا ہے جتنا ن لیگ نے 2013ء میں لیا تھا۔ ن لیگ + تحریک لبیک+ملی مسلم لیگ= 74697(%59.70) ن لیگ کے 2013ء کے عام انتخابات میں حاصل کیئے گئے ووٹ= 91683(%60.56) جس سے اس خدشہ میں حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ ن لیگ کا ووٹ توڑیں گی اور ن لیگ کا موقف بھی تقویت پاتا ہے کہ 2013ء میں اس حلقے میں کسی قسم کی کوئی دھاندلی نہیں ہوئی اور عمران خان کے دھاندلی کے الزامات اور 126 دن کے دھرنے کے کچھ اور مقاصد تھے۔

اس کے علاوہ ن لیگ نے یہ اعتراض بھی اٹھایا تھا کہ اسمبلی کی مدت کے اختتام پر اور عام انتخابات کے قریب آزاد امیدوار اور دیگر چھوٹی پارٹیاں کم ہی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں لیکن غیر معمولی طور پر آزاد امیدواروں اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کی ایک بڑی تعداد اس ضمنی انتخاب میں کود پڑی اور جس کا مقصد ن لیگ کا ووٹ تقسیم کرنا تھا۔ اگر اعداد و شمار کے حوالے سے ن لیگ کے اس اعتراض کا جائزہ لیا جائے تو 2002ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے 6، 2008ء میں صرف 2، 2013ء میں 13 اور 2017ء کے ضمنی انتخاب میں 31 آزاد امید واروں نے حصہ لیا اور پارٹیوں کی اگر بات کی جائے تو 2002ء میں 4، 2008ء میں 6، 2013ء میں 13 اور 2017ء کے ضمنی انتخاب میں 12 پارٹیوں نے حصہ لیا جو کہ اسمبلیوں کی مدت کے اختتام پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لحاظ سے غیر معمولی ہے اور ماضی کے مقابلے میں بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہے جس کی کوئی بھی معقول وجہ سمجھ نہیں آتی سوائے اس کے کہ ن لیگ کا ووٹ توڑا جائے لیکن لاہور کی عوام کے سیاسی شعور کی داد دینی پڑے گی کہ ان 31 آزاد امیدواروں کو مجموعی طور پر %0.90 ووٹ ملے جبکہ 2013ء میں 13 آزاد امیدواروں کو %1.23 ووٹ ملے تھے لیکن خبردار جو کسی نے سازش کا لفظ استعمال کیا۔

2017ء کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی۔ یہ 31 آزاد امیدوار ہی پاگل تھے جو بنا سوچے سمجھے کھڑے ہوگئے تھے اور آج کل ایک نیا فیشن بھی چلا ہے کہ جب سازش ناکام ہوجائے تو جو لوگ سازش سے خبردار کر رہے ہوتے ہیں ان کا مذاق بنایا جائے کہ دیکھو تم تو کہتے تھے سازش ہورہی ہے ایسا تو کچھ نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ ن لیگ نے یہ بھی اعتراض اٹھایا کہ پولنگ کے دوران ہمارے ووٹرز کو روکا گیا اور مس گائیڈ کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے ن لیگ کا ووٹ کم ہوا اورٹرن آٶٹ بھی کم ہوا۔ 2013ء میں اس حلقے کا ٹرن آٶٹ %51.85 تھا اور 2017ء کے ضمنی انتخابات۔میں %39.42 رہا۔ یہ ضمنی الیکشن اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس حلقے کی وجہ سے ملک میں 126 دن کا دھرنا دیا گیا تھا اور نواز شریف کی نا اہلی سے بھی براہ راست متاثر تھا۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ ن لیگ کے مٶقف میں سچائی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی ن لیگ کے ووٹرز یہ شکایت کرتے دکھائی دیئے کہ ہمیں ووٹ ڈالنے نہیں دیئے جا رہے لیکن یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ واقعی ایسا ہوا یا نہیں۔

میں اتنا کہونگا کہ آج جو لوگ گلاپھاڑ پھاڑ کر کسی بھی قسم کی سازش کے وجود سے انکاری ہیں اور اداروں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، تاریخ کا مطالعہ ضرور کرلیں۔ زیادہ دور نہ جائیں دھاندلی پر ہونے والے پروپیگینڈے کو ہی دیکھ لیں اور پھر اس سارے ڈرامے کا حشر بھی دیکھ لیں۔ تاریخ اور تاریخ دان بہت ظالم ہوتے ہیں۔ آخر میں این اے 120 کے حوالے سے دلچسپ اعداد شمار کا خلاصہ,

5

تحریک انصاف نے 2002ء میں اس حلقے سے %3.52، 2013ء میں %34.58 اور 2017ء میں %37.64 ووٹ حاصل کیے۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ حقیقی اور پائیدار تبدیلی وہی ہے جو آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ آتی ہے۔ اگر آپ زور زبردستی، جلد بازی یا کسی مجبوری میں نواز شریف کو اداروں کے ساتھ مل کر گرانے کی کوشش کریں گے تو آپ کی تبدیلی کو ریورس گیئر یا فل اسٹاپ لگ سکتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں اداروں کی کریڈیبیلٹی کا مسئلہ ہے۔ ماضی کسی کا بھی اچھا نہیں۔ تبدیلی کا نعرہ آپ کو الیکشن میں کامیابی کے لیئے کافی ہے۔ یہ بہت بڑا نعرہ ہے، اگر آپ سمجھیں تو۔ نواز شریف پنامہ سے نہیں گرے گا، اقامہ سے نہیں گرے گا، اگر گرے گا تو صرف تبدیلی کے نعرے سے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کے آپ تبدیلی کارڈ کا کتنا اچھا استعمال کرتے ہیں لیکن میری ذاتی رائے میں آپ نے دھرنا سیاست اور پانامہ کیس میں سپریم کورٹ جا کر اپنے تبدیلی کے نعرے کی طاقت کو کم کردیا ہے لیکن اب بھی اس نعرے کی کشش کسی بھی اور نعرے سے زیادہ ہے۔

The post الیکشن 2018ء اور این اے 120 لاہور appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2FCyTrL

No comments:

Post a Comment