آج پوری دنیا خواتین کا عالمی دن منا رہی ہے۔ آج کے اس عالمی خواتین کے دن کا تھیم ‘پُش فار پراگریس’ یعنی ایک دوسرے کو ترقی کے لیے آگے دھکیلنا ہے۔
پاکستان میں خواتین کو ان کے حقوق دلانے کے لیے ہر سال، ہر دن، ہر لمحے اسی تھیم کی ضرورت ہے۔ اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو ایک دوسرے کا بازو بننا ہے، ایک دوسرے کو سہارہ دینا ہے اور ترقی کی راہ پر آگے دھکیلنا ہے لیکن حقیقت میں ہم اس کا الٹ کرتے ہیں۔
ہم خواتین ہی ہیں جو ہر سطح پر ایک دوسرے کے حقوق سلب کرتی ہیں۔ ہم اپنی ہا ہائے اور دیگر باتوں سے اپنے ارد گرد رہنے والی خواتین کی زندگیاں تاریک سے تاریک تر کرتے جاتے ہیں۔
آپ اپنے ارد گرد موجود کسی خاتون سے بات کر لیں، ان کی دکھوں بھری زندگی کی ذمہ دار کوئی نہ کوئی عورت ہوگی۔ میں ایسی تمام عورتوں کو آنٹی کہتی ہوں۔
یہ آنٹی نما خواتین وہ ہوتی ہیں جن کی زندگی کا مقصد بس شادی کرنا ہوتا ہے۔ یہ اسی دن کے لیے جیتی ہیں، جب ان کی زندگی کا یہ دن گزر جاتا ہے تب یہ بوکھلا جاتی ہیں کہ اب کیا کریں؟ تب یہ ایسی خوفناک آنٹیاں بن جاتی ہیں جن کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔
ان کا کام بس ادھر ادھر فون کرکے چغلیاں کرنا اور انٹرنیٹ پر دوسروں کا پیچھا کرنا ہوتا ہے۔ یہ جب بھی منہ کھولتی ہیں، ہا ہائے کا ایک طوفان امڈ آتا ہے بالکل اس کھلونے کی طرح جس کا بٹن دبائو تو گانا چل پڑتا ہے۔ یہ آنٹیاں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ان کا بٹن لڑکی کو دلہن کے لباس میں دیکھ کر ہی کچھ دیر کے لیے بند ہوتا ہے اس کے اگلے دن پھر خوشخبری کی گردان کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں ہوئے خطرناک اضافے کا ایک بڑا کریڈٹ ان آنٹیوں کی خوشخبری کی فرمائشوں کو جاتا ہے۔
آپ ان کے فون کا کال لاگ چیک کریں۔ دن بھر میں دس پندرہ کالز لازمی ہوگی اور یہ تمام کالز رشتے داروں، ملنے ملانے والوں اور ہمسایوں کو کی گئی ہوگی۔ کالز کا مقصد ہر گھر کے حالات و واقعات سے مکمل آگاہی لینا اور پھر اس پر حسبِ ضرورت ہا ہائے کرنا ہوتا ہے۔
دو منٹ کے چسکے کے لیے یہ آنٹیاں بھول جاتی ہیں کہ ان کی باتوں سے کسی کی زندگی کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔ ان کی ذرا سی باتوں کی وجہ سے ایک خاندان اپنی بیٹیوں پر اتنی سختی کرتا ہے کہ ان کا سانس لینا محال ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہمارے بھی آج وہی مسائل ہیں جو بیس سال پہلے ہماری مائوں کے تھے اور اس سے بھی تیس سال پہلے ان کی مائوں کے تھے۔
گزشتہ روز خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک فیچر سٹوری کرنے کے لیے مواد اکٹھا کر رہی تھی، معلوم ہوا کہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ نے راولپنڈی میں اس دن کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جس کا مقصد ظاہری بات ہے معاشرے میں خواتین کے رتبے کو بہتر کرنا ہوگا۔ خواتین کو ان کے اصل مقام دکھانے کے لیے اس تقریب میں بہترین دلہن کے لباس کا بھی ایک مقابلہ رکھا گیا تھا۔ نو عمر طالبات جن کے ذہن ابھی ناپختہ ہیں، انہیں دلہن بنا کر اس مقابلے میں لایا گیا تھا۔ کیا یہ عورت کا اصل مقام ہے؟ کیا ایک عورت کی زندگی کا مقصد صرف دلہن بننا ہے؟ آج کئی دفعہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ فون کیا تاکہ معلوم ہو سکے اس مقابلے کے پیچھے کس کا زرخیز دماغ تھا، مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ بھی کسی خاتون کی کارستانی ہوگی۔
اب وقت ہے کہ ہم ایسی تمام خواتین کی حوصلہ شکنی کریں۔ ان کو واضح الفاظ میں ان کی حدود بتائیں اور ان کے ایسے تمام آئیڈیاز کو رد کریں جو ہماری اکیسویں صدی میں سانس لیتی نو عمر لڑکیوں کو اٹھارویں صدی کی زندگی گزارنے کی تحریک دیں۔
اگر آپ ایک ایسا معاشرہ چاہتی ہیں جہاں آپ اور آپ کے بعد آنے والی دیگر لڑکیاں ایک مضبوط زمین پا سکیں تو ہمیں ایسی تمام آنٹیوں کو کہنا ہوگا، آنٹی پلیز! اپنا راستہ ناپیں۔
The post آنٹی پلیز! اپنا راستہ ناپیں appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2tzV1OJ




No comments:
Post a Comment