Saturday, March 10, 2018

عورت کے استحصال کا ذمہ دار کون ہے؟

آٹھ مارچ کی مناسبت سے آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج تک خواتین کو ان کے حقوق نہیں دیے جا سکے۔ پڑھی لکھی خواتین کو اپنے حقوق سے متعلق آگاہی ہے اور وہ اس کے لیے جدوجہد بھی کرتی رہتی ہیں تاہم بہت سی خواتین بالخصوص پاکستانی کے دیہاتی علاقوں میں رہنے والی خواتین زندگی کی بنیادی ضرویارت سے بھی محروم ہیں۔

بلاشبہ مرد نے ہر حثیت میں عورت کو وہ مقام نہ دیا جو اس کا حق ہے۔ تعلیم یافتہ گھرانوں میں صورتحال بہتر ہے لیکن دیگر کے نزدیک لڑکیوں کی تعلیم دینا اتنا ضروری نہیں ہے۔ اس لیے دیکھا گیا ہے کہ جتنے وسائل لڑکوں کی حصول تعلیم پر خرچ کیے جاتے ہیں اتنی کاوش لڑکیوں کے لیے نہیں کی جاتی ہے۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے والدین میں یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ لڑکیوں کو معیاری تعلیم دینا اشد ضروری ہے اور اگر بیٹیوں کا استحصال سے روکنا ہے تو انہیں با اختیار کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر عورت کبھی شوہر تو کبھی بھائی یا ان دونوں سے جڑے رشتوں کے رحم و کرم پر گزارا کرتی رہے گی۔

ہمارا معاشرہ آج تک تو عورت کوئی گھر نہ دے پایا اور بد قسمتی سے اس کا سب سے زیادہ ذمہ دار باپ ہے۔ بخدا جب باپ یہ فیصلہ کر لے کہ بیٹی کو اس کا حقیقی مقام دینا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت بیٹی کی حق تلفی نہیں کر سکتی۔ لیکن بیٹی کے استحصال کا یہ سلسلہ اسی گھر سے شروع ہوتا ہے جہاں وہ کبھی گھر کی رونق سمجھی جاتی تھی جہاں اس نے گھر سنبھالا ہوتا ہے بھائیوں کی پسند کے پکوان تیار کیے ہوتے ہیں، جہاں وہ ماں کا دست و بازو بنتی ہے جہاں وہ باپ کی تکلیف میں سب سے زیادہ بے قرار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے وہی گھر بیٹی کو جیسے لاوارث کر دیتا ہے۔ جی ہاں، جب باپ کی وراثت سے اسے حق نہیں دیا جاتا، جب اسے بیٹوں کے برابر تعلیم نہیں دی جاتی تو دراصل اس کمزور و مظلوم بیٹی کو ایک شوہر کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ کسی کو اچھا شوہر مل جائے تو یہ اس کی خوش قسمتی بصورت دیگر عورت کی حثیت ایک ملازمہ کی سی رہ جاتی ہے جس نے گھر کے کام کاج کرنے ہیں اور اجرت میں روکھی سوکھی پر گزارا کرنا ہے۔

ہمارے دیہاتوں میں ایسے گھرانے موجود ہیں جہاں عورت کے مرنے کا ڈر نہ ہو تو اسے نہ کھانا دیا جائے اور نہ ہی کبھی اسپتال لے کے جایا جائے۔ ایک وقت آتا ہے کہ اس بیچاری کو اسپتال پہنچایا جاتا ہے تاکہ اس کے بچے کو بچایا جا سکے۔ دوران حمل اس کا نہ ریگولر طبعی معائنہ کرایا جاتا ہے، نہ گھر کے کاموں میں کوئی رخصت دی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی خوراک میں بہتری کی جاتی ہے۔ ایسے گھرانوں میں عورت محض شوہر نہیں بلکہ اسے کے پورے خاندان کی ملازمہ ہوتی ہے۔ خود کو مرد سمجھنے والا شوہر گھر میں سب کو خوش رکھتا ہے سوائے بیوی کے۔ شوہر، بھائی اور باپ سب چونکہ مرد ہیں اس لیے عورت کے استحصال میں یہ سب برابر کے شریک ہیں۔ یہی ظالم شوہر بیوی کو بہنوں کی ملازمہ تو بنا لے گا لیکن انہیں شرعی اور قانونی حق وراثت کبھی نہیں دے گا۔

اس استحصالی معاشرے میں بیٹٰی کو اسکے تمام تر حقوق دینا ہونگے۔ اسے اس قدر با اختیار بنانا ہو گا کہ وہ محض دو وقت روٹی اور چھت کے لیے شوہر، بھائی یا دیگر کی جلی کٹی سن کر ایک سمجھوتے کی زندگی نہ گزارے۔ ہم بیٹی کو نصیب نہیں دے سکتے، اختیار دے سکتے ہیں۔ بس ہمیں اسے با اختیار بنانا ہوگا۔

آج کے دن کی مناسبت سے دیکھا جائے تو بہت سے پلیٹ فارمز پر خواتین خود اپنے اور دوسری خواتین کے حق میں سیر حاصل گفتگو کریں گی لیکن یہ سوال کوئی نہیں اٹھائے گا کہ ایک عورت دوسری عورت کا کتنا استحصال کرتی ہے یا کرچکی ہے۔ خود عورت، عورت کی کتنی بڑی دوست یا دشمن ہے؟ بطور ساس کسی نے بہو سے کیا سلوک روا رکھا ہوا ہے۔ بطور بہو کسی نے دوسری عورت کے ساتھ کیا کیا۔ نند، بہن، ساس، ماں اور بہو ان سماجی رشتوں میں کہیں نہ کہیں عورت کو عورت ہی سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد زدہ اس معاشرے میں عورت کو انصاف اور حقوق کی فراہمی زیادہ تر مرد کا فرض ہے لیکن وقت آ گیا ہے سوالات میں ایک سوال کا اضافہ کر لیا جائے کہ خود عورت کب سے عورت کے استحصال میں شریک ہے۔ آج عورت خود عورت کے دفاع کا فیصلہ کر لے تو اسے بآ سانی معاشرے میں اپنا مقام مل سکتا ہے۔

The post عورت کے استحصال کا ذمہ دار کون ہے؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2FGuX9u

No comments:

Post a Comment