برطانیہ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔49 سالہ پاکستانی نژاد ساجد جاوید جنہیں پارلیمنٹ میں منتخب ہوئے محض آٹھ سال ہوئے ہیں برطانیہ کی تاریخ میں، نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے پہلے فرد ہیں جو وزیر ِداخلہ کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں۔ اس عہدہ کی راہ، ان کی پیش رو وزیر داخلہ امبر رڈ کے استعفیٰ سے کھلی ہے جنہیں پارلیمنٹ میں غلط بیانی کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔
ساجد جاوید برسٹل کے بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں جو سن ساٹھ کے عشرہ میں روزگار کی تلاش میں، پاکستان سے نقل ِوطن کر کے برطانیہ آئے تھے۔ ساجد جاوید اپنے والدین اور پانچ بھائیوں کے ساتھ برسٹل میں ایک دکان کے اوپر دو کمروں میں رہتے تھے۔ مقامی اسکول میں اور ٹیکنیکل کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایکسیٹر یونیورسٹی سے معاشیات اور سیاسیات کی ڈگری حاصل کی اور امریکا میں مین ہٹن چیز بنک میں ملازمت کی جہاں سے ترقی کر تے ہوئے وہ جرمن ڈوایچ بنک کے عالمی شعبہ کے سربراہ کے عہدہ پر فائز ہوئے۔
ان کی کامیابی کا ایک بڑا راز بینکاری کے امور میں ان کی زبردست مہارت ہے جس کے سہارے وہ ارب پتیوں کی صف میں شامل ہوگئے اور وافر دولت جمع کرنے کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا۔ کامیابی کا ایک اہم راز یہ بھی ہے کہ انہوں نے بر وقت چڑھتے ہوئے سورج کا ساتھ دیا ہے۔ 2010ء میں پہلی بار پارلیمنٹ میں منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم کیمرون سے وفا داری اور برطانیہ میں شمولیت کے موقف کی حمایت کے عوض انہیں کابینہ میں جگہ ملی، اور ثقافت، میڈیا اور کھیلوں کا وزیر مقرر کیا گیا۔
ریفرینڈم میں شکست کے بعد کیمرون کے رخصت ہونے کے بعد ساجد جاوید، یورپ میں شمولیت کی حمایت ترک کر کے ٹریسا مے کے حلیفوں میں شامل ہوگئے۔ اس کا انعام ٹریسامے نے انہیں کابینہ میں کمیونٹیز کے وزیر کے عہدہ کے صورت میں دیا۔

ساجد جاوید کا کھلم کھلا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کے سخت مخالف ہیں۔ حزب مخالف لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کے خلاف یہودیوں کی مہم میں بھی ساجد جاوید پیش پیش رہے ہیں اور ان پر اینٹی سیمیٹیزم، یہودیوں کی مخالفت کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
ساجد جاوید کی1997ء میں ایک یہودی خاتون لورا کنگ سے شادی ہوئی تھی جن سے ان کے ایک لڑکا اور تین لڑکیاں ہیں۔ ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ گو ان کا تعلق مسلم گھرانے سے ہے لیکن ان کی کسی مذہب سے عملی وابستگی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ عیسایت برطانیہ کا مذہب ہے۔
پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے ساجد جاوید جب 2010ء میں پہلی بار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے تو اسی وقت سیاسی پنڈتوں کا کہنا تھا کہ یہ بہت تیزی سے اوپر جائیں گے۔
ریفرینڈم کے بعد جب ڈیوڈ کیمرون نے وزارت اعظمیٰ سے استعفیٰ دیا تھا تو ساجد جاوید نے پینشن کے وزیر اسٹیفن کریب کے ساتھ مل کر ٹوری پارٹی کی قیادت کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں جب ساجد جاوید نے ٹریسا مے کا سورج چڑھتے دیکھا تووہ اس مقابلہ سے الگ ہوگئے اور ٹریسا مے کا بھر پور ساتھ دیا، جس کا ثمر انہیں اب وزیرِ داخلہ کے عہدے کی صورت میں ملا ہے۔
وزیر اعظم ٹریسا مے اس وقت امیگریشن کے جس مسئلہ میں گرفتار ہیں اورسابق وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے ان پر کیریبین سے نقل وطن کر کے برطانیہ آنے والوں کی نسل کے ساتھ ظالمانہ سلوک اور انہیں جبری برطانیہ سے ملک بدرکرنے کا جو سنگین الزام ہے،کہا جاتا ہے کہ ٹریسا مے نے اس مسئلہ میں اپنی ڈھال بنانے کے لئے ساجد جاوید کو وزیرِ داخلہ مقرر کیا ہے لیکن یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کب تک وہ ڈھال بنے رہیں گے؟
The post برطانیہ کے پہلے پاکستانی نژاد وزیر ِداخلہ۔ کامیابی کا راز؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2FBOjbs


No comments:
Post a Comment