سرزمین ہزارہ کی تقدیر بدلنے جا رہی تھی کیونکہ چودہ مارچ 2018ء کو تھیلیسیمیا کے حوالے سے ایبٹ آباد میں سیمینارہونے جا رہا تھا۔ کراچی سے طارق تنولی سے لے کر کاشف اقبال تھیلیسیمیا سینٹرکے روح رواں محمد اقبال پہنچ چکے تھے۔ مجھے لگتا ہے آسمان ان بچوں کی حالت زار دیکھ کر رو سا دیا ہوگا جب ہی ایسی بارش شروع ہوئی کہ جو ثابت قدم نہ ہوں گے ان کے قدم کہیں دور ہی جم گئے ہوں گے۔ مگر جن میں کچھ کرنے کا عزم اور حوصلہ تھا وہ ہارون تنولی کی طرح جلال بابا آڈیٹوریم میں برستی بارش میں بھی موجود تھے۔
ایبٹ آباد میں تھیلیسیمیا کی آگاہی کا سہرا ہم طارق تنولی کے سر نہ رکھیں تو سراسر غلط ہوگا۔ انہوں نے تقریب سے کچھ روز قبل ہی مجھ سے ایک نظم کا تقاضا کیا جو درج ذیل ہے:
جیون
جن کو دنیا نہ ملی
من کی کلی نہ کھلی
زمانہ سنگدل رہا
پتھر کی سل رہا
اک فریاد سنے کوئی
دورصیادسنے کوئی
ان کی بات سنے کوئی
عجب مات سنے کوئی
اک جہنم پاتے ہیں
ہم جوجنم پاتے ہیں
اپنی آنکھ نم پاتے ہیں
خدا صنم پاتے ہیں
کچھ توسوچو خدارا
قصور کیا ہے ہمارا
ہم پہ مشکل یہ بیتی
جیون بازی نہ جیتی
سوچو آنے والوں کا
دکھ درد پانے والوں کا
آگاہی پھیلاؤ
سب کے علم میں لاؤ
کلام: راجہ کاشف جنجوعہ
اس تقریب میں طارق تنولی کی خدمات کو سرہاتے ہوئے سیاہ عبایا میں ملبوس ارم اور ان کے ساتھ ثانیہ نے شیلڈ دی اور وہ اس کے حقدار بھی تھے اور کیوں نہ ہوتے ان کے لئے تو دن رات برابر ہیں۔ وہ اپنے کاروبار پر بھی کم توجہ دیتے ہیں۔ سارہ دن کسی بھی فون کال پر تھیلیسیما کے بچوں کیلئے خون کی دستیابی کو ممکن بنانے میں جتے رہتے ہیں۔
وہ باپ جس کے بچے کو خون کی بوتل لگنا ہو وہ خون کیلئے ہر دس سے پندرہ دن یونیورسٹی اور کالج کے دروازے پر ہاتھ جوڑے نوجوانوں سے ایک خون کی بوتل کیلئے سوال کرتا نظر آتا ہوگا۔ اسے کاشف اقبال تھیلیسیمیا سینٹر میں ایسی کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے یہ کون سوچ سکتا ہوگا۔ مگر ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہر بچے بچی کے دکھ درد کو یہ ادارہ اور اس سے منسلک افراد اپنے سینے میں اتار دیتے ہیں۔ ایسی مثالیں آپ کو اس ادارے کے حوالے سے با آسانی مل جاتی ہیں۔
تھیلیسیمیا کا شکار بے شمار بچوں میں سے ایک بچی ایمان کواس کے والد بچپن میں ہی کراچی لے آئے تھے کیونکہ ہزارہ کی سرزمین پر ابھی آگاہی کا سورج طلوع ہونے میں وقت تھا۔ جناح ہسپتال میں پندرہ سالہ بچی ایمان لاغر حالت میں اپنے والد کے ساتھ موجود تھی۔ ایسے میں طارق تنولی نے دیکھتے ہی مرض کو پہچان لیا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑایمان کو سیدھا اپنی گاڑی میں کاشف اقبال تھیلیسیما سینٹر لے آئے۔ جہاں ایمان کی زندگی میں رونق لوٹ آئی۔ اب اس کی دوا اور دیگر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جاتے ہیں۔
میں ایسے کتنے واقعات کا شاہد ہو چلا ہوں کیونکہ ان کے گروپ میں شامل ہونے کے بعد روز ہی کچھ نہ کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ مگر لکھنے کیلئے تو پوری تحقیق ضروری تھی اور نہ جانے کب سے طارق مجھ سے کہہ رہے تھے ایک مرتبہ ضرور تشریف لائیں۔ آخر کار بدھ دو مئی کو طارق تنولی کے ہمراہ کاشف اقبال تھیلیسیمیا سینٹر میں بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزرا۔ جہاں طارق تنولی نے بچوں میں بسکٹ اور چاکلیٹ تقسیم کرتے ہوئے کچھ میرے ہاتھوں میں بھی تھما دیں کہ بچوں کو دیں۔ عجب سی کیفیت تھی، ناقابل بیان۔
کاشف اقبال تھیلیسیمیا سینٹر میں پہلا قدم رکھتے ہی ایسا لگا کہ وقت تھم سا گیا ہو، سانسیں بے چین سی ہوں، زبان سوکھ گئی ہو اور الفاظ منجمد ہو گئے ہوں۔ لیکن جدید سہولیات سے لیس ادارہ جس کا تصور بھی محال ہوگا مجھے کھلی آنکھوں سے دیکھنے کو ملا۔ کیا یہ پاکستان کا کوئی ادارہ تھا یا یورپ امریکہ کا جدید ادارہ، گویا ذہن کوئی فرق کرنے سے قاصر رہا۔ آفرین ہے کاشف اقبال تھیلیسیمیا سینٹر پر گویا اپنی مثال آپ ہے۔ ہر وہ شخص قابل تعریف ہے جس نے کسی بھی صورت میں اس ادارے کو بنانے اور چلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
جب کوئی ادارہ اپنی ساکھ قائم کر لیتا ہے تو دنیا خود ہی اس کی طرف چلی آتی ہے۔ حال ہی میں چار سو سے زیادہ خون کی بوتل کا عطیہ ایک نجی کمپنی کے چیئرمین مہتاب الدین چاولہ اور ان کے ادارے کے عملے اور مزدوں کی جانب سے فراہم کرنا اس ادارے پر اعتماد کی روشن مثال ہے۔
کاشف اقبال تھیلیسیمیا سینٹرسے اپنا علاج کروانے والی بچی ایمان کا حال ہی میں ہزارہ کا سفر ہوا تو اسے خون کی ضرورت پڑی اور کس مشکل سے خون ملا، یہ الگ داستان ہے۔ یہ بچی ایبٹ آباد کے ایک ادارے میں صبح سات بچے سے دوپہر دو بجے تک بھوکی پیاسی بیٹھی رہی اور اسے ایک گلاس پانی تک کا نہ پوچھا گیا اور پھر ہارون تنولی نے یہ صورتحال معلوم ہوتے ہی ضیاء کو کہا اور انہوں نے ایک آواز پر خون فراہم کر دیا۔ ایبٹ آباد میں بھی تھیلیسیمیا سینٹرکا قیام بے حد ضروری ہے۔
ایمان کی حالت دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا پرتھیلیسیما کے گروپ میں دوبچوں کی قبروں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے وسیم نے لکھا ”یہ میرے بچوں کی قبریں ہیں جو اس موذی مرض کی وجہ سے اب اس مقام پہ آگئے”۔
کیا یہ قبریں ہم سے تقاضا نہیں کرتیں کہ بے حسی ترک کر کے کچھ کیا جائے۔ افسوس تو یہ ہے کہ کہیں کچھ کیا جا رہا ہے تو اسے بھی کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ ہیماٹولوجسٹ ڈاکٹر عمار کو ہری پور کے ہسپتال میں میں کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ حکومت وقت توجہ دے۔ جبکہ لاہور میں آصف حمید بٹ اور ان کی اہلیہ عاصمہ تسلی بخش کام کر رہی ہیں مگر اس میں مزید کچھ کرنے کی گنجائش باقی ہے۔ رہے ڈاکٹر شفیق تو ان کا ذکر آخر میں یوں کیا کہ وہ جو کام کر رہے ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔
عرض کرنا چاہوں گا کہ اپنے دامن کو پھیلائیں اور ہزارہ کی سرزمین پر ایبٹ آباد میں بھی ایسا ہی سینٹر قائم کر دیں ۔ ایک سیمینار کے بعد یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیئے۔ سوچئے گا ضرور۔
The post ہزارہ میں تھیلیسیمیا سے آگاہی appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2HS5cVG
No comments:
Post a Comment