Friday, May 4, 2018

میں نے سکوتِ شب کو ایک سلسلہء سخن دیا

یہ بیسویں صدی کی آخری دھائی کا کہوٹہ ہے۔ لنگ ندی کے اس پار ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے چھ سات کلومیٹر پر پھیلے جنگل کو پیرس بنا دیا ہے۔ ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عالی دماغ دن رات سائنسی تجربات میں مصروف ہیں۔

بموں اور میزائلوں کے کامیاب تجربوں سے کہوٹہ عالمگیر شہرت حاصل کر چکا ہے۔ لیکن لنگ ندی کے ادھر کا منظر یکسر مختلف ہے۔ یہاں اب بھی بانسری کی دھن پر موکل دھمال ڈال رہے ہیں، ڈھول کی تھاپ پر برہنہ پا ڈالیں رقص کر رہی ہیں ، کتوں ککڑوں اور بٹیروں کا ٹکراؤ ہو رہا ہے، تیتروں کی آوازیں لگ رہی ہیں ،جگہ جگہ والی بال کے تماش بینوں کا شور اٹھ رہا ہے، رات دیر گئے تک گھڑے ستار کی ماتمی لے پر پوٹھوہاری شعر خوانی کی محفلیں جمی ہوئی ہیں۔

Untitled

اسی دوران ایک مسیحا بغل میں سخن کا صحیفہ دبائے شہر میں داخل ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے منظر بدلنے لگتا ہے۔ علمی اور فکری تہذیب کی بنیاد پڑتی ہے۔ شعور کی بیداری عبادت ٹھہرتی ہے۔ لفظ کی حرمت پر بات ہونے لگتی ہے۔ انجیلِ آگہی کے ورق کھلتے ہیں۔ سنتِ سقراط کا احیاء ہوتا ہے۔ حقیقت اشیاء کے ادراک کی دعائیں ہونے لگتی ہیں۔ شہر کے ہوٹلوں میں وجود اور جوہر، محنت و سرمایہ اور زمان و مکاں پر مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ کچھ شاعر مل بیٹھتے ہیں۔ ادبی نشستوں اور شاموں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو سخن کے مسیحا جاوید احمد کے جشن تک آ پہنچتا ہے جو 6 اپریل کو کہوٹہ میونسپل لائبریری میں منعقد ہوا۔ جس کی نظامت حسن ظہیر راجہ، مہمان خصوصی شاہد زمان اور صدرات عباس تابش نے کی۔

30516176_1785949641468833_1633429427637452800_n

اس موقع پر جاوید احمد کے مقامی دوستوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سنگلاخ لسانی پٹی میں دل کے لہجے میں گفتگو کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے سخن کے اتنےغنچے خوشبو کے سفر پر روانہ کر دیے ہیں کہ آنے والے کل جنت نظیر کشمیر کی چوکھٹ کہوٹہ کی فضائیں بارود کی باس کے بجائے شاعری سےمشکبار ہوں گی۔ شیراز حیدر نے کہا کہ جاوید احمد نے شجاعت، بہادری، دلیری اور عسکری روایات کے حامل کہوٹہ کو شعری اور ادبی پہچان عطا کی۔

عبدالقادر تاباں نے کہا کی جاوید احمد باکمال ہیں اور ہمیشہ جاوداں رہیں گے۔ مہمان ِ خصوصی شاہد زمان نے کہا کہ ادب پورا آدمی مانگتا ہے۔ جاوید احمد بننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ صدرِ محفل عباس تابش نے کہا کہ کہوٹہ پاکستان کا محافظ ہے اور ادبی حلقوں میں کہوٹہ کی پہچان جاوید احمد ہے۔ انہوں نے کہا نوجوانوں کو فیس بک کے بجائے ادبی رسائل میں چھپنا چاہئیے۔

30222099_1797973186908843_1976490657664991232_n

صاحبِ جشن جاوید احمد نے سب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ شاعروں اور پیغمبروں کو اس کے علاقے نے تسلیم نہیں کیا لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کرنل (ر) ظفر، میجر حفیظ، ڈاکٹر محمد عارف قریشی، سیاسی اور سماجی شخصیت راجہ وحید احمد خان، چیئرمین ٹی ایم اے کہوٹہ راجہ ظہور اکبر کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی کی جانب سے صاحبِ جشن کو اعترافِ فن ایوارڈ دیا گیا۔ تقریب کے بعد مشاعرہ ہوا۔ منتخب شعراء کا ایک ایک شعر قارئین کے ذوق کی نذر ہے

اس نے ماں باپ کا چپ چاپ کہا مان لیا
میں تو سمجھا تھا کہ پنکھے سے لٹک جائے گی

حسن ظہیر راجہ

زمین گھوم کے سورج کی سمت مڑنے لگی
سنائی دینے لگا ہے پرندگان کا شور

ذیشان ساجد

کہا کہ میرا مسئلہ ہے کہ آپ اچھے لگنے لگے ہیں
کہنے لگے آپ کا مسئلہ آپ کا مسئلہ ہے

احسن سلیمان

دریا کے اس طرف جو تو بیٹھا دکھائی دے
پھر کیا کسی کو بیچ میں دریا دکھائی دے

عثمان لیاقت

بیج پھوٹا کہ تہہ خاک بغاوت پھوٹی
ایک ہی جڑ سے تنے دو نکل آئے ہائے

صداقت طاہر

وار خالی بھی چلا جائے تو کیا ہوتا ہے
تیغ اٹھانے کا بھی اپنا ہی مزہ ہوتا ہے

شاہد نواز

یہاں کوئی مسلسل دیکھنے والا نہیں تجھ کو
ہمارے ساتھ چل ہم ہیں مسلسل دیکھنے والے

فقیہہ حیدر

کوفے کے بعد ایسی ہوا دل میں چل پڑی
ہم نے کسی بھی خط میں بھروسہ نہیں کیا

نوید ملک

مجھ سے دریا صفت انسان کو صحرا کر کے
عشق نے بوند نہ بخشی مجھے پیاسا کر کے

ڈاکٹر ماجد محمود

جسم پر اس کے بوسے بنتے گئے
اپنے ہونٹوں سے دیکھتے ہوئے لوگ

وقاص عزیز

دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری
دیوار سے در بنتا ہے دستک سے ہماری

عقیل شاہ

جسے مزار کی زینت بنا دیا گیا ہے
میں اس چراغ کو سورج بنانا چاہتا تھا

عمران عامی

رنج کے واسطے دنیا میں اتارے ہوئے لوگ
ہم بھی کیا لوگ ہیں، دو نین کے مارے ہوئے لوگ

پیر عتیق چشتی

ٹھیک ہے جرات انکار نہیں ہے لیکن
ہم تیری بات پہ پہلو بدل تو سکتے ہیں

حفیظ اللہ بادل

مجھے خبر ہے جو ہوتی ہیں سازشیں گھر میں
میں سویا ہوتا ہوں بستر پہ مر نہیں جاتا

فیصل ساگر

مجھ پہ تنقید کرنے والے سن
میں تری بے بسی سمجھتا ہوں

شہاب عالم قریشی

یہ راز کھلا گھوم کے خیبر تا کراچی
چولوں کا کوئی خاص علاقہ نہیں ہوتا

ڈاکٹر عزیز فیصل

‏حجرہء چشم تو اوروں کے لیے بند کیا
آپ تو مالک و مختار ہیں! آئیں، جائیں

میجر شہزاد نیئر

تُو محبت کے نشانے پہ نہ آجائے کہیں
تُو محبت کو بناتا ہے نشانہ اپنا

عبداالقادر تاباں

خواب کو جانا ہے اک دن خواب کی تعبیر تک
وادیء کشمیر سے آزادی کشمیر تک

رانا سعید دوشی

کوئی آواز اپنی طاق میں رکھ
یہاں شورِ سگاں ہونے سے پہلے

شاہد زمان

میں نے سکوتِ شب کو ایک سلسلہء سخن دیا
خوائشِ بے لباس کو ضبط کا پیرہن دیا

جاوید احمد

کہاں کہاں سے چھڑاؤ گے اپنی جان میاں
کہ میرا ایک تعلق نہیں جناب کے ساتھ

عباس تابش

The post میں نے سکوتِ شب کو ایک سلسلہء سخن دیا appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2rjMT0f

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny