قائِداعظم محمد علی جناح کی آزادی کے فوراً بعد کی گئی ایک تقریر آج بہت یاد آ رہی ہے، چند جملے خاص طور پر۔ ملاحظہ فرمائیں۔
“اب جبکہ ہم نے پاکستان حاصل کر لیا ہے تو مسلمان مسجدوں میں جائیں، ہندو مندروں میں جائیں. بس سب کے پیش نظر یہ رہے کہ قانون کی نظر میں اب آپ سب پاکستانی اور برابر کے شہری ہیں۔”
بد قسمتی سے قائد کے جانے کے بعد حالات ان کی منشاء کے مطابق نہ رہے۔ وہی حضرات جو قائد اعظم کو کافرِ اعظم کہتے تھے اور قیامِ پاکستان کے مخالف تھے، بتدریج پکستان کے فکری رہنما بنتے چلے گئے۔
آج کا پاکستان خادم حسین رضوی کا پاکستان ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا پاکستان ہے۔
فرید احمد پراچہ کا پاکستان ہے۔
احمد لدھیانوی کا پاکستان ہے۔
نہیں ہے تو اقلیتوں کا پاکستان نہی ہے۔
جو کام لاہور میں سر گنگا رام کے مجسمے کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈالنے اور بعد ازاں اسے مسمار کرنے سے شروع ہوا، وہ اب احمدیوں کی عبادت گاہوں پر قبضے، عیسائیوں کو ان کے گھروں اور بھٹوں میں زندہ جلانے، سندھ میں ہندووں کی بیٹیاں ہتھیانے سے ہوتا ہوا اب بلوچستان میں ہزارہ اقلیتی فرقے کے مرد وزن کو ذبح کرنے تک جا پہنچا ہے۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ملک کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا کام زور و شور سے شروع ہوا۔ پہلے پہل عمارتوں سڑکوں اور پارکوں کو مسلمان کیا گیا۔ اس کے بعد لاہور ریلوے اسٹیشن، جی پی او، عدالتی عمارتوں اور نئی نویلی پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی کلمہ پڑھوایا گیا۔ شہروں کے بڑے بڑے چوک تو تقریباً سارے ہی مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
کراچی کا رام باغ، آرام باغ ہو گیا تو منٹگمری اور لائل پور جیسے غیر اسلامی شہر کیوں پیچھے رہتے۔ فوراً ساہیوال اور فیصل آباد ہوگئے۔ اسلام آباد البتہ پیدائشی مسلمان ہے۔
لائل پور میں موجود خالصہ کالج دائرہ اسلام میں داخل ہو کر اسلامیہ کالج ہوا تو تلمبہ عبدالحکیم میں واقع سکھوں کا گردوارہ کیوں پیچھے رہتا۔ اس گردوارے میں لڑکوں کا اسلامیہ کالج قائم کر دیا گیا اور اس گردوارے کی مرکزی عمارت کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کے لئے ہمارے شاہین اور غوری میزائل کے ماڈل اس کی مرکزی گزر گاہ پر ایستادہ ہیں۔ جہاں کبھی سکھ حضرات گرنتھ صاحب کا پاٹھ کرتے تھے، اب عزت مآب پرنسپل صاحب اپنی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔
بھکر کے قریب سرائے کرشنا اب سرائے مہاجر بن چکی ہے۔ یہ تو چھوٹی موٹی مثالیں تھیں جو یاد رہ گئیں، پورے ملک میں اسلام کا بول بالا ہے۔
ایسے میں ڈاکٹر عبدالسلام کس کھیت کی مولی ہیں ان کی تھیوریٹیکل طبیعات میں کچھ خدمات ہیں تو ہمیں کیا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ وہ احمدی ہیں اور ان سے نفرت کرنے کے لئے یہی بات کافی نہیں؟
کچھ دن پہلے پاکستانی سٹیفن ہاکنگ، مولانا خادم حسین رضوی مدظلہ تعالی ٰاور ان کے ہمدم دیرینہ مولانا افضل قادری صاحب نے حکومت سے یہ پُر زور مطالبہ کیا تھا کہ کراچی میں کچھ جامعات سے ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب چیئرز کو ختم کر دیا جائے۔
اسی مطالبے کو لے کر اس نیک کام کا بیڑا مردِ مجاہد جناب کیپٹن صفدر صاحب نے اٹھا لیا اور قائداعظم یونیورسٹی میں موجود سینٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے تبدیل کر کے منصور الخزینی کے نام پر رکھنے کی قرار داد منظور کروا لی۔
بہتر ہوتا ماضی کی دھول میں دفن پرانی ہڈیوں سے نام ڈھونڈھنے کی بجائے حاضر وقت کے پاکستانی سٹیفن ہاگنگ جناب خادم حسین رضوی سے ہی مذکورہ سنٹر کو منسوب کر دیا جائے۔
کچھ کوڑھ مغز یہ اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ مولانا کی طبیعات کے میدان میں کیا خدمات ہیں تو ان معترضین کو ایک بار خاص طور پر مولانا کی ایجاد کردہ گالیاں سنا کر ان کی طبیعت صاف کی جا سکتی ہے۔ اور اس میں تو کسی کو شک نہ ہونا چاہئیے کہ مولانا خادم، سٹیفن ہاکنگ سے بڑے سائینس دان ہیں۔ کیونکہ ہاکنگ صاحب اتنا عرصہ تحقیق و جستجو کے بعد بھی پین دی سری جیسی دریافت نہی کر سکے تھے۔
The post ڈاکٹر عبدالسلام ہمیشہ قابل احترام ہی رہیں گے appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2ro0svC
No comments:
Post a Comment