Friday, August 3, 2018

پاکستان کی بقاء کی جنگ

سرزمین پاکستان جس مشکل دور سے گزر رہی ہے، ان حالات میں پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑنے کی ضرورت تھی۔ اہل حکم کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہئیے تھا۔ سیاستدانوں کو ذات پات اور ذاتی مفادات کی بجائے پاکستان کی جنگ لڑنے کی ضرورت تھی۔

مگر یہاں اقتدار کے حصول کی لڑائی بغیر کسی اصول قوائد وضوابط کے لڑی جا رہی ہے۔

نظام سلطنت کے ساتھ ساتھ نظام انتخاب نے بھی قوم کو بری طرح مایوس کیا۔

ہر سیاستدان اقتدار تک پہنچنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ الیکشن میں بھی محب وطن پاکستانیوں کا خون شامل ہو چکا ہے۔ دورانِ الیکشن یا الیکشن کے بعد مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے مضافات میں مخالف پارٹیوں کے لوگوں کے اندوہ ناک قتل اور پھر جگہ جگہ سے ری کائونٹنگ کے دوران مختلف ریزلٹ کا آنا اور بیلٹ پیپرز کا کچرے کے ڈھیروں سے ملنا اس نظام کی کلی کھول رہا ہے۔

جتنی صاف شفاف پولنگ ہوئی، اتنے ہی ری کائونٹنگ کے نام پر آنے والے نتائج پری پلین دھاندلی کو واضح کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ اپوزیشن کا کردار یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ ہمیں صرف اقتدار چاہئیے، نظام جیسا بھی ہے چلے گا۔ اگر اقتدار ہمیں ملتا ہے تو سب کچھ منظور، بصورت دیگر ہم دھاندلی کو قبول نہیں کریں گے۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب ہر بار ہر الیکشن میں دھاندلی کا رونا رویا جاتا پے۔ ہر بار کسی نے کسی کو دھاندلی کی شکایت ہوتی ہے۔ اداروں پر خاص کر فوج پر دھاندلی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے عدلیہ یا فوج مداخلت کرتی ہے اور نتائج اپنی مرضی کے حاصل کیے جاتے ہیں تو پھر ان سیاستدانوں کی نالائقی ہے کہ وہ سب کچھ دیکھ کر بھی اس کرپٹ انتخابی نظام کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کا ایک ہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ خود سیاستدان کرپٹ ہیں نااہل ہیں جو خود چاہتے ہیں کہ نظام انتخاب یہی برقرار رہے تاکہ ہماری نااہلی اور کرپشن کا پردہ فاش نہ ہو اور ہم اقتدار سے بھی چمٹے رہیں۔

آج جس طرح اکثریتی پارٹی کی حکومت سازی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ یہ جمہوری رویہ کم اور ذاتی لڑائی زیادہ لگتی ہے۔ ریاستوں کی سربراہی کے خواب دیکھنے والے اگر ریاست سے زیادہ اپنے مفادات کے لئے فکر مند نظر آئیں تو جان لینا چاہئیے کہ وہ ریاست کے وفادار نہیں۔

یہ ہے وہ نظام جہاں ایک طرف جہاز ترین اپنا جہاز لے کر ایک ایک رکن اٹھا اٹھا کر لا رہا ہے تو دوسری جانب خاموشی کے ساتھ آصف زرداری اپنی صفوں کو منظم کر کے خود کو واقعی میں امام سیاست منوانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

جب کہ نواز لیگ کی ڈوبی ہوئی سیاسی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں نے اپنی دوسرے درجے کی قیادت کو آگے لگا رکھا ہے۔

اپوزیشن کے نو تشکیل شدہ اتحاد کی قیادت مکمل طور پر مسترد شدہ قیادتیں، مولانا فضل الرحمٰن صاحب ،اسفند یار ولی، سراج الحق صاحب اور دیگر جو فرما رہے ہیں۔ کاش حکومت مخالف اپوزیشن کی بجائے نظام بدلو اتحاد کی قیادت فرماتے اور اس فرسودہ نظام انتخاب کو بدلنے کی بات کرتے تو شاید قوم ان کو خوش آمدید بھی کہتی۔ مگر یہ ایک ایک سیٹ کے حصول کے لئے حکومت سازی کے عمل میں روڑے اٹکانے والوں کو شاید اندازہ نہیں کہ یہ قوم اب اس نظام سے بیزار ہو چکی ہے۔ اب عوام کسی کے ذاتی مقاصد کے لئے بطور آلہ کار کام نہیں آئے گی۔

اب جو بھی اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھائے گا جدوجہد کرے گا اسی کی سنی جائے گی۔ بصورت دیگر ہونے والے الیکشن کی طرح کرپٹ مافیہ اور مفاد پرست اشرافیہ کو مسترد کر دیا جائے گا۔

ملکی بقاء کی جنگ کے لئے تبدیلی نظام لازم ہے اور نظام کی تبدیلی سے ہٹ کر ہونے والی ہر کوشش مسترد کر دی جائے گی۔

ستر سالوں میں چہرے بدلنے کا عمل بار بار دیکھنے کے بعد عوام اس عمل کو مزید قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جس کا ثبوت حالیہ الیکشن بھی ہیں۔

تبدیلی کی شدید خوائش کے باوجود عوام نے الیکشن میں اس دلچسپی کا مظاہرہ نہیں دکھایا جس کی امید کی جا رہی تھی۔ اسے کرپٹ نظام کے محافظوں کو ایک الارم سمجھنا چاہئیے اور نظام کی تبدیلی کے لئے سر جوڑ کر مشاورت کرنی چاہئیے۔

The post پاکستان کی بقاء کی جنگ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2ABCpRU

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny