اب یہ تماشہ ختم ہونا چاہئے کہ سیاستدان الگ اور فوجی قیادت امریکہ سے الگ بات کرے۔ ہمارے آرمی چیف کو امریکہ یا کسی اور ملک میں براہ راست بات نہیں کرنی چاہئے۔ ترکوں کی مثال ہمارے سامنے ہے، فوج وہاں اس لیے مداخلت کیا کرتی تھی کہ سیکولرازم کی حفاظت کیلئے اس کا آئینی کردار تھا، پھر وہاں رجب طیب اردگان جیسا طاقتور اور سچا لیڈر ابھرا جسکی اخلاقی ساکھ بہت تھی۔
اس نے فوج کو اس کے اصل کردار تک محدود کردیا تبھی ترکی میں ایک حقیقی جمہوریت ابھری اور وقت گزرا تو یہ ملک معاشی طور پر فروغ پذیر ہوگیا۔ اردگان اس لیے کامیاب رہے کہ اس نے ترکی کے ایک عام آدمی کی آمدن تین گنا بڑھا کر دس ہزار ڈالر سالانہ کردی۔ چین کے بعد ترکی میں ترقی کی شرح ساری دنیا سے زیادہ رہی۔ ہمیں اگر صحیح معنوں میں ترقی کرنی ہے تو اس عظیم لیڈر اور بانی پاکستان محمد علی جناح کی پیروی کے سوا ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں، کیوں کہ ان کا انتخاب جمہوریت تھا، سچی جمہوریت۔
یہ سب کچھ میں نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک کتاب’ “میں اور میرا پاکستان’ میں لکھا تھا لیکن افسوس کہ انکی حکومت کو کئی ماہ گزر جانے کے باوجود بقول ناقدین صحیح معنوں میں جمہوریت اور ناہی عام شہری کی زندگی پرسکون دکھائی دیتی ہے،نہ کوئی کچھ دکھا سکتا ہے نہ بول اور نہ ہی لکھ سکتا ہے کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط کردی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد جن کی خوشی دیدنی تھی اب وہی حضرات اپنی پسندیدہ جماعت کا دفاع بھی نہیں کر پارہے۔ اس ناکامی کی اصل وجہ نہ ڈیلیور کر پانا سے زیادہ وقت سے قبل عوام کو لاتعداد خواب دکھانا تھے جو پورے نہیں کیےگئے۔
میرے کپتان نے پہلے خیبر پختونخواہ اور پھر پاکستان میں سٹیزن پورٹل کا آغاز کرکے گویا انصاف عام آدمی کی دہلیز تک پہنچا دیا لیکن جب خاکسار نے ان دونوں پر اپنی شکایت درج کرائیں تو کئی ماہ بعد نوٹیفیکشن میں خوشخبری ملی کہ “آپ کا مسئلہ حل کردیا گیا ہے کیا آپ مطمئن ہیں؟ ” سر چکرایا کے مجھے کانوں کان خبر ہی نہ ہوئی اور مسئلہ حل بھی ہوگیا؟ دوسری طرف حقیقت تو یہ ہے کہ نیگیٹیو ردعمل کے باوجود بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ میرا اندازہ ہے کہ مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے سٹیزن پورٹل ٹیم کھوج لگارہی ہے اور اسکے لیےانہیں کافی سارا وقت درکار ہوگا، لہذا اب ہم بھی سمجھ گئے ہیں کہ بار بار ایک ہی شکایت ارسال کرکے ان کے قیمتی وقت کا ضیاع نہیں کرنا چاہئے۔
خیبر پختونخواہ میں بی آر ٹی ( بس ریپڈ ٹرانسپورٹ) منصوبہ جو پچھلی صوبائی حکومت نے شروع کیا تھا اور اس وقت کے وزیراعلی جناب پرویز خٹک نے چھ ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی مگر کئی چھ ماہ گزرگئے منصوبہ تکمیل کو پہنچا بھی کیا؟ بارش اور ہوا نے اسکے پُرخچے اُڑا دیے اور تو اور بسوں کے گیٹ بھی بس اسٹاپ پر کھڑی سواریوں کے مخالف سمت کھلنے لگے۔ خٹک صاحب! اب کہتے ہیں کہ اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ اس میں تو ٹھیکیدار کی غلطی ہے اور جو بھی کمی کوتاہیاں ہوئی اس کی سزا اُنہیں ملنی چاہئے، لیکن ان سے کوئی یہ پوچھے کہ چلو مان لیتے ہیں اس میں آپ بالکل بے قصور ہیں بلکہ دودھ کے دھلے ہیں مگر حضور والا یہ تو بتا دیں کے جو ذمہ دار ہیں انکی سرزنش کون کرے گا؟
پھر خیال آتا ہے کہ ان بے چاروں کو تو یہ بھی علم نہیں کہ حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں؟ خیر اس منصوبے میں تاخیر اور ڈیزائن میں تبدیلی کے خیبر پختونخوا حکومت کے دعوؤں کو ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے غلط قرار دے دیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے الزام لگایا تھا کہ یہ تبدیلیاں ایشین بنک نے کروائی ہیں مگر اس کے ردعمل میں انہوں نے اعلامیہ جاری کیا کہ یہ صوبائی حکومت نے خود کیں تھیں۔ اور یوں ان کا یہ جھوٹ بھی بےنقاب ہوگیا۔
میرے کپتان نے آسان اقساط پر غریبوں کو گھر دینے کا بھی وعدہ کر رکھا ہے لیکن گھر لینے کیلئے جو شرائط رکھی گئی وہ اتنی سخت ہیں کہ مستحق افراد حقیقت میں تو کیا خواب میں بھی ایسا نہیں سوچ سکتے کہ وہ اپنا گھر خرید سکیں۔ البتہ خان صاحب! غریب عوام کی دادرسی کیلئے حکومتی سطح پر گھروں کے کرایہ نامےجاری کردیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سخت سے سخت سزا دی جائے پر یہ بھی ناممکن سا لگتا ہے۔
آخر میں چلتے چلتے میرے کپتان کی نااہل اور ناتجربہ کار حکومت کیلئے مفت مگر مفید مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے کیے گئے سبھی دعووں پر قوم سے معافی مانگیں اور خان صاحب کو چاہیےکہ ایسے وزیروں، مشیروں کی سخت سرزنش اور ان سے عہدے واپس لیں جو صحیح معنوں میں کارگر ثابت نہ ہوسکے۔ ورنہ خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے کپتان کی بچی کھچی عزت بھی نااہل و ناتجربہ کار لوگوں کی وجہ سے مٹی میں مل جائے۔
The post میرے کپتان کی نااہل و ناتجربہ کار حکومت۔ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ http://bit.ly/2GkcRbk
No comments:
Post a Comment