ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں پچھلے پچیس سال سے کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کی حکومت تھی اور اس کے وزیر اعلیٰ مانک سرکار اپنی نہایت سادہ زندگی کی وجہ سے مشہور اور مقبول تھے لیکن گذشتہ ہفتے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے تریپورہ کی قبائیلی جماعت پیپلز فرنٹ کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی کو شکست دے دی۔ 59 اراکین کی اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد نے 43 نشستیں جیتی ہیں۔ کانگریس پارٹی کا یکسر صفایا نریندر مودی نے اسے نظریات کی جیت قرار دی ہے۔ یعنی ہندوتا کی کمیونزم پر فتح۔ لیکن ابھی تریپورہ میں نئی حکومت بھی نہیں بنی تھی کہ گیروے رنگ پہنے نریندر مودی کی پارٹی کے کارکنوں نے پوری ریاست میں دھشت گردی برپا کردی۔
سب سے پہلے اگر تلہ کے قصبے سب روم میں موٹر اسٹنڈ کے قریب لینن کے مجسمہ پر ایک گاڑی چڑھا کر اسے گرا دیا گیا۔ اس کے بعد اگر تلہ کے بیلونیا کے قصبہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور قبائیلی جماعت کے بپھرے ہوئے کارکنوں نے بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگاتے ہوئے لینن کا پانچ فٹ اونچا مجسمہ جو تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کی حکومت کی اکیسویں سالگرہ پر نصب کیا گیا تھا، گرا کر اسے توڑ دیا۔

نریندر مودی کی پارٹی کے رہنمائوں نے لینن کے مجسمے کی مسماری کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لینن، غیر ملکی تھے اور دھشت گرد۔ ہندوستان کی سر زمین پر ان کے مجسمے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
جس پارٹی نے بابری مسجد کو مسمار کیا ہے اس کے لئے لینن کے مجسمے کو مسمار کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ تامل ناڈو میں ڈی ایم کے کے بانی پیری یار کے مجسمے کو نیست و نابود کر دیں گے کیونکہ وہ ہندو مت اور ہندو دیوتائوں کے سخت خلاف تھے۔

لینن کے مجسموں کی مسماری کے بعد تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں پر حملوں کی لہر بھڑک اٹھی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کے جنر ل سیکرٹری سیتا رام یچوری نے بتایا ہے کہ تریپورہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی فتح کے بعد پوری ریاست میں دھشت گرد حملے شروع ہو گئے ہیں، جن میں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کے 1539 مکانات کوحملوں کا نشانہ بنایا گیاہے۔ 196 مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا اور کمیونسٹ پارٹی کے 134 دفاتر پر حملے کیے گئے۔

تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کے کارکنوں پر ان دھشت گرد حملوں کے خلاف، کلکتہ میں پارٹی کے مرکزی رہنمائوں کی قیادت میں جلوس نکالا گیا جو دھرم تلہ میں لینن کے مجسمے کے سامنے ختم ہوا۔ جلوس میں مظاہرین لینن کی تصاویر لئے ہوئے تھے۔
ہندوستان کی سب سے چھوٹی تیسری ریاست تریپورہ کے شکست خوردہ وزیرِ اعلیٰ مانک سرکار ہندوستان کے سب سے غریب وزیرِ اعلیٰ مانے جاتے تھے۔ ان کا اپنا کوئی ذاتی گھر نہیں تھا بلکہ اپنے پر دادا کے چھوٹے سے پرانے گھر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے انہیں جو تنخواہ ملتی تھی وہ کمیونسٹ پارٹی کے فنڈ میں دے دیتے تھے اور اس کے عوض انہیں پارٹی کی طرف سے دس ہزار روپے الائونس ملتا تھا۔ ان کے پاس کوئی کار نہیں تھی بلکہ سائیکل رکشے میں سفر کرتے تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما، تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی کی شکست اور اس کے بعد پوری ریاست میں لینن کے مسجسموں کو مسمار کئے جانے پر جنونی انداز سے بغلیں بجا رہے ہییں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے کمیونزم کو اسی طرح سے شکست دی ہے جس طرح ماضی میں برطانیہ کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے اور حال میں صدر ٹرمپ نی زیر کیا ہے اور اب یہ مشن ٹرمپ نے نریندر مودی کو تفویض کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں کمیونزم کا قلع قمع کر دیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان میں کمیونزم کا قلع قمع کرنے میں کامیابی ہو یا نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھارتیہ پارٹی اب ہندوستان کی انتیس ریاستوں میں سے بیس ریاستوں میں بر سر اقتدار ہے اور سیاسی جوتشیوں کی پیش گوئی ہے کہ اگلے سال کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی پورے ہندوستان پر قبضہ کرلے گی۔ اور یوں پورا ملک کٹر ہندو قوم پرستی، ہندوتا کے گیروے رنگ میں رنگ جائے گا۔
The post تریپورہ میں گیروی فتح کے بعد ہندوتا کی دھشت گردی کی لہر appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2tBujW2
No comments:
Post a Comment