Monday, April 2, 2018

ایک پرجوش نوجوان سے روائیتی بابے تک کا سفر

انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے معیشت ہر معاشرے کی تخلیق کا بنیادی جُز رہی ہے۔ تہذیبِ انسانی کے ابتدائی ادوار میں معیشت ذرعی بنیا دوں پر قائم تھی، جو اٹھارویں صدی میں صنعتی اور اکیسیویں صدی میں علمی بنیادوں پر قا‏ئم ہوئی۔‏ معیشت کے ارتقاء کے اس عمل سےلوگ سطحی طور پر تو واقف ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلوں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگیوں میں اختیار کرنے میں عموماً ناکام رہتے ہیں۔ جدید معیشت میں ترقی کرنے اورآگے بڑھنے کے تقاضے بیسویں صدی سے کافی مختلف ہیں، جن کو سمجھنا اور پروفیشنل لائف میں اختیار کرنا ہر ایک کے لیے ضروری ہیں۔ ان سطور میں دو بنیادی عناصر کی وضاحت کی گئی ہے، جو قارئین کی پیشہ ورانہ زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آج سے بیس سال پہلے جب میں انجینیرنگ یونیورسٹی سے پاس آئوٹ ہوا تو اس وقت ہم دوست اس بات سے بہت خوش تھے کہ آخر کار پڑھائی سے جان چھوٹی، اب پروفیشنل زندگی میں ٹیسٹ، پروجیکٹ اور وایوا کا کوئی جنجال نہیں ہو گا۔ گر یجویشن کے کچھ ہی عرصے بعد تقریباً تمام ہی دوستوں کو مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں میں ملازمت مل گئ اور سب نے اپنے اپنے پرفیشنل کیر‏‏‏ئر کا آغاز کر دیا۔

جاب شروع کرنے کے بعد جب بھی دوستوں کی محفل جمتی تو بابوں کی شکایات لازماً مضوعِ محفل بنتیں۔بابوں سے ہماری مراد وہ ادھیڑ عمر باس تھے جوکہ عرصہ دراز سےاپنے عہدوں پربراجمان تھے اور جن کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں ان کی جوانی کی طرح ماند پڑ چکی تھیں۔ ان میں سے اکثر نے شاید گریجویشن کے بعد کتاب اور علم سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھا تھا۔ ان بابوں کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ نوجوان انجینئیر کے پیش کردہ ہر نئے منصوبہ، خیال اور مسئلہ کے حل کو کسی نہ کسی بنیاد پر رَد کر دیا جا‏‏ئے۔ بنیادی طور پر وہ بابے تبدیلی کے عمل سے خائف تھے اور پیشہ ورانہ معمولات کو ویسے ہی چلانا چاہتے تھے جیسا کہ وہ پچھلے کئی سالوں سے چلاتے آ رہے تھے۔ اس خوف کی بنیادی وجہ ان کی آؤٹ ڈیٹڈ نالج تھی۔

بیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب جب میں اپنے ہم جماعتوں کو دیکھتا ہوں تو اس بات کا بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ان بیس سالوں میں ہمارے معاشرے نے ان متحرک اور پرجوش انسانوں کو بھی بابوں میں تبدیل کردیا ہے۔ ہمارا معاشرہ تعلیم کو ایک ایسے بیگار کے طور پر دیکھتا ہے جو کہ صرف حصول روزگار کے لیے کی جاتی ہے۔ اس لیے جیسے ہی کسی کو اپنی مطلوبہ ڈگری اور ملازمت مل جاتی ہے وہ تعلیم اور تدریس سے ایسے منہ موڑتا ہے جیسے کو‏‏‏ئی قیدی اپنے زندان سے۔ عملی زندگی شروع ہونے کے بعد ہم میں سے اکثر کتاب صرف حالتِ مجبوری میں ہی کھولتے ہیں۔ اس عمومی رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان وقت کے ساتھ ساتھ اپنی متعلقہ فیلڈ میں ہونے والی ترقی سے بے خبر ہو جاتا ہے اور اس کی سوچ اورعلم اس کی ڈگری کے وقت کی حاصل کردہ معلومات تک ہی محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ پیشہ ورانہ لاعلمی آخر کار ایک ایسے خوف کو جنم دیتی ہے جس کے تحت انسان لاشعوری طور پر ایجاد و تخلیق کے عمل کو نا پسند کرنے لگتا ہے۔

انسان کے بابا بنانے میں ایک اورعنصر کا بھی عمل دخل ہوتا ہے جس کا تعلق پروموشن سے ہے۔ دنیا کی ہر ڈگری انسان کو کسی خاص شعبہ اور فیلڈ میں مہارت عطا کرتی ہے۔ کسی بھی ڈگری کے حصول بعد یہ فرض کر لینا کہ اب ہم ہرشعبہ زندگی میں شاندار کارکردگی دکھانے کے قابل ہیں، سراسر خام خیالی ہے۔ گرچہ شعوری طور ہم اس بات کو مانتے ہیں لیکن لاشعوری طور پر اس کی نفی کرتے ہیں ، کیونکہ ہم میں سے اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم اپنے مینیجر بالکہ اس کے مینیجر کا کام بھی بغیر کسی اضافی علمی صلاحیت کے باآسانی کر سکتے ہیں۔ یہ رویہ پاکستان میں رائج غلط پروموشن پریکٹس کی وجہ سے زہر قاتل بن جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ چلن عام ہے کہ پروموشن کے وقت یا تو سینیارٹی دیکھی جاتی ہے یا امیدوار کی موجودہ کارکردگی کو پرکھا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہوتا یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان ایک ایسے عہدہ پر پروموٹ ہو جاتا ہے جس کی اس میں قابلیت نہیں ہوتی۔ مثلاً یہ ممکن ہے کہ ایک انجینئیرجو ایک کمپنی کو بطور انجینئیر جوائن کرے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک بزنس یونٹ کا سربراہ بنا دیا جائے۔ کسی بزنس یونٹ کے سربراہ کے لیے درکار قابلیت انجینئیر کی قابلیت سے کافی وسیع اور کافی مختلف ہوتی ہے، جس میں لیڈر‎شپ، سیلز، مارکیٹنگ، بزنس ڈیویلپمینٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اگر اس انجینیر نے وقت کے ساتھ کتاب و علم سے رشتہ قائم رکھا ہو تو ان مضامین میں دسترس حاصل کرنا کو‏ئی مشکل کام نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا ہو تو وہ انجینئیر اپنی محدود علمی صلاحیتوں کو وجہ سے احساس عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے اور ایک بابے کی شکل اختیارکر لیتا ہے، جو نئی آنے والی نسل کے نئے ارادوں کی ضد اپنا فرض سمجھتا ہے۔

علمی معیشت میں جہاں ایجاد و دریافت کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے وہیں ایجادات، معلومات، تکنیک اور پریکٹس کے متروک ہونے کے عمل بھی اتنی ہی تیزی آ گئی ہے۔ اس کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم اپنے دور تعلیمی میں سیکھتے ہیں وہ اب بہت تیزی سےآئوٹ ڈیٹ ہو جاتا ہے۔ علمی معیشت میں کامیابی کا بنیادی تقاضہ ہے کہ ہم تعلیم اور حصول علم کے بارے میں اپنے تصورات میں بنیادی تبدیلی لائیں جس میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ حصول علم کا عمل ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی ویسے ہی جاری رہنا چا ہئیے جیسا کہ اس کے حصول سے پہلے تھا۔

عملی زندگی میں ہمیں یہ آسانی ہوتی ہے کہ ہم اپنی تعلیم کے مضامین خود پسند کر سکتے ہیں۔ اپنی مستقبل کی ضروریات یا اپنی پسند کے مطابق کسی بھی متعلقہ مضمون کا مطلعہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہونا چاہئیے ۔ دوسری اہم تبدیلی یہ ہے کہ تعلیم کو صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اپنے آپ کو ایک بہتر انسان بنانے اور آدمی سے انسان بننے کے عمل کا بنیادی جُز مانا جائے۔

اپنی آگاہی اور آگہی کو ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش ہی جدید معاشی نظام میں کامیابی اور جاب سیکورٹی کی ضامن ہے، کیونکہ علمی معیشت میں قدر صرف اور صرف انسانی ذہن اور اس کی سوچ کی ہے۔ ایک افریقی کہاوت اس سادہ سی بات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے کہ” نہ جاننا اگر بری بات ہے تو جاننے کی خواہش نہ رکھنا اس سے بھی بدتر ہے”۔

 

The post ایک پرجوش نوجوان سے روائیتی بابے تک کا سفر appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2pWfCIx

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny