کہوٹہ کی وادی پنجاڑ سے کشمیر کی طرف نکلیں تو نگاہیں بار بار فلک بوس پلندری سے ٹکراتی ہیں۔ پرفضا پلندری ڈوگرہ راج کے خلاف مزاحمت کی علامت، تحریکِ حریت کا سرِ آغاز، آزاد کشمیر کا پہلا کیپٹل اور ضلع سندھوتی کا مرکز ہے۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کی تاریخ میں سندھوتی کبھی قابلِ ذکر نہیں رہی۔ فاہیان سے لے کر آئین سٹیفن تک کسی ٹریولر نے ادھر کا رخ نہیں کیا۔ کسی تاریخی ٹریول گائیڈ میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ فریڈرک ڈریو کی ارضیاتِ جموں کشمیر (1875) میں کشمیر کے جن تیس (30) راستوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے ایک بھی اس علاقے سے نہیں گزرتا۔ سدھنوتی پونچھ کا حصہ ضرور ہے لیکن ہیون تسانگ اور کلہن نے جس پرونوٹاس یا پونچھ کا ذکر کیا ہے وہ اب خار دار حصار میں ہے۔
پلندری کو قابلِ ذکر بنانے کا سہرا بابائے پونچھ کے سر ہے۔ وہ اس علاقے کا پہلا شعور، پہلا سکول اور پہلی سڑک تھے۔ ان کی لگائی ہوئی پنیری اب تناور درخت بن چکی ہے۔ ان میں سے ایک جاوید الحسن جاوید (سیکرٹری کونسل فار اسلامک آئیڈیالوجی۔ اے کے) ہیں جن کے شعری مجموعے ”ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کی تقریب رونمائی بزمِ فکر و سخن کے زیرِ اہتمام 21 اپریل 2018ء کو پلندری میں منعقد ہوئی۔ اگلی صبح باذوق میزبان ہمیں پلندری شہر میں ماضی کے اکلوتے نقش رانی کی باؤلی کی سیر کو لے گئے۔

میرا خیال تھا کہ بائولی کسی باغ میں ہو گی۔ ۔ ۔ لان، روشیں، راہداریاں، قطار در قطار سرو و صنوبر۔ ۔ ۔ لیکن کچھ بھی نہیں تھا۔ باؤلی شہر سے باہر حسرت و یاس کی تصویر بنی کھڑی تھی۔ سیم زدہ چھت اور در و دیوار پہ اگا سبزہ بتا رہا تھا کہ یہ دلربا جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی۔ تب سے یہ اکیلی نامراد موسموں، زمینی لرزشوں اورناروا رویوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ مدت سے اس کی منڈیروں نے پائل کی جھنکار سنی، نہ اس کی جالیوں سے جادوئی آنکھوں نے جھانکا۔ استقبالیہ دیوار جو سب سے پہلے رانی کے قدموں کی چاپ سنتی تھی، اب اس پر مقامی رانیاں کپڑے خشک کرتی ہیں۔

رانی کی بائولی سیڑھیوں سے بے نیاز ہے۔ اس کا حوض تقریباً تین فٹ گہرا ہے۔ اس کی ہشت پہلو منڈیر بتدریج کم ہوتے ہوتے چشمے تک چلی گئی ہے۔ اس کی عمارت بھی مختصر اور بے ستون ہے۔ دیواروں کی چوڑائی اڑھائی فٹ جبکہ لمبائی دس فٹ ہے۔ دو دیواری پشتوں سے اس عمارت کو مضبوط سہارا دیا گیا ہے۔ وسطی کمرے، صحن اور باہر دیوار کے ساتھ حوض بنے ہیں۔ یہ اہتمام پینے، نہانے اور جانوروں کے لیے کیا گیا ہے۔

رانی کی بائولی اپنی وضع قطع، دھج اور چھب میں یکتا ہے۔ کشمیر کی یہ رانی سمارٹنس میں ہند و پاک میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ سرمئی چٹانی سلوں کی دل آویز تراش اور تعمیر نے اسے لافانی بنا دیا ہے۔ دہلیز سے درو بام تک یہی پتھر ہے۔ کہیں کوئی مرمر کا ٹکڑا نہیں لگا ہوا۔ چلمن کے کنڈے بھی پتھر کے بنے ہوئے ہیں۔ محرابی دروازوں، نفیس سنگی جالیوں اور خوشمنا آتش دان کی ہر سل دھڑک رہی ہے۔

بائولی کے کسی پتھر پر کوئی تحریر، ہندسہ یا نشان نہیں ہے جس سے اس کے عہد وغیرہ کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مقامی پروفیسر مسعود احمد خان کے مطابق بلاس پور کی رانی سفر میں بیمار ہو گئی تھی۔ اس چشمے کا پانی پینے سے صحت یاب ہوئی اور اس نے مسافروں کے لیے یہ جگہ تعمیر کرائی۔
عالمی شہرت یافتہ ٹریول رائٹر سلمان رشید نے اپنے آرٹیکل ” دی رانیز بائولی ان کشمیر” میں لکھا ہے کہ عام خیال یہ ہے کہ یہ ہری سنگھ عہد کی تعمیر ہے۔ جب کہ یہ تعمیر اتنی نئی نہیں ہے۔ بلکہ یہ رنبیر سنگھ یا پرتاب سنگھ (1857 تا 1925 ) نے بنوائی ہو گی۔
قیاس یہی ہے کہ یہ بائولی ”جاگیر دور” کی یادگار ہے۔ جب راجہ گلاب سنگھ کی جاگیر راوی سے سندھ تک پھیلی تواعلی ریاستی اہلکاروں کے سفری پڑاؤ کے لیے پونچھ ہاؤسوں اور شاہی بائولیوں کی ضرورت پڑی۔

اب اس بائولی میں پرائمری سکول چل رہا ہے۔ بچوں کو پانی کے بجائے علم کا امرت پلایا جاتا ہے۔ پانی کا سسٹم بائولی کے باہر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں نیا حوض اور ٹینکی بنی ہوئی ہے۔ لیکن حال، ماضی سے شرمسار ہے۔
بائولی کی تعمیر میں جیومیٹری کی مختلف اشکال کو فنکارانہ مہارت سے ابھارا گیا ہے۔ دائرہ، مثلث، مربع، مستطیل، مثمن وغیرہ۔ بائولی اسکول کی استانیاں معصوموں کو جیومیٹری سمجھانے میں لاکھ سہولت محسوس کرتی ہوں گی۔

پلندری کے پتھروں کی طرح اس کی مٹی بھی زرتاب ہے۔ عبدالعلیم صدیقی نے پلندری میں سخن کی جو پنیری بکھیری تھی وہ گل و لالہ کی صورت جلوہ گر ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک شاعر موجود ہے۔ سال پہلے سدھنوتی فیسٹیول کے موقع پر اس باؤلی کے چھت پر ڈاکٹر ماجد محمود کی زیرِ صدارت مشاعرہ ہوا۔
سورج ذرا بلند ہوا تو بائولی کے باہر رونق لگ گئی۔ اطراف کی خواتین کپڑے دھونے اور بچے نہلانے پہنچ گئیں۔ سکول اتوار کے باعث نہیں کھل سکا تھا۔ اس لیے دوست دو بند کمروں کی جھریوں سے جھانک کر اپنے تجسس کی تسکین کر رہے تھے۔

ہمارے ساتھ کراچی کے سینئر سخنور سید معراج جامی بھی تھے۔ میرا دھیان ان سے ہوتا ہوا اردو غزل کی پہلی معتبر نسائی آواز مہ لقا بائی چندا حیدرآبادی سے جا ٹکرایا۔ حیدرآباد دکن کی کئی تعمیرات ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ ان میں ایک تین منزلہ چوکونی کنواں بھی ہے جو”مہ لقا بائی چندا کی بائولی ” کے نام سے مشہور ہے۔
ایک مہربان نے پوچھا کہ کیا رانیاں اکیلے سفر کرتی تھیں؟ ساتھ راجے مہاراجے نہیں ہوتے تھے؟ میں نے عرض کی ان کا ذکر نہ چھیڑا جائے تو بہتر ہے۔ پلندری کے دم سردار ایک زمانہ ڈوگروں اور سکھوں سے برسرِ پیکار رہے ہیں۔ یہ ان کی اعلی ظرفی ہے کہ انہوں نے ستم رانیوں کے دور کے اس نقش کو نہیں چھیڑا۔
پلندری کی انگوٹھی کا یہ نایاب نگینہ دکھانے کے بعد ہمارے میزبان ہمیں ہمالیہ کے ایک دلکش کنگرے ناگیشور کی پتھریلی، پر پیچ اور پر خطربلندیوں کی طرف لے گئے۔ جہاں مختلف مقامات سے پلندری کا پر فریب نظارہ بے خود کر دیتا ہے۔ لیکن اس کا ذکر پھر کبھی ہو گا۔ ادھوری نظمیں ہوں یا سفر نامے، کسک رہ جاتی ہے اور کسک کی کانگڑی دل کو گداز رکھتی ہے۔
The post رانی کی باؤلی ۔ پلندری appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2jz2XIc
No comments:
Post a Comment