ممکنہ طور پر وفاقی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ پی ٹی آئی پنجاب میں بھی حکومت بنا لے گی۔ مسلم لیگ ن سینٹ الیکشن کی طرح ہاتھ ملتی رہ جائے گی۔ وہ ہر ٹاک شو اور پریس کانفرنس میں یہی راگ الاپتی رہے گی کہ ہم پنجاب میں اکثریت میں تھے مگر ہمیں حکومت سازی نہیں کرنے دی گئی. بلوچستان میں ہماری حکومت ختم کی گئی اور سینٹ میں اکثریتی جماعت ہوتے ہوئے بھی چیئرمین سینٹ نہیں بننے دیا گیا۔ تمام سروے ہماری یقینی جیت کا بتا چکے تھے مگر ہمارے رہنمائوں کی وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں۔ جنوبی پنجاب سے صفایا کردیا گیا. الیکشن میں دو تہائی اکثریت سے جیت متوقع تھی۔شہباز شریف کا دن رات ایک کرنا بے کار گیا۔ نواز شریف جیل میں موت کی منہ میں چلے گئے اور مریم نواز، کیپٹن صفدر بھی بی کلاس کے قیدیوں کی طرح قید کاٹ رہے ہیں۔ 35 سالوں سے آبائی نشستوں سے نہ ہارنے والے ہکے بکے رہ گئے ہیں۔ باقی پارٹی رہنماء دوبارہ گنتی کی چکروں میں مصروف عمل ہیں۔
غرض مسلم لیگ ن الجھنوں میں پھنس چکی ہے۔ پارٹی میں قیادت کا فقدان دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ پارٹی تتر بتر ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ میڈیا پر خاموش پابندی لگ چکی ہے مگر کوئی آہ تک بھی نہیں کر پا رہا۔ دوسری جانب نون لیگ کے ساتھ اتنا کچھ ہوتا ہر پارٹی رہنما دیکھ رہا ہے مگر کمال کی بات ہے کوئی رہنما پاگل نہیں ہوا، کوئی رہنما پھٹا نہیں۔ کون ہے اس سب کے پیچھے؟ کون سی خفیہ طاقت ہے؟ کسی کی زبان سے واضح نام نہیں نکل رہا۔ کوئی محکمہ زراعت کہہ کر پکارتا ہے تو کوئی خلائی مخلوق کہتا پھرتا ہے مگر کھل کر نام لینے کی جرات کسی بھی پارٹی رہنما نے نہیں کی۔ یہاں تک رانا ثنا اللہ اور پرویز رشید جیسے پرانے وفادار رہنما بھی سب جانتے بھوجتے بھی لب کشائی نہیں کر پا رہے۔
شاید مسلم لیگ ن اس سے زیادہ برے حالات کی توقعات لگائی بیٹھی ہے جو ابھی تک نہ اس میں ججز بحالی تحریک والا جوش پیدا ہو سکا اور نہ ہی 1999 کی طرح مارشل لاء کے خوف کو خاطر میں نہ لانے والے اقدامات اٹھانے کی طاقت پیدا ہو سکی۔ اے پی سی میں مسکراہٹوں کا تبادلہ ایسے کیا جا رہا ہے جیسے ابھی وہ سب کچھ ہونا باقی ہے۔ آخر کس دن کا ن لیگ انتظار کر رہی ہے اور کیا پلان ن لیگ کی موجودہ قیادت کر رہی ہے کیوں کہ الیکشن میں شکست کے بعد حلف نہ اٹھانے والا اقدام ان سب مسائل کا حل ہوسکتا تھا۔ اس ایک قدم سے ہر خفیہ طاقت کو شکست دی جا سکتی تھی کیونکہ وہ تمام لوگ جو دھرنوں، احتجاجوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، ان کی پوری سپورٹ حاصل ہونی تھی۔ “ہینگ لگنی تھی نہ پھٹکڑی “سب کا بدلہ ایک ہی دفعہ چکتا ہو جانا تھا مگر موقع ضائع کردیا گیا۔ ایک ہی جھٹکے میں بلوچستان حکومت گرانے، سینٹ، جنرل الیکشنز، نواز شریف، مریم نواز،کیپٹن صفدر کی قید اور پارٹی کو نقصان پہچانے کا بدلہ لیا جا سکتا تھا، خفیہ طاقتوں کو گھٹنوں میں لایا جا سکتا تھا مگر جمہوری انداز کو اپناتے ہوئے ان سب کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ کیوں؟
دوسری جانب مسلم لیگ ن نے حلف اٹھانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اگر اس پہلو پر نظر ڈالی جائے تو تمام جمہوری جماعتوں کی طرف سے حلف اٹھانا نہایت عمدہ فیصلہ ہے۔ میرے مطابق جمہوری نظام کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتیں ابھی بھی اس حالت میں ہیں۔ وہ ان تمام عوامل کو اس طریقے سے درست کرسکتی ہیں کہ دوبارہ کبھی زندگی میں کوئی کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ گرینڈ اپوزیشن الائنس کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی حیثیت سے جانا چاہئیے۔ انہیں اپنا وزیراعظم کا امیدوار کھڑا کرنا چاہئیے نہ ہی قائد حزب اختلاف کے معاملے پر آپس میں تفریق پیدا کرنی چاہئیے۔ مقصد کے حصول کے لیے یہ ایسا موقع ہےجو تمام پرانی سیاسی جماعتوں کو ملنے جا رہا ہے جو وہ کبھی بھی اکیلے اقتدار میں آ کر حاصل نہیں کرسکتیں تھیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے دبنگ کپتان وزیرِ اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے نام سے دنیا بھر میں پکارے جائیں گے۔ اپوزیشن قومی اسمبلی میں انہیں محترم جناب وزیرِ اعظم صاحب کہہ کر مخاطب کرے گی۔ وہ بڑے میٹھے انداز میں یہ کہہ سکتی ہے جناب وزیراعظم صاحب ہم آپ کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ خفیہ طاقتوں کا پتہ لگایا جائے۔ کون سی غیر جمہوری طاقتیں جمہوریت کو پٹری سے اتارنا چاہتی ہیں، اس کی تحقیقات ہونی چاہئیے۔ اس کے لیے پارلیمانی رہنمائوں کی کمیٹی بنائی جائے جہاں غیر جمہوری طاقتوں کے سربراہوں کو بلا کر پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کیوں اپنے حلف سے روگردانی کر رہی ہیں۔ پھر عزت مآب وزیراعظم نا چاہتے ہوئے بھی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے پر مجبور ہوجائیں گے کیونکہ 22 کروڑ عوام کے جمہوری وزیراعظم ہونے کے ناطے ہر کسی کے تحفظات دور کرنا ان کا فرض ہے ۔ اس کے علاوہ ایسے ایسے قوانین و بل بھی منظور کیے جائیں گے جن پر عزت مآب وزیراعظم کے دستخط مجبوری بن جائے گی۔ تب وہ اس تخت پر بیٹھنے والوں کو یاد کر کے کہا کریں گے کہ جمہوریت ہونی چاہئیے اس ملک میں۔
The post کیا ہونے جا رہا ہے ؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2vgBh0K
No comments:
Post a Comment