Tuesday, September 18, 2018

اردو ہے میرا نام

ارددو ہے میرا نام
اردو ہے میرا نام ۔۔۔۔ میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں ۔۔۔غالب کی سہیلی
دکن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
سودا کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی
غا لب نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھا یا
حالی نے مروت کا سبق یاد دلایا
اقبال نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا
مو من نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی
ہے ذوق کی عظمت کے دیے مجھ کو سہارے
چکبست کی الفت نے میرے خواب سنوارے
کیوں ؟ مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے کبھی خود کویوں مسلمان۔۔ نہ جانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے میرا نام۔۔۔۔

۸ ستمبر ۲۰۱۸ بروز ہفتہ پاکستان میں قو می زبان اردو کا دن منایا گیا۔ مختلف جگہوں پر سیمینار منعقد ہوئے جن میں ہمدردان اردو نے اپنے اپنے انداز میں نوحہ گری کی کہ آخر اردو کو اس کا اصل مقام اب تک کیوں نہیں ملا؟ مجھے اپنے ادارے کی وساطت سے خوش قسمتی سے ایسے ہی ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ جو ارقم سکولز کے بانی جناب زبیر احمد صدیقی صاحب اور ان کے معاونین کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ سیمینار کا موضوع تھا….

اردو بطور قومی زبان ۔۔۔۔۔ نفاذ کی عملی راہیں

علمی لحاظ سے بڑی بڑی قد آور شخصیات کو دیکھنے، سننے اور ان کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔ اس بات پر یک گونہ اطمینان ہوا کہ ابھی پاسداران اردو موجود ہیں جو اس زبان کی پاسداری کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ جب تک ایسے لوگ موجود ہیں غاصبان تکریم اردو کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

ان بلند منصب شخصیات کے خیا لات ، اردو زبان کی حفاظت کے لیے ان کی کاوشوں نے سوچ کے در وا کیے ،شعور کو جلا بخشی اور یہ سوال ذہن کے دریچوں پر دستک دینے لگا کہ آخر اردو زبان اپنے حق سے محروم کیوں ہے؟ جب کہ یہ ایک مضبوط زبان ہے۔ زبان کی ترقی کے دو معیار ہوتے ہیں،

۱۔ یہ کہ اس میں ہر قسم کے علمی مضامین کا سرمایہ ہو۔دنیا کا کوئی ایسا مضمون نہیں جس کا علمی سرمایہ اس زبان میں موجود نہ ہو۔

۲۔انسانوں کی کثیر تعداد اس سے واقف ہو۔ یہ زبان اس معیار پر پورا اترتی ہے۔ جنوبی ایشیا تو اس کا اپنا علاقہ ہے. مشرقی سطح کے تمام ممالک بھی اس سے مانوس ہیں۔ یہ وہاں کے دکانداروں، تاجر طبقے اور عوام کی زبان ہے۔

ہمارے پاس قائد کا فرمان ہےکہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اور صرف اردو ہو گی۔1973کا آئین کہتا ہے شق ۲۵۱ (اے) کے مطابق اردو پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ اردو کو پندرہ سال کے اندر پاکستان کی سرکاری اور دفتری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر نافذ کرنے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائیں۔ جسٹس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔

اردو بہترین ذریعہ ابلاغ ہے. یہ دوسروں تک اپنے خیالات پہنچانے کے لیے ایک بہترین زبان ہے. مہذب اور وسیع زبان. یہ زبان تمیز ،ادب اور شائستگی کا مرقع ہے۔انگریزی زبان میں دوسروں کو مخاطب کرنے کے لیے you کا لفظ استعمال ہوتا ہے جب کہ اردو زبان میں اس کے متبادل جناب،آپ، تم اور تو کے الفاظ مرتبے کے لحاظ سے استعمال ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ اردو بلاشبہ خوبصورت تشبیہات و استعارات کی زبان ہے۔ دنیا میں۱۰۴ ملین سے زیادہ لوگ اسے بولتے ہیں۔ بہترین ذریعہ ابلاغ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ

۱۹۷۳ کی آئین کی پاسداری کی جائے۔

عدالت عظمی اپنے فیصلے پر عمل در آمد کروائے۔

مقابلے کا امتحان اردو میں منعقد کروایا جائے۔

عدالتی کاروائی اردو زبان میں کی جائے۔

اوروزیر اعظم عمران خان صاحب ایک حکم نامہ جاری کر کے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کا اعلان کر کے اردو کو بطور قومی زبان پھر سے زندہ کر دیں۔

The post اردو ہے میرا نام appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2QC13pj

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny