Tuesday, April 2, 2019

کیا دو قومی نظریہ واقعی باقی ہے ؟

اے سرزمین تیری عظمت کو سلام ، تیرے دلیر جواں سال نوجوانوں کو سلام ، اس دھرتی پہ جاں نثار کرنے والوں تمہاری قربانیوں پہ سلام، اے عظیم جاں نثاروں کی ماوں تم پر سلام ، اے خداے ذولجلال تیری اس عطا پہ لاکھوں شکر وسجود جو تو نے نوازا اس پاک سر زمین سے ، ترقی کر دے منزل مقدر اس سر زمین کو جو لے جائےشاہین کو بلندیوں کی پرواز تک۔

قارئین کرام 23 مارچ 1940 وہ دن تھا جس دن دو قومی نظریہ کی بنیاد کو تقویت ملی اور باقاعدہ طور پر ایک دو قومی نظریہ وجود میں آیا مگر کیا آج بھی یہ دو قومی نظریہ زندہ ہے ؟ کیا آج بھی یہ نظریہ ہماری ثقافت میں موجود ہے؟کیا واقعی یہ دو قومی نظریہ بنگلہ دیش کے قیام کے ساتھ رخصت ہوگیا ؟ کیا آج بھی ہم میں اوران میں نظریہ کا فرق باقی ہے؟ یا ان دونوں ملکوں کا کلچر آج بھی ایک جیسا ہے؟کیا اب بھی ہم ان کی روایات کو اپنے تہذیب و تمدن سے نہیں نکال سکےاور ان کا کلچر ہمارے ڈراموں، ہماری فلموں اور ہمارے رسم و رواج ، ہماری روایات میں نظر آتا ہے، جیسے یہ ہماری رگوں میں خوں کی طرح رستا ہو؟

دو قومی نظریہ کی رُوسے مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں۔ یہ ایک ساتھ رہ کر بھی کبھی ایک جیسی نہیں ہوسکتی ، اتنا عرصہ ایک ساتھ رہنے کے باوجود یہ ایک دوسرے میں نہ ڈھل سکی تو آج کیوں ہم میں اب بھی یہ روایات باقی ہیں ۔ آج بھی ہم نا دانستہ طور پر ان کی روایات پر عمل کررہے ہیں بلکہ اسطرح سے ایڈاپٹ کررہے ہیں جیسے یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہوں ۔ کیا ان سے الگ ہو کر بھی ہم ان جیسے ہیں ؟ ہم ایک نہیں ہیں،ہم ایک الگ تہذیب وثقافت رکھتے ہیں کیونکہ ہمارا مذہب الگ ہے، اسی لیے ہماری روایات، ہمارے رسم ورواج الگ ہیں. سب کچھ الگ ہے لیکن ہم ان سے الگ ملک حاصل کرنے کے باوجود ان کی رسموں کو اپنائےہوئے ہیں۔

کیا یہ علیحدہ مملکت ہی حاصل کرنا ہمارا مقصد تھا؟ نہیں ہمارا مقصد صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں تھا۔ بلکہ ایک ایسا ملک بنانا، جہاں ہم اپنے مذہب، اپنی رویات اوراپنے رسم ورواج کو کھل کر آزادی کے ساتھ اپنا سکیں، آزادی کے ساتھ ان کی تقلید و تبلیغ کر سکیں۔ لیکن ان لوگوں نے اپنے میڈیا کے ذریعے ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ آج ہم آزاد ہوکر بھی انکی تقلید کرتے ہیں اور شرم کا مقام تو یہ ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک میں ہی اسلام کی تبلیغ سب سے زیادہ مشکل بنا دی گئی ہے، اپنے ہی لوگ شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں ۔جس مذہب پر عمل کرنے کیلیے ہم نے یہ وطن حاصل کیا آج ہم اس ہی سے بہت دور نظر آتے ہیں۔ اپنے مذہب کی پیروی کرنے کو ہی شرمندگی کا باعث سمجھتے ہیں۔ان لوگوں کو کم تر سمجھتے ہیں جو اپنے دین پر عمل کرتے ہیں۔

انھوں نے ہم میں اس سوچ کو پروان چڑھایا جس سے نجات کیلیے ہم نے وطن حاصل کیا تھا ۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ اگر کسی قوم کو برباد کرنا چاہتے ہو تو اس کی نوجوان نسل کو تباہ کردو، وہ قوم خود باخود برباد ہوجائیگی اور کسی بھی نسل کو تباہ کرنا ہو تو اسے بے حیا کردو اور انھوں نے یہی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے جو آج ہمارا معاشرہ بے راہروی کا شکار ہے۔

ہم ایک ہیں لیکن کیا یہ سچ ہے ؟ کیا ہمیں صرف جنگ اوربرے ملکی حالات ہی ایک کردیتے ہیں؟۔ جب حالات صحیح ہوجاہیں گے، تو پھر ہم ویسے ہی ہوجائیں گے۔ ان ہی ملکوں کی فلمیں ،ڈرامے،کھیل ایسے دیکھیں گے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ کسی نے ہم پر حملہ کیا تھا، غیرت جگائی تھی لیکن افسوس یہ غیرت پھر سے سو جائےگی۔آخر کب تک؟ انھوں نے ہماری جڑیں ہی کمزور کردی ہیں ۔ ہماری بنیاد جو ایک اللہ، ایک رسولؐ پر ، ایک مذہب پر ہے وہ ہلا دی ہے۔

آج ہمیں اس دو قومی نظریے کو پھر سے زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی تہذیب، اپنی ثقافت ، اپنے رسم و رواج کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے آپ کو اس قابل بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ دنیا ہماری تقلید کرے ، نہ کہ ہم اس دنیا کی۔

The post کیا دو قومی نظریہ واقعی باقی ہے ؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2YJrQnG

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny