Wednesday, January 31, 2018

'It was like a train hitting a wall': 3 killed when helicopter crashes into Newport Beach home

  1. 'It was like a train hitting a wall': 3 killed when helicopter crashes into Newport Beach home  Los Angeles Times
  2. A Helicopter Has Crashed Into a California Home, Killing Three People  TIME
  3. Newport Beach Helicopter Crash: 3 Dead After Chopper Falls On Home  International Business TimesFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2rU6zvb

Internal Justice Department probe eyes McCabe's role in final weeks of 2016 election

  1. Internal Justice Department probe eyes McCabe's role in final weeks of 2016 election  Washington Post
  2. Outgoing FBI deputy director Andrew McCabe owes us some answers  The Hill
  3. The DOJ is reportedly investigating whether Andrew McCabe deliberately slowed the FBI's Clinton email probe  Business Insider
  4. Trump's gripes against McCabe included wife's politics, Comey's ride home  NBCNews.com
  5. Fix the FBI Don't Politicize It.  New York TimesFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2EquvZN

Alex Smith trade affects fantasy values of Patrick Mahomes, Tyreek Hill, Josh Doctson

  1. Alex Smith trade affects fantasy values of Patrick Mahomes, Tyreek Hill, Josh Doctson  ESPN
  2. Most likely landing spots for Kirk Cousins  NFL.com
  3. Winners and losers from Alex Smith trade to Redskins: Cousins cashes in, Reid upgrades  CBSSports.com
  4. Redskins get fleeced by Chiefs in Alex Smith trade  USA TODAY
  5. Washington Swaps Out Kirk Cousins for Alex Smith, But Did The Team Improve?  Sports IllustratedFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2DNQ31s

FEMA to stop distributing emergency food and water to Puerto Rico

  1. FEMA to stop distributing emergency food and water to Puerto Rico  Washington Post
  2. Trump Tells Puerto Ricans “We Are With You” as FEMA Ends Food and Water Distribution  Slate Magazine
  3. FEMA criticized for plan to end storm aid in Puerto Rico  Fox NewsFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2nlapcb

Harvey Weinstein Denies Rose McGowan's Rape Accusations Using Emails from Ben Affleck and Her Former Manager

  1. Harvey Weinstein Denies Rose McGowan's Rape Accusations Using Emails from Ben Affleck and Her Former Manager  Vulture
  2. 8 Emotional Reveals From Rose McGowan's New Book, Brave  Cosmopolitan.comFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2rTTX7j

Opposition supporters named Raila Odinga the 'people's president' of Kenya. Then, TV broadcasts were cut.

  1. Opposition supporters named Raila Odinga the 'people's president' of Kenya. Then, TV broadcasts were cut.  Pittsburgh Post-Gazette
  2. Kenya: Media Barred From Opposition Event  Human Rights Watch
  3. Former Kenyan VP: Home attacked in "assassination attempt"  WHIO
  4. CA gags TVs, but fails to block live coverage of Raila's oath  The Star, Kenya
  5. Threat of violence over act that will not change the status quo  Daily NationFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2nomMnJ

Fact check: Trump's right, ISIS did lose almost all its territory in Iraq and Syria

  1. Fact check: Trump's right, ISIS did lose almost all its territory in Iraq and Syria  NBCNews.com
  2. Trump Has Big Plans for Syria. But He Has No Real Strategy.  POLITICO Magazine
  3. The State Of The US Military After Trump's First Year In Office  Newsy
  4. It's time for Trump to face reality in Syria  Fox NewsFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2rSYBTd

Patriots' Rob Gronkowski says he will play in Super Bowl

  1. Patriots' Rob Gronkowski says he will play in Super Bowl  USA TODAY
  2. Minnesota freeze? Eagles players struggle to find dinner reservations  ESPN (blog)
  3. Guregian: Robert Kraft and Patriots have some work to do on continuity plans  Boston Herald
  4. The Eagles Crushed Vikings Fans' Hopes. Now They're Crashing Their Super Bowl Party.  Boston.comFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2BEQPfj

Watch Michael B. Jordan Prepare for 'Black Panther' In New Ad

  1. Watch Michael B. Jordan Prepare for 'Black Panther' In New Ad  Comicbook.com
  2. Warrior, scientist, superspy, queen: How 'Black Panther' brings strong, complex women to Marvel  Los Angeles Times
  3. Black Panther cast and crew respond to Trump's Africa comments  EW.comFull coverage


from More Top Stories - Google News http://ift.tt/2DQfSOn

دپیکا پڈوکون نے قتل کی دھمکیوں پر خاموشی توڑدی

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکاری دپیکا پڈوکون نے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے قتل کرنے کی دھمکیوں پر بالآخر خاموشی توڑ دی۔

بالی ووڈ کی خوبرو اداکارہ دپیکا پڈوکون کی زندگی فلم’’پدماوت‘‘کے باعث گزشتہ کچھ عرصے سے کافی مشکلات کا شکار رہی، فلم میں رانی پدمنی کا کردار نبھانے کے لیے ہندوانتہا پسندوں کی جانب سے نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں قتل کرنے اور ناک کاٹنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ انتہا پسندوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں پر اُس وقت تو دپیکا کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا تاہم فلم ریلیز ہوجانے کے بعد پہلی بار انہوں نے اس حوالے سے اپنا موقف بیان کیا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے پر’’ پدماوت‘‘ پر پابندی

بھارتی میڈیا کو حال ہی میں دئیے گئے انٹرویو کے دوران دپیکا نے انہیں ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں کہا کہ جب انہیں انتہا پسندوں کی جانب سے ناک کاٹنے اور قتل کرنے کی دھمکی دی گئی تو ان کے والدین بہت پریشان ہوگئے تھے اور ان کا پریشان ہونا قدرتی بھی تھا ’’لیکن میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں‘‘۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے فلم’’پدماوت‘‘پر اپنے والدین کے ردعمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا جب میرے والدین نے ’’پدماوت‘‘میں میری اداکاری دیکھی تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرگئیں اور میں نے انہیں کہتے سنا ’’ہاں یہ ہماری بیٹی ہے‘‘۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا کو’’ناک‘‘ کاٹنے کی دھمکی 

دپیکا نے رانی پدمنی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ میں اس کردار کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی کیونکہ مجھے تاریخ نہیں معلوم لیکن جب مجھے اس کردار کی پیشکش ہوئی تو میں نے رانی پدمنی کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ انہوں نے رانی پدمنی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں سب سے اچھی بات جو مجھے پسند آئی وہ یہ تھی کہ اپنے شوہر کے بعد وہ بالکل نہیں ٹوٹی کیونکہ راجا راول رتن سنگھ کے بعد ساری رعایا کی نظریں اپنی رانی پر تھیں، وہ تمام لوگوں کے لیے طاقت تھیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: دپیکا  کو زندہ دفن کرنے کی دھمکی

انہوں نے سنجے لیلا بھنسالی کے بارے میں کہا کہ بھنسالی نے مجھے میری زندگی کے تین اہم کردار لیلا، مستانی اور مدماوتی دئیے، یہ تینوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے اور لوگوں نے مجھے ان تینوں کرداروں میں بہت سراہا۔ فلم میں رنویر کے ساتھ کوئی بھی سین نہ ہونے پردپیکا کا کہنا تھا کہ میری یہ رنویر کے ساتھ تیسری فلم تھی لیکن مجھے فلم میں کام کرتے وقت ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں رنویر کے ساتھ ہوں کیونکہ ہم دونوں کا فلم ایک کوئی بھی سین ایک ساتھ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ تنازعات کا شکار فلم’’پدماوت ‘‘سنجے لیلا بھنسالی کا ایک اور شاہکار ثابت ہوئی ہے اور فلم ریلیز سے اب تک 100 کروڑ سےزائد کا بزنس کرچکی ہے۔

The post دپیکا پڈوکون نے قتل کی دھمکیوں پر خاموشی توڑدی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2E1j6lr

افغان حکومت کی پاکستان کی جانب سے 27 شدت پسندوں کی حوالگی کی تردید

کابل: افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے 27 شدت پسندوں کی حوالگی کی تردید کردی۔

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان نے پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان افغانستان اور حقانی نیٹ ورک کے 27 شدت پسندوں کو افغان حکومت کے حوالے کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کسی ایک شدت پسند کو بھی ہمارے حوالے نہیں کیا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ پاکستان نے27 شدت پسندوں کو افغانستان کے حوالے کردیا

گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال سے روکنے کی کوششں کر رہا ہے اور اس ضمن میں گزشتہ سال نومبر میں تحریک طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 27 شدت پسندوں کو افغانستان کے حوالے کیا گیا۔

The post افغان حکومت کی پاکستان کی جانب سے 27 شدت پسندوں کی حوالگی کی تردید appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2FwWwy1

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

 لاہور /  اسلام آباد: ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں ایک بچی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ جن شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ان میں اسلام آباد، پشاور،بنوں، شمالی وزیرستان، ایبٹ آباد، بڈ گرام،  فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ڈسکہ ، سمبڑیال، جھنگ، ڈیرہ اسماعیل خان، مرید کے، راولپنڈی، مری، مانسہرہ، شانگلہ، سوات، مینگورہ، اٹک، چنیوٹ، میانوالی، منڈی بہاالدین، لالہ موسی، گلگت و گردونواح، پنڈ دادن خان، ہٹیاں بالا، نتھیاگلی سمیت دیگرشہرشامل ہیں۔

زلزلہ پیما مرکزکے مطابق زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 178 کلومیٹرتھی جبکہ شدت 6.1 تھی۔ زلزلے کے جھٹکے 30 سیکنڈز تک جاری رہے۔

جھٹکے تین سے چارسیکنڈ تک محسوس کیے گئے تاہم ان کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ جھٹکے محسوس ہوتے ہی شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ کلمہ طیبہ کے ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ زلزلہ سے حب میں مکان کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں بچی جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہوگئے۔

دوسری جانب بھارت کے شہردہلی، راجھستان، چندی گڑھ، ہریانہ جبکہ افغانستان اور ازبکستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

The post اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2DZeVqe

شیخ رشید کا یوٹرن؛ مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا

 اسلام آباد: شیخ رشید نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید نے یوٹرن لیتے ہوئے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ اپنڈکس آپریشن کے بعد شیخ رشید احمد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس آئے اورکچھ دیرپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد شیخ رشید سے صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے استعفی جمع کرادیا؟، جس پرشیخ رشید نے جواب دیا کہ اب ضرورت ہی نہیں رہی اور وقت گزرگیا ہے۔ صحافی نے استفسارکیا کہ آپ کی طبیعت ابھی بھی بوجھل لگ رہی ہے، جس پران کا کہنا تھا کہ اپنڈ کس آپریشن کے بعد ابھی پوری طرح طبیعت بحال نہیں ہوئی، ایک سودو، تین تک بخاررہتا ہے، شاید آپریشن کے زخم بھرنے تک ایسا رہے اورآپ دعا کریں، آج شام ٹانکے کھل جائیں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: شیخ رشید کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان

واضح رہے کہ کچھ روزقبل لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے جلسے کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہوئے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا تھا۔

The post شیخ رشید کا یوٹرن؛ مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2FvF0u7

سندھ حکومت کا جہیز 50 ہزار روپے تک مقرر کرنے پر غور

کراچی: سندھ حکومت جہیز کی مالیت 50 ہزار روپے تک مقرر کرنے پر غور کررہی ہے اور خلاف ورزی کرنے پر سزا کے ساتھ بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں جہیز کے خاتمے سے متعلق 2017 کے بل میں ترمیم پر غور کیا گیا اور اس حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بل میں تجویز پیش کی گئی کہ صوبے میں جہیز 50 ہزار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے اور مہندی کے گفٹس یا اخراجات بھی 50 ہزار سے زیادہ نہیں ہونے چاہیئیں۔

بل کے مطابق دولہا یا اسکے اہلِ خانہ کسی بھی طرح جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے اور جہیز کسی دباؤ کے ذریعے بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے جب کہ رخصتی کے وقت دلہن اور دولہا کے اہل خانہ تمام جہیز باراتیوں کو دکھانے کے پابند ہوں گے، خلاف وزری پر 6 ماہ سزا اور بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ تجاویز ایسی ہیں جو فعال کرنا مشکل ہیں، ہمیں ایسا قانون بنانا چاہیئے جو لاگو ہوسکے اور ایسا قانون بنائیں جس میں جہیز لینا برا لگے جب کہ جہیز کا خاتمہ یا غیر ضروری مطالبات کے حوالے سے معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہوگا۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کابینہ نے جہیز سے متعلق بل منظور نہیں کیا۔

The post سندھ حکومت کا جہیز 50 ہزار روپے تک مقرر کرنے پر غور appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2DZhysi

سپریم کورٹ میں نااہلی کی مدت کے تعین کیس کی سماعت

 اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نااہلی کی مدت کے تعین کے کیس کی سماعت جاری ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 62ون ایف کی تشریح اور نااہلی کی مدت کے تعین کے کیس کی سماعت کررہا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے سینئر وکیل اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے اور کیس کی تیاری کیلئے تین دن کا وقت دینے کی درخواست کی جو عدالت عظمیٰ نے منظور کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: نااہلی مدت کیس؛ سپریم کورٹ کی جانب سے عوامی نوٹس جاری

کل کیس میں سپریم کورٹ نے عوامی نوٹس جاری کیا تھا۔ آج دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پبلک نوٹس ان لوگوں کیلئے تھا جو متاثرہ ہیں، تمام متاثرہ لوگ اپنے لئے ایک مشترکہ وکیل کر لیں، آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔

وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالت کے پبلک نوٹس میں ابہام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پبلک نوٹس میں غلطی ہو گئی ہوگی، یہ نوٹس صرف متاثرین کے لئے ہے۔ اللہ ڈنو کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ ان کے موکل کو 2013 میں 2008 کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا، عدالت 62 ون ایف کے معاملے کو حل کرے، آرٹیکل 63 میں نااہلی کے ساتھ سزا کا تعین بھی ہے، زیادہ سے زیادہ نااہلی پانچ سال کی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر عدالت کسی شخص کو نااہل کر دے تو کیا وہ شخص تین ماہ بعد انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے؟۔ وکیل طارق محمود نے کہا کہ نااہلی پانچ سال کی ہونی چاہیے، پشاور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کو بدیانتی پر تاحیات نااہل قرار دیا۔

عدالتی معاون منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنا سب کابنیادی حق ہے، اٹھارویں ترمیم سے قبل آرٹیکل 63میں ماضی کے کنڈکٹ پرنااہلی تاحیات تھی، اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ کی بصیرت یہ تھی تاحیات نااہلی کو مدت سے مشروط کردیا۔

واضح رہے کہ 14 ارکان اسمبلی نے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں مطالبہ کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کرکے اس کی مدت کا تعین کیا جائے۔ درخواستیں دائر کرنے والوں میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین سمیت وہ ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں جنہیں جعلی تعلیمی ڈگریوں کی بنا پر نااہل کیا گیا۔

The post سپریم کورٹ میں نااہلی کی مدت کے تعین کیس کی سماعت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2FxlPjH

سرگودھا میں پولیس مقابلے میں اہلکار جاں بحق

سرگودھا: نواحی چک 135 جنوبی کے قریب پولیس مقابلے میں ایک اہلکار شہید ہوگیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سرگودھا میں نواحی چک 135 جنوبی کے قریب ایس ایچ او شاہ نکڈر اہلکاروں کے ہمراہ ناکہ بندی کر کے چیکنگ کر رہے تھے۔ پولیس نے مشکوک افراد کو دیکھ کر رکنے کا اشارہ دیا۔ ملزمان کو چیک کرنے کے لیے پولیس اہلکار آگے بڑھے تو ملزمان نے فائرنگ کردی۔

فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے اور چھاپے مارے جارہے ہیں۔

The post سرگودھا میں پولیس مقابلے میں اہلکار جاں بحق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2DZg9St

خیبرپختونخوا جل رہا ہے اور عمران خان جھوٹ کی بانسری بجارہے ہیں، سعد رفیق

 لاہور: وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ دوسروں پر بہتان لگانے والی پی ٹی آئی نے کبھی اپنی کوتاہی یا نااہلی تسلیم نہیں کی جب کہ خیبرپختونخوا جل رہا ہے اور عمران خان جھوٹ کی بانسری بجارہے ہیں۔ 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان کا خیبرپختونخوا سے رشتہ محض سرکاری وسائل کے بے محابا استعمال تک محیط ہے، کے پی جل رہا ہے لیکن عمران خان جھوٹ کی بانسری بجارہے ہیں جب کہ کے پی پولیس کی نا اہلی کے بارے میں سپریم کورٹ کے ریمارکس پر تحریک انصاف گونگی کیوں ہوگئی ہے۔

وزیرریلوے نے کہا کہ مشعال ، اسما اور عاصمہ کے قاتلوں کو پکڑنے میں ناکامی صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس کے نمونے ہیں، دوسروں پر بہتان لگانے والی پی ٹی آئی نے کبھی اپنی کوتاہی یا نااہلی تسلیم نہیں کی جب کہ دوسروں کو عدالتی ریمارکس کے طعنے دینے والے اپنی نااہلی کا اعتراف کریں۔

The post خیبرپختونخوا جل رہا ہے اور عمران خان جھوٹ کی بانسری بجارہے ہیں، سعد رفیق appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2FvAzzp

اسلام آباد میں غیرملکی بچے سے بدفعلی کے الزام میں قاری گرفتار

 اسلام آباد: تھانہ کورال کے علاقے میں 12 سالہ غیرملکی بچے سے بدفعلی کے الزام میں اس کے قاری کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق اسلام آباد میں تھانہ کورال کے علاقے میں 12 سالہ فلپائنی بچے کواس کے معلم نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جوگرفتارکرلیا گیا ہے۔ بچے کے والد کی درخواست پرمقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ بچے کو اس کے معلم نے ہی بدفعلی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے کھنہ پل کے قریب ایک ہوٹل سے ملزم کو گرفتارکیا۔ ملزم کوسخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کیا جائے گا۔

واقعے کے حوالے سے والد کا کہنا ہے کہ بچے کی شہریت فلپائنی ہے اورہمیں سفارتخانے نے بھی بلایا ہے۔ اپنے بیان میں قاری اسلم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوں اوربچے کے ساتھ حجرے میں بدفعلی کرتا تھا۔

The post اسلام آباد میں غیرملکی بچے سے بدفعلی کے الزام میں قاری گرفتار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2DZeU5E

رشتہ مارکیٹ میں لڑکیوں کی وِنڈو شاپنگ

’’ایک اور لڑکی نے (رشتے کے سلسلے) میں پانچویں بار بھی مسترد ہونے پر خودکشی کر لی‘‘

کہنے کو یہ میڈیا کی حد تک ایک خبر ہے، مگر حقیقت میں ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔ ایسے رُو بہ زوال معاشرے کا عکس کہ جہاں غیر اسلامی رسم و رواج بڑھتے بڑھتے خودکشی جیسے حرام کاموں کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

لفظ شادی کے ذہن میں آتے ہی نہایت حسین تصورات کا تانا بانا بُننے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرتی چلن نے اس مقدس معاملے کو بھی تعصب اور نفسانیت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ عورت ذات سے مربوط ہر معاملے میں ہمارے دین میں سب سے بڑھ کر عدل موجود ہے۔ اس کے کمزور سے وجود کو رحمت قرار دے کر نازک آبگینے سے تشبیہہ دی گئی۔ اس کو قدم قدم پر زمانے کے سرد و گرم سے بچانے کےلیے ان کے حقوق و فرائض کا مقدس نظام طے کر دیا۔ اس کی نگہبانی مردوں پر قانوناََ لازم کر دی گئی۔

’’مرد عورتوں پر قوام (نگہبان) ہیں۔‘‘ (القرآن)

نکاح کی عمر کو پہنچتے پہچتے، عورت مرد کی نگہبانی کی پہلے سے کہیں زیادہ محتاج ہوتی نظر آتی ہے۔ بدلتی اقدار کی حشر سامانیوں نے زندگی کے اس پہلو پر بھی خوب ہی قدغن لگائی ہے۔ رشتوں/ شادی کے معاملے میں مردوں نے اپنے ’’ولی‘‘ ہونے کے اختیار کو نکاح نامے کے دستخط تک ہی محدود کر لیا ہے۔ اس اہم دستخط سے قبل شادی کے معاملے کے کتنے پہلو ان کی نگاہ سے اوجھل یا توجہ سے محروم ہو رہے ہیں اس کا اندازہ کم ہی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ شادی کے اولین مرحلے ’’رشتے کی تلاش‘‘ سے ہی مرد اپنی قوامیت میں عورتوں کو معاون کے نام پر مختار ہی بنا ڈالتے ہیں۔ اس اعزازی اختیار کے ساتھ خواتین رشتہ پسند کرنے کے نام پر اپنی ہی جیسی خواتین کا جس طرح استحصال کرتی ہیں اس کا اندازہ ہے ان کے مروں کو؟

جس طرح لڑکی کا ہڈیوں تک چیرتی خوردبینی نگاہوں سے جائزہ لیا جاتا ہے، ان عذاب نگاہوں کی تپش کبھی خود لڑکے یا اس کے گھر کے مردوں نے بھی محسوس کی ہے؟

ملاقات یا گفتگو کے بہانے جو سوالات معصوم لڑکیوں سے کیے جاتے ہیں، کبھی اس ’’تفتیش‘‘ کی لڑکے کے مردوں نے خبر لینے کی زحمت بھی کی؟ ’’آپ کی شکل کیسی لگ رہی ہے، کوئی بیماری تو نہیں؟‘‘ ۔’’ذرا چشمہ اتاریے۔اب ذرا چمشہ لگایے‘‘۔ ’’ہمارے بچے کے ساتھ کھڑی ہو جائیں ذرا، تاکہ قد کا درست اندازہ ہو جائے‘‘۔

ایک خاتون نے اپنے صاحبزادے کےلیے پسند بلکہ تلاش کی ہوئی لڑکی کے بارے میں ہم سے رائے چاہی۔ لڑکی واقعی بہت فیئر اور اسمارٹ تھی، سو ہم نے بھی گرم جوشی سے مبارکباد دی کہ ’’آخر آپ کی پسند کے مطابق گوری بہو مل ہی گئی۔‘‘ سپاٹ لہجے میں جواب ملا، ’’اتنی بھی گوری نہیں ۔‘‘ ایک دوست کی بہن انتہائی خوب صورت تھی۔ خیال تھا کہ اس کا رشتہ بہت اچھی جگہ بہ آسانی ہو جائے گا۔ مگر پتہ چلا کہ رشتے کےلیے آنے والی خواتین کو اتنے حسن کے ساتھ کچھ جدید انداز بھی مطلوب ہوتے ہیں۔ ایک اچھی اسمارٹ ڈاکٹر لڑکی کو اپنے کچھ کم قد اور کم گورے ہونے کا شدید احساس رشتے والی آنٹیوں کے کمنٹس سے ہی ہوا۔

رشتہ مارکیٹ میں لڑکیوں کی اس ’’وِنڈو شاپنگ‘‘ کو رواج دینے میں میرج بیورو اور آن لائن رشتہ (میٹریمونیئل) سروسز کا بھی بڑا کردار ہے۔ پہلے ایک لڑکے کے رشتے کےلیے قریبی خاندان یا چند گھروں تک جانے پر اکتفا کر لیا جاتا تھا۔ اب آن لائن رشتہ سروسز نے لڑکیوں کی اس ونڈو شاپنگ کو شہروں اور ملکوں کی حدود و قیود سے آزاد کر دیا ہے۔ اب ایک لڑکے کےلیے چند کے بجائے کئی لڑکیوں سے رابطے کر کے انہیں منتخب یا مسترد کرنا ایک کلک کا محتاج رہ گیا ہے۔

پاکستانی اور نسبتاََ سیدھی سادی بہو کی متلاشی، باہر کی فیملیز کی تو آن لائن میٹریمونیئل سروسز نے چاندی ہی کر دی۔ ایک کثیرالعیال والدہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تیرہویں بچے کےلیے بھی کئی لڑکیوں کے والدین سے رابطے کر رکھے ہیں۔ پاکستان آکر ’’رشتے کے مکمل طریقۂ کار‘‘ سے گزرنے کے بعد ہی بہو کا انتخاب مکمل ہوگا۔ بیٹے کی شادی کےلیے بیرونِ ملک سے ہی آنے والی ایک اور خاتون کو شادی کی مبارکباد دی تو بڑے اطمینان سے جواب ملا، ’’بری کی پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں لیکن طے شدہ لڑکی سے بھی بالمشافہ ملاقات کے بعد ہی شادی کا فیصلہ ہو گا۔ اور فیصلہ جس کے حق میں ہوا وہ کوئی اور مزید حسین لڑکی تھی۔‘‘ کیا لڑکے اور ان کے مرد حضرات ان لڑکیوں کی دلی کیفیات کا اندازہ کر سکتے ہیں؟

ہمارے دین میں شادی جیسے فریضہ کو دو رکعت نمازوں کی ادائیگی کی مانند ہلکا پھلکا رکھنے سے متعلق واضح ہدایات و تعلیمات موجود ہیں۔ اسی ضمن میں لڑکی کو دیکھنے کی ہدایت نکاح کے حتمی ارادے یا فیصلے کے وقت ہے۔ اس میں بھی لڑکی اور اس کے گھر والوں کو گرانی یا ناگواری سے بچانے کا لحاظ رکھنے کی بھی ہدایت ہے۔ صحابۂ کرام کے ہاں مثالیں ملتی ہیں کہ نکاح کےلیے پیش نظر لڑکی کو ان کی لاعلمی میں دیکھنے کا اہتمام رکھا تو نکاح بھی ان ہی سے کیا۔ (حضرت مغیرہ بن شعبہ رض: ترمذی ابنِ ماجہ مسنداحمد۔ حضرت جابر رض: سنن ابی داؤد)

ہمارے دور میں شادی کے معاملات میں ’’لڑکی‘‘ کی عزتِ نفس کا لحاظ کرنے والے حضرات، ادیب، صحافی، اساتذہ، والدین اور علماء اپنا کردار کب ادا کریں گے؟

The post رشتہ مارکیٹ میں لڑکیوں کی وِنڈو شاپنگ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2Fw0g2Q

 سانحہ قصور کی مقتول بچیوں کو شھید کہا جاسکتا ہے؟

زینب قتل کیس نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا اور بے شمار سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے ہی کچھ سوالات کے جوابات ہم  اس تحریر میں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سارے واقعے میں ایک سوال جو کہ بہت بار اٹھایا گیا وہ یہ ہے کہ زینب قتل کیس میں ایسی کون سی بات تھی کہ یہ اتنا زیادہ ہائی لائٹ ہوا حالانکہ دوسرے گیارہ کیس بھی تو اسی شہر میں ہوئے تھے؟

اس کا جواب ہے کہ سوشل میڈیا نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ صبح کے ناشتے کے بعد میں نے جب نیٹ کھولا تو ٹویٹر اور فیس بک پر مجھے ایک بہت ہی معصوم سی پیاری بچی کی تصویر نظر آئی۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی معصومیت تھی کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اگر آپ اس تصویر کو دیکھیں تو آپ محسوس کریں گے کہ اس کا چہرہ عام سا چہرہ نہیں تھا۔ ایسے چہرے کبھی بھی عام نہیں ہوتے، ان کی ذہانت ان کے چہرے سے عیاں ہوجاتی ہے۔ ایسی بچیوں کا مسقبل ان کی پیشانی سے واضح ہوجاتا ہے۔

میرا اس تصویر کے متعلق پہلے تاثر یہ تھا کہ پاکستان کی ایک اور بیٹی نے کوئی ایسا کارنامہ اس چھوٹی عمر میں کردیا ہے کہ اس کی تصویر فیس بک، ٹوئٹر کے لئے آج کا سب سے بڑا ٹرینڈ بن گئی ہے۔ اسی تجسس میں، میں نے ایک تصویر کا لنک کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔ جوں جوں میں پڑھتا گیا مجھے ایسا لگا کہ پوری دنیا میرے لئے بے معنی سی ہوگئی ہے۔ دل سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اپنے جذبات پر کیسے قابو پائوں۔ ذہن کو بار بار جھٹکتا تھا، ایسا نہیں ہوسکتا، کوئی شخص اتنا بے رحم ظالم بھی ہوسکتا۔ بس نہیں چلتا تھا کہ اس کا قاتل پکڑا جائے اور میں اس کی لاش کو پھانسی پر لٹکتا دیکھوں۔

اب آپ کو اس سوال کا جواب تو مل ہی گیا ہوگا کہ زینب کوئی عام لڑکی نہیں۔ اس کی صورت میں ایک کشش تھی جس نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور یوں یہ کیس اس شدت کے ساتھ  ہائی لائٹ ہوا کہ صرف پاکستان سے ایک دن میں پانچ لاکھ افراد نے اس پر ٹویٹ کی۔ جبکہ اس دن یہ ٹوئٹر ٹرینڈ میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر رہا۔

ایک دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا زینب کے اس سفاکانہ قتل نے معاشرہ کی مجموعی سوچ کو تبدیل کیا؟

زینب کی موت نے پورے ملک میں ایک سوگوار سی کیفیت پیدا کردی ہے۔ بڑے دل گردے والے لوگوں کی آنکھوں میں بھی میں نے اس دن آنسو دبے دیکھے۔ شوبز سے وابسطہ لوگوں کو چینلز سکرین پربلک بلک کر روتے دیکھا۔ اینکر پرسن رپورٹر جن کی خود کش حملوں کی رپوٹنگ کرتے ہوئے آواز میں بھی لرزش نہیں دیکھی تھی، یوں روتے تھے کہ جیسے کوئی وہ کوئی غیر نہیں تھی بلکہ ان کی اپنی تھی۔

یہ زینب کی لاش تھی جس نے دیگر گیارہ بچیوں کے کیسسز کو بھی زندہ کردیا۔ اس کی موت نے معاشرے کے ضمیر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دن رات سیاسی بحثیں کرنے والے بھی سب کچھ بھول کر صرف مجرم کی فوری گرفتاری اور اس کی عبرتناک سزا کے لئے بے تاب نظر آتے تھے۔

معاشرے میں ایسی بے چینی ایک دفعہ میں نے اس دن دیکھی جس دن اے پی ایس پشاور کا واقعہ ہوا تھا یا پھر اس  دن دیکھی جب یہ کیس سامنے آیا۔ لیکن اے پی ایس والے واقعہ میں ہمیں اپنا دشمن سامنے نظر آرہا تھا اور اس سے ہم یہ ہی توقع رکھتے تھے، لیکن یہ تو کوئی غیر نہیں تھا، اسی معاشرہ کا ایک ایسا فرد تھا۔

زینب کی موت نے نشاندہی کی  کہ ہماری سوسائٹی اندر سے اتنی کمزور اور بے بس ہے کہ ہم ظلم ہوتا دیکھتے ہیں لیکن اسے روکنا تو درکنار اس پر بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ اس کی موت نے اس احساس معاملے کو معاشرہ کے ہر طبقہ کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر ان جنسی درندوں سے اپنے بچوں کو بچانا ہے تو انہیں ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔ جس بات پر ہم کھل کر بات کرنے سے گھبراتے تھے، اب اس جھجھک کو پش پشت ڈال کر ان پھول سی کلیوں کو اس خطرہ سے آگاہ کرنا پڑے گا۔ قانون سازی، تعلیم، مناسب آگاہی اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرکے اس برائی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

عام طور پر جب کوئی بھی معاشرتی تبدیلی آتی ہے تو اس کی رفتار بہت سست ہوتی ہے اور اس معاملے کے متعلق کچھ طبقہ فکر کے لوگ جن کا اس ایشو سے مفاد وابسطہ ہوتا ہے، دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زینب کے قتل نے ہماری معاشرتی سوچ کو یک دم تبدیل کرکے رکھ دیا اور اس بات کو باور کروایا ہے کہ اب بچوں پر زیادتی کے ایشوز پر چپ نہیں رہا جاسکتا۔ جب سے یہ کیس سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا سے لیکر ایک پسماندہ علاقہ کے پرائمری سکول کی ٹیچر تک نے اس پر کھل کر بات کی جو کہ معاشرے کی مجموعی سوچ میں تبدیلی کی نشاندہی ہے۔

ایک اور سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم اس درندے کے ہاتھوں مرنے والی قوم کی بچیوں کو شھادت کا مرتبہ نہیں دے سکتے؟ اس کا جواب صرف ایک لفظ یعنی ہاں میں دیا جا سکتا ہے یا پھر یہ کبھی نہ ختم ہونے والی بحث میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں شھادت کا سرٹیفکیٹ بھی سماج کے کچھ ٹھیکیدار جیبوں میں لیے پھرتے ہیں۔

شھید کس کو کہا جاتا ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ شھید کا خطاب اس فرد کو دیا جاتا ہے جو کہ اپنے مذہب، قوم، وطن یا کسی خاص نظریے کے پیچھے اپنی جان دیتا ہے۔ وطن، قوم، مذہب پر جانیں دینے والے کی بات بالکل صاف ہے کہ وہ شھادت کے رتبہ میں آتے ہیں اور جہاں نطریہ کی بات کریں تو اس پر تھوڑا بہت اختلاف ہوسکتا ہے۔

میرے نزدیک جب کوئی شھید ہوتا ہے تو اس کو شھید کرنے والے کی بری نیت اس میں شامل ہوتی ہے۔ آپ کا دشمن آپ پر حملہ آور ہوتا ہے، اس کے دفاع میں لوگ جاں بحق ہوتے ہیں۔ ایک دھشت گرد کوئی کارروائی کرتا ہے، اس کارروائی کے پیچھے اس کی بری نیت شامل ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر زینب اور ان گیارہ بچیوں کی بات کریں تو اس کے پیچھے ان کے قاتل کی ایک بری نیت شامل تھی، جبکہ دوسری جانب شھید ہونے والا اپنی جان تو دیتا ہے لیکن اپنی قوم کو ایک سبق اور پیغام بھی دے جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ قوم متحد ہوتی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کیلئے جان دی گئی ہے۔ زینب سمیت ان گیارہ بچیوں نے بھی اپنی جانیں دے کر ایک ایسے معاشرتی مسئلے کو اجاگر کیا ہے جس پر ہمیشہ آنکھیں بند کرلی جاتی تھیں۔ اس پر پہلے ہی کافی روشنی ڈالی جا چکی ہے، اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک شھادت ہی ہے کہ اپنی موت سے معاشرے میں تبدیلی کا آغاز کر جانا۔ اس کیس کے بعد نئی قانون سازی کی جارہی ہے۔ بچوں کو آگاہی دینے کے لئے اخلاقیات، مذہب اور معاشرتی اقدار میں رہتے ہوئے تعلیمی سطح پر سلیبس کا حصہ بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ پرنٹ، سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے اور مجموعی طور پر معاشرہ میں اس برائی کے متعلق دبے الفاظ کی بجائے کھل کر بات کی جارہی جو کہ بہت بڑی تبدیلی ہے اورمعاشرے کی ان بیٹیوں کو شھادت کے مرتبہ پر فائز کرتی ہے۔

The post  سانحہ قصور کی مقتول بچیوں کو شھید کہا جاسکتا ہے؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2nsIF4I

ہمیں دشمن سے بچوں کو بچانا ہے

ملزم کی گرفتاری پر تالیاں بج چکی ہیں اور اب میڈیا کو بھی دیگر معاملات پر توجہ دینے کی فرصت میسر آ گئی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو گا؟ کیا زینب کیس کو بنیاد بنا کر ہم لوگ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں گے یا محض کاغذائی کاروائیاں کر کے آگے چل پڑیں گے اور اس طرح کے کسی اور واقعہ کا انتظار کریں گے جس کو بنیاد بنا کر چند ہلچل والے دن گذارے جا سکیں۔

پنجاب حکومت اس بات پریقیناً  قابل تحسین ہے کہ اس نے اس کیس میں سرعت کے ساتھ کام کرتے ہوئے چودہ دن میں زینب کے قاتل کو گرفت میں لے لیا۔ اس کے بعد مگر جو کچھ شروع ہوا وہ نہ صرف افسوس ناک بلکہ کسی حد تک چونکا دینے والا بھی ہے۔  بلکہ اگر کہا جائے کہ مسلم لیگ ن کی نا اہلیت کا ایک اور نمونہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ ان کا المیہ ہے کہ اچھا کام بھی اس برے طریقے سے کرتے ہیں کہ معاملات شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فارنزک لیبارٹری میں ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کی بدولت عمران علی کو زینب کے قاتل کے طور پر شناخت کر لیا گیا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے افراتفری میں ایک پریس کانفرنس کی اور قاتل کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے فارنزک لیبارٹری کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے شروع کر دیئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جے آئی ٹی کے ارکان کو کھڑا کروا کروا کر ان کا تعارف اور تحسین کی۔ اس موقعے پر چند لاپرواہ  قسم کے صحافیوں کے تالی بجا دینے سے سبھی نے تالیاں بجا دیں اور قوم کو تنقید کا موقع میسر آ گیا۔ بجا طور پر تالیاں بجانے اور شہباز شریف اور دیگر شرکا کے (امین انصاری۔زینب کے والد کے علاوہ)  ہنسنے کا پوری قوم نے برا منایا۔

272073_2990407_updates

تالیوں کے شور میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا کہ قصور میں اس سے پہلے ہونے والے سات واقعات میں بھی یہی ملزم ملوث ہے اور اس کا انکشاف ڈی این اے میچ ہونے سے ہوا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ متعدد وارداتوں میں ملوث ملزم قانون کی گرفت میں آ گیا ہے اور یقیناً حکومت اس ملزم کے ساتھ قرار واقعی سلوک کرے گی۔ چند سوالات کے جواب مگر باقی ہیں۔ یہ سوال بارہا اٹھایا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے دو، تین وارداتوں کے جن مجرمان کو سزا دی گئی یا ماورائے عدالت پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا کیا وہ واقعی مجرم تھے؟ اگر وہ مجرم تھے تو اب عمران علی کیسے ان تمام وارداتوں کا ملزم ثابت ہو رہا ہے؟ اور اگر عمران علی ہی حتمی طور پر ان تمام وارداتوں کا مجرم ہے تو جن کو پہلے ہلاک کر دیا گیا ان کے بارے میں پنجاب حکومت کیا جواب دے گی؟ اچھی بات یہ ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایک اور جے آئی ٹی قائم کر دی گئی ہے اور آج ہی کی خبر کے مطابق پانچ پولیس اہلکاروں کو زیر حراست لے لیا گیا ہے جبکہ متعلقہ ایس ایچ او مفرور ہے۔ اس معاملے کے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں تاکہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ ہم لوگ کسی سنجیدہ مسئلے کو دبانے کے لیے کیسے کیسے المیوں کو جنم دے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات لازمی طور پر سامنے آنی چاہیئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ بیل کو بچانے کے لیے مرغا قربان کیا جا رہا ہو۔ قصور میں کچھ عرصہ سے مسلسل دردناک واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ان واقعات کے پس منظر میں کسی بااثر شخصیت یا شخصیات کا ہونا ناممکن نہیں ہے۔

425207_57409876

اس کے علاوہ  ڈاکٹر شاہد مسعود جو نیوز ون چینل کے اینکر ہیں اور ماضی میں بڑے میڈیا گروپس سے وابستہ رہ چکے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ پاکستان ٹیلی وژن کے مینیجنگ ڈائرکٹر بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے  اس واقعے  سے متعلق کچھ ایسے انکشافات کر دیئے ہیں جن سے پورے ملک میں اضطراب کی سی کیفیت طاری ہو گئی ہے۔  ان کے مطابق ملزم عمران علی اکیلا مجرم نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک بین الاقوامی گروہ ہے ۔  ڈاکٹر شاہد مسعود نے ملزم عمران علی کے37 بنک اکاؤنٹس کا بھی انکشاف کیا ہے۔ ممکن ہے ڈاکٹر شاہد مسعود نے محض سنسنی خیزی کے لیے یہ انکشافات کیے ہوں۔ ممکن ہے ان کے مطمع نظر صرف اپنے چینل کے لیے میڈیا ریٹنگ حاصل کرنا رہا ہو مگر جس شدت اور قطیعت کے ساتھ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے چند وزرا  اور پاکستانی میڈیا کے نامور لوگ ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات کو رد کر رہے ہیں وہ اپنی جگہ مکمل تفتیش اور تحقیق کا متقاضی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہماری سمجھ میں آتی ہیں۔ پہلی  وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ پنجاب حکومت  اپنی فارنزک لیبارٹری کی کارکردگی کو سوالیہ نشان نہیں بنانا چاہتی ۔ اور دوسری وجہ ممکنہ طور پر  کسی بااثر شخصیت  یا شخصیات کی پردہ داری ہو سکتی ہے۔  ملزم عمران علی کسی بین الاقوامی گروہ کا کارندہ نہ سہی، مگر یہ بات بعید اس قیاس نہیں کہ اس  کو ان واقعات میں با اثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل رہی ہو۔ سپریم کورٹ نے ان کی باتوں کا نوٹس لے لیا ہے اور اس پر بھی جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ نئی جے آئی ٹی محترم بشیر میمن کی قیادت میں حقائق سامنے لے کر آئے گی۔

0347fec8-a9bd-4b43-836f-1ce3602485e6

ہمارے ملک میں جے آئی ٹی اب ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پولیس کے نظام کی مکمل ناکامی  اور عوام کا پولیس پر عدم اعتماد ہے۔ کسی بھی جرم کی تفتیش پولیس کا بنیادی فرض ہے۔  جدید سا ئنسی طریقوں سے پچھتر ہزار میل کی دوری پر واقع ہماری پولیس  اب بھی روایتی  چھترول اور لترول پر ایمان رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ لطیفہ آپ نے سن رکھا ہو گا کہ ہماری پولیس ہرن کو بھی ہاتھی ہونے کا اقرار کروانے میں مہارت رکھتی ہے۔  ہمارے ارباب اختیار  پولیس کو اپنے ذاتی کھلونے کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اسی سے وہ اپنے مخالفین اور عوام کو کچل کر رکھ دینے کا کام بھی لیتے ہیں۔  اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سنگین جرائم کے پیچھے بااثر شخصیات کا ہاتھ ہوتا ہے اور پولیس ان بااثر شخصیات کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے ان کو کسی بھی قیمت پر بچاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

حال ہی میں اوپر تلے جعلی پولیس مقابلوں کی قلعی کھلی۔ کراچی میں نقیب اللہ، انتظار اور مقصود کی ہلاکت نے ،  ہماری پولیس کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ پے درپے پیش آنے والے ہولناک واقعات میں اول تو پولیس بے حسی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے اور اگر کسی کیس میں ہاتھ ڈالا بھی ہے تو اس کو مزید پیچیدہ اور لاینحل بنا کر رکھ دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس بھی اس کار بد میں پیچھے نہیں ہے۔ مردان کی عاصمہ ہو یا ڈیرہ اسماعیل خان کی شریفہ ہویا پھر مشال خان کیس ہو۔ اصل مجرمان ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ تفتیشی نظام میں نا اہلیت کا شکار ہو جانے والی پولیس کے بعد اب عوام کا حکومتی تفتیشی اداروں سے اعتبار اٹھ گیا ہے جس کے بعد اب ہر قابل ذکر واقعے کی تفتیش جے آئی ٹی کے سپرد کی جانے لگی ہے۔

rao-anwar-naqeeb-ullah-

انگریزی کا ایک محاورہ ہے گند کو قالین کے نیچے چھپا دینا۔  پاکستانی قوم مجموعی طور پر اس محاورے کی اصل تصویر بن چکی ہے۔ ہم ہر گند کو قالین کے نیچے چھپا کر بے فکر ہوجاتے ہیں کہ ہم نے صفائی کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر اوپر سے سب صاف نظر آتا ہے مگر ساتھ ساتھ بدبو سے دماغ بھی پھٹا جاتا ہے۔ اصل گند ہمارے قالین کے نیچے ہے اور ہم صفائی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری ایک تجویز ہے۔ ہماری حکومت اور ہم خود اپنے بچوں کی حفاظت میں ناکام ہو چکے ہیں۔ کیوں نہ اپنے بچوں کو دشمن سے بچانے کے لیے ہر گلی محلے میں ایک ایک جے آئی ٹی تشکیل دے دی جائے؟

 

The post ہمیں دشمن سے بچوں کو بچانا ہے appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2DRxXjj

گاندھی جی کی ناکامی کے آخری دن

میں نے آنکھ مسلم قوم پرست تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دلی میں کھولی تھی۔ 1947ء کے ستمگر فسادات کے دوراں نئی دہلی سے دس میل دور جمنا کی آگرہ جانے والی نہر کے کنارے، جامعہ جو تین سمت ہندووں کے گائوں سے گھری ہوئی تھی، چار ماہ سے بد ترین محاصرہ میں تھی۔ عالم یہ تھا کہ برابر کے گاوں جولینا میں جہاں آٹا پیسنے کی واحد چکی تھی وہاں تک کسی کو جانے کی ہمت نہیں تھی۔ آٹے کی قلت کی وجہ سے سب کو مطبغ کی تندوری روٹی کے چار حصے کاٹ کر ایک چوتھائی روٹی ملتی تھی۔ گوشت کا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا گودام میں برسوں رکھی پرانی کیڑے لگی دال پر گزارہ تھاجسے کھاتے وقت پلیٹ میں کیڑے تیرتے نظر آتے تھے۔ پرانی دلی میں خونریز فسادات کی آگ بھڑکی ہوئی تھی اور شہر جانے کے تمام راستے بند تھے ہر رات جمنا پار سے ”دھاڑ”(حملے) کا خطرہ رہتا تھا۔ جامعہ کالج کے پرنسپل جے بی کیلاٹ صاحب اور جامعہ کے ثانوی مدرسے کے نگران،علامہ مشرقی کے داماد، اختر حمید خان صاحب جامعہ کے دفاع کے سپہ سالار تھے، جن کی سربراہی میں جامعہ کے اساتذہ اور طالب علم سارے دن اور ساری رات پہرہ دیتے تھے۔ صورت حال اس وقت اور ناگفتہ بہ ہوگئی تھی جب جمنا پار کے دیہاتوں سے مسلمانوں نے حملوں سے اپنی جان بچا کر جامعہ میں پناہ لی تھی۔

gandhi in south african army

10 جنوری کو ایک کار بڑی تیزی سے جامعہ میں داخل ہوئی۔ سب لوگ گھبرا گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کار سے گاندھی جی اتررہے ہیں، جو نوا کھالی اور بہار کے خونریز فسادات کے بعد جہاں حسین شہید سہروردی ان کے ساتھ امن کی کوششوں میں مصروف تھے، دلی لوٹتے ہی سیدھے جامعہ آئے تھے۔ گاندھی جی تین گھنٹے تک جامعہ میں رہے اور سارے وقت،مسلم پناہ گزینوں کے بیچ بیٹھے رہے اور انہیں تسلی دیتے رہے۔ بار بار ایک لمبی آہ بھر کر اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہتے، بہت برا ہوا، بہت برا ہوا۔ ان کے چہرے سے کرب اور شدید ناکامی کا احساس عیاں تھا۔ کہہ رہے تھے کہ میں پاکستان جا کر ان سب بھائیوں کو اپنے ساتھ واپس لائوں گا جو یہاں سے چلے گئے ہیں۔ جامعہ سے جاتے ہوئے کہنے لگے کہ میں فسادات کو رکوانے اور پاکستان کی رکی ہوئی پچیس کروڑ کی رقم کی ادائیگی کے لئے مرن برت رکھوں گا۔

9_Gandhi_Kasturba

چنانچہ دوسرے روز جب برلا مندر میں گاندھی جی کے مرن برت کی خبر آئی تو جامعہ کے اساتذہ اور طلباء شدید خوف کے باوجود محاصرے سے باہرنکلے اور آس پاس کے دیہاتوں کی گلیوں میں ڈرتے ڈرتے جلوس نکالا۔ نعرہ لگا رہے تھے،”ہندو مسلم ایک ہو جائو۔ گاندھی جی کی جان بچائو” گائوں والے یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئے اور پھر یہی نعرے لگاتے ہوئے جلوس میں شامل ہوگئے، یہ ایسی جیت تھی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ گاندھی جی کا برت پانچ روز تک جاری رہا اور اس دوران فرقہ وارانہ فسادات کی آگ یکسر ٹھنڈی ہوگئی اور ہندوستان کی حکومت نے پاکستان کی رکی ہوئی رقم بھی ادا کردی۔

History_Gandhi_on_Arrival_in_Britain_Speech_SF_still_624x352

اس زمانے میں جامعہ میں بجلی نہیں آئی تھی۔ لالٹینیں اور گیس کے ہنڈے جلتے تھے۔ خاص خاص موقعوں پر جب اجتماعی طور پر ریڈیو سننا ہوتا تھا تو کار کی بیٹری لگا کر سنا جاتا تھا۔ میں نے البتہ جامع مسجد کے عقب میں کباڑی بازار سے پرانے ہیڈ فون کی ایک جوڑی، تانبے کے تار کا کویل اور کرسٹل کی ڈلی خرید کر ایک چھوٹا سا ریڈیو بنا رکھا تھا جس پر اونچا ایریل لگا کر اور زمین میں گہرا ارتھ گاڑ کرصرف مقامی ریڈیو اسٹیشن سنا جا سکتا تھا۔

30 جنوری کی شام کو چھ بجے کے قریب میں ریڈیو سن رہا تھا کہ اچانک ایک دھماکہ کی طرح اعلان ہوا کہ گاندھی جی کی ہتیا ہو گئی ہے۔ میں نے بھاگ کر جب اپنے اساتذہ کو یہ خبر بتائی تو کسی کو یقین نہیں آیا اور انہوں نے خود آکرتصدیق کے لئے میرے ریڈیو پر خبر سنی۔ کوئی بیس منٹ بعد پنڈت نہرو نے ریڈیو پر خطاب کیا، سخت رندھی ہوئی آواز میں لیکن بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ باپو کو ایک ہندو نے قتل کیا ہے۔ گاندھی جی ہماری زندگی سے چلے گئے، اوراب چاروں طرف اندھیرا ہے۔ باپو کے ساتھ ہماری روشنی چلی گئی۔

nathuram godse confronting gandhi before assassination

 

nathu ram godse

میرے اساتذہ نے کہا کہ پنڈت نہرو نے نہایت دانشمندی سے کام لیا ہے اور یہ واضح کر دیا کہ گاندھی جی کو ایک ہندو نتھو رام گوڈسے نے قتل کیا ہے ورنہ فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے جو شدید کشیدگی ہے، اس میں پورے ملک میں آگ لگ جاتی اور مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہوجاتا۔

02DMCSMITHhk1

گاندھی جی کے قتل کے ستر سال بعد اب بھی مجھے جامعہ میں ان کی آمد پر ان کا وہ چہرہ یاد آتا ہے جس پرچھایا ہوا کرب اپنی ناکامی کا اعلان کر رہا تھا۔ خود گاندھی جی کا قتل ان کے عدم تشدد کے نظریہ کی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ گاندھی جی ہندوستان کی سیاست پر تین دہائیوں تک چھائے رہے اور ہندو اکثریت نے انہیں مہاتما کا درجہ دیا لیکن اس کے باوجود وہ ہندوستان کے عوام کے ذہنوں کو بدلنے اور ان میں عدم تشدد کے نظریہ کو حقیقی طور پر تسلیم کرنے کی کوشش میں یکسر ناکام رہے۔ سب سے بڑا خون آشام ثبوت تقسیم ہند کے وقت فرقہ وارانہ فسادات ہیں جن میں دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جانیں ایسے ہولناک انداز سے گئیں کہ جیسے آزادی کے لئے ان کی بھینٹ چڑھائی گئی ہے۔

mahatma-gandhi---a-legacy-of-peace

اس ہولناک تشدد کے باوجود یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کی آزادی گاندھی جی کے عدم تشدد کے نظریہ کی مرہون منت ہے۔ بلا شبہ گاندھی جی کا عدم تشدد کا نظریہ ہندوستان میں انگریز راج کے لئے نعمت تھا۔1920 میں ترکی کی خلافت کی حفظ و بقاء کے لئے جب مولانا محمد علی جوہرکی قیادت میں ہندوستان میں مسلمانوں کی تحریک اٹھی جو برطانوی راج کے خلاف جہاد کے جذبہ سے معمور تھی۔ اس تحریک کی خاطر مسلمانوں نے سرکاری نوکریاں اور انگریزی تعلیمی ادارے چھوڑ دیے اور بیس ہزار سے سے زیادہ مسلمان ہجرت کرکے افغانستان چلے گئے تو اس موقع پر انگریزوں کو مسلمانوں کی مسلح جدو جہد کا شدید خطرہ تھا۔ انگریزوں نے یہ جانتے ہوئے کہ خلافت کا مسئلہ خالصتاً مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے، گاندھی جی کو شہہ دی کہ وہ اس تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیں تاکہ تحریک تشدد کا رخ اختیار نہ کر پائے۔ یہ بات انتہائی حیرت کی تھی کہ گاندھی جی کی قیادت میں تحریک خلافت کا وفد وائسرائے سے ملنے گیا تو وائسرائے نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ گاندھی جی آپ کا مسلمانوں کی خلافت سے کیا تعلق؟ بلکہ گاندھی جی کی قیادت میں خلافت کے وفد کی پذیرائی کی۔

nehru-mahatma-gandhi

انقلابی اور ہندوستان کی آزادی کے لئے مسلح جدو جہد پر یقین رکھنے والے رہنما سبھاش چندر بوس،1938ء اور1939ء میں لگا تار دو بار کانگریس کے صدر منتخب ہوئے۔ انگریزوں کو ان سے شدید خطرہ تھا چنانچہ انگریزوں نے بڑی ترکیب سے گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے ذریعہ پہلے سبھاش چندر بوس کو کانگریس کی قیادت سے ہٹایا اور پھر کانگریس ہی سے انہیں خارج کردیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انگریزوں نے گاندھی جی کے عدم تشدد کے نظریہ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا لیکن خود گاندھی جی اپنے اس نظریہ میں کامیاب ثابت نہیں ہوسکے۔

30 جنوری 1948ء کو برلا مندر کے سبزے پر ہندو قوم پرست اور مسلم دشمن آر ایس ایس کے کٹر حامی نتھو
رام گوڈسے کے ہاتھوں قتل ہونے کے نصف صدی کے بعد خود گاندھی جی کے صوبہ گجرات میں آر ایس ایس کے کٹر حامی نریندر مودی کے راج میں تین ہزار مسلمانوں کا جس بہیمانہ انداز سے قتل عام ہوا، وہ گاندھی جی کے عدم تشدد کے نظریہ کی ناکامی کا نا قابل تردید ثبوت ہے۔

گاندھی جی کے قتل کے بعد پنڈت نہرو نے صحیح کہا تھا کہ ملک کے عوام کی زندگی سے روشنی چلی گئی ہے۔ عدم تشدد کا نظریہ جسے گاندھی جی نے ہندوستان کے لئے روشنی بنانا چاہا تھا واقعی ہمیشہ کے لئے ناکامی کے اندھیرے میں گم ہوگیا ہے۔

The post گاندھی جی کی ناکامی کے آخری دن appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2nsIYMU

کمزور ادارتی پالیسی کا شاخسانہ

گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکرپرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے اپنے پروگرام میں زینب قتل کیس کے نامزد ملزم عمر ان کے37عدد بینک اکاؤنٹس ہونے کادعوی کیا گیا۔ اینکرپرسن کا یہ دعویٰ ناقص معلومات پر مبنی تھا، جس کوتمام صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے دوران پروگرام کیے جانے والے اس اینکر کے دعویٰ کوقتل کیس کی اہمیت کے مطابق تحقیقات کاحصہ بناتے ہوئے سوموٹو ایکشن لیا اور ڈاکٹر شاہد مسعود کو تمام شواہد کے ساتھ عدالت پیش ہونے کے احکامات دیے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیق کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے گئے لیکن یہ خبر اس وقت بری طرح باؤنس ہوئی جب سٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے ان معلومات کے غلط ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

صحافتی حلقوں کی جانب سے اینکر پرسن کی ان معلومات کو پہلے ہی ناقص قرار دیا جارہا تھا کیوں کہ اس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے وہ صحافی حضرات جو کہ تحقیقاتی رپورٹنگ کا تجربہ رکھتے ہیں، بخوبی واقف تھے کہ ان معلومات کو اتنے قلیل وقت میں حاصل کرنا اتنا آسان نہیں اور پاکستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پر عمل درآمد ابھی ایسا نہ ہے کہ نادرا جیسا کوئی بھی وفاقی ادارہ اتنی آسانی سے اپنی معلومات تک کسی صحافی کورسائی دے۔ لہٰذا یہ بات تو واضح تھی کہ اینکرپرسن کی جانب سے جارحانہ انداز میں یہ غلط معلومات اپنے پروگرام میں شیئر کرنا صرف پروگرام کی ریٹنگ کی خاطر ناظرین کو گمراہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سوموٹو لیے جانے کے بعد مختلف چینلز پراس معلومات بارے کی جانے والی تنقید نہ صرف اینکر پرسن کی ساکھ کے لیے سوالیہ نشان بن چکی تھی، بلکہ عدلیہ بھی اس خبر کی تصدیق کو یقینی بنانے میں دلچسپی لیتی نظر آئی، کیونکہ یہ براہ راست ملک کے چوتھے بڑے ستون (میڈیا) کی ساکھ کا معاملہ تھا۔ اس غیر معمولی نوعیت کے کیس کی سماعت کے لیے مورخہ 28 جنوری بروز اتوار کو چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کے میڈیا چینلز کے مالکان اور صف اول کے صحافیوں کو سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں حاضری یقینی بنانے کے نوٹسز جاری کیے او ر مقررہ تاریخ پر ہم نے ملک کے نامور صحافیوں کو عدالت کے روبرو دیکھا۔ چیف جسٹس کی جانب سے اس موقع پر اینکر پرسن کی جانب سے اپنی معلومات کو مؤثر ثابت نہ کرنے پرسرزنش کی گئی۔

نجی چینل پر اپنے پروگرام کے دوران ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے غیر تصدیق شدہ معلومات کا تبادلہ اور ناظرین کو گمراہ کرنا درحقیقت صحافتی اقدار کی پامالی اور ہمارے نجی میڈیا اداروں کی ادارتی پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کا ثبوت ہے۔ پاکستان میں اس انڈسٹری کے اوائل میں جب اخبارات ہی معلومات کا بڑا ذریعہ سمجھے جاتے تھے، تو ان اشاعتی اداروں میں سینئرصحافیوں پرمشتمل ایڈیٹوریل بورڈ قائم ہوتا تھاجو کہ نشرواشاعت کے قواعد وضوابط طے کرتا تھا۔ 2002ء کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے اپنی جگہ بنانا شروع کی تو اخبارات سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد نے الیکٹرانک میڈیا کے شعبہ کوجوائن کیا اور اخباری صنعت کے طرز پر چینلز کے لیے بھی قواعد و ضوابط طے کیے گئے۔ لیکن اگر ہم اب ملک کے ان 80 سے زائد نیوز چینلزپر نشر کیے جانے والے مواد کاجائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ چند ایک صف اول کے چینلز کے علاوہ دیگر چینلزمیں خبر کی جانچ پڑتال اور تصدیق کاعمل یقینی بنانے کے کوئی اقدامات نہ ہیں۔ ریٹنگ اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے خاطر ناقص معلومات پر مبنی مواد کا نشر کیا جانا اب ایک رواج بن چکا ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے کیس میں بھی کچھ ایسی ہی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا اورچینل منتظمین کی جانب سے دوران پروگرام کیے جانے والے غلط معلومات کے تبادلہ کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہ کیے جاسکے، جس کا خمیازہ شرمندگی کی صورت میں پوری صحافی برادری کو بھگتنا پڑا۔ ضرورت اس امر کی ہے تمام چھوٹے بڑے چینلز یہ یقینی بنائیں کہ خبر تصدیق شدہ اور تمام فریقین کے مؤقف پر مشتمل ہو، تاکہ کوئی بھی صحافی کسی خاص ایجنڈا کی خاطر اس سکرین کاغلط استعمال نہ کرے۔

The post کمزور ادارتی پالیسی کا شاخسانہ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2DRxEVH

پاکستان میں شدید زلزلے کے جھٹکے،بچی جاں بحق،8افراد زخمی

اسلام آباد / لاہور / پشاور /نئی دہلی / کابل : پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، پاکستان میں زلزلے سے ایک بچی جاں بحق، جب کہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔ دیگر علاقوں سے بھی مختلف مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تفصیلات کے...

The post پاکستان میں شدید زلزلے کے جھٹکے،بچی جاں بحق،8افراد زخمی appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2DT0UuQ

آج دنیا بھر میں چاند گرہن، سپرمون اور بلیومون کا نظارہ ہوگا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ آج ایک ساتھ چاند کے تین روپ دیکھیں گے، دنیا بھر میں آج چاہد گرہم، سپر اور بلیو مون کے نظارے ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق ڈیڑھ سو سال چندا میاں ایک بار پھر رومانوی منظر پیش کرنے کو تیار ہیں۔ دنیا بھر میں آج شام سے لوگ مہتاب کے...

The post آج دنیا بھر میں چاند گرہن، سپرمون اور بلیومون کا نظارہ ہوگا appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2ntwqog

پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پرچل پڑی

کراچی: غیرملکی سرمایہ کاروں نے پاکستانی معاشی منڈیوں کارخ کرلیاہے۔عالمی فنڈز کی مد میں سال کے پہلے ماہ کے دوران 91 ملین ڈالر کا سرمایہ پاکستان میں آیا۔ امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ میں جنوری 2018 میں پاکستانی معاشی مارکیٹ میں 91 ملین ڈالر سرمایہ آیا۔ یہ رقم 4برسوں کے دوران کسی بھی ماہ...

The post پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پرچل پڑی appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2DQM34c

زرداری کےپاس جنوبی پنجاب کاصوبہ بنانے کاموقع تھا،جو ضائع کیا

اسلام آباد : زرداری کے پاس موقع تھا کہ وہ جنوبی پنجاب صوبہ بناتے، وہ صدر تھے، وزیراعظم بھی ان کا تھا، مگر اب الیکشن آ رہا ہے تو وہ پھر اس پر سیاست کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آمد کے موقع پر میڈیا سے گفت گو میں پی ٹی آئی کے...

The post زرداری کےپاس جنوبی پنجاب کاصوبہ بنانے کاموقع تھا،جو ضائع کیا appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2npsViK

پاکستان میں زلزلہ،آوران اورلسبیلہ لرزگئے

کوئٹہ: بلوچستان کے شہر آواران اورلسبیلہ میں زلزلےکے جھٹکے محسوس کئےگئے۔ سماءکےمطابق زلزلہ پیما مرکز نے بتایاہےکہ زلزلےکی شدت4.9 اورگہرائی23کلومیٹرریکارڈ کی گئی ۔ زلزلہ پیمامرکز کےمطابق آوران اور لسبیلہ میں آنےوالے زلزلےکامرکزبیلہ سے20کلومیٹردورمشرق میں تھا۔ زلزلے سے فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ سماء

The post پاکستان میں زلزلہ،آوران اورلسبیلہ لرزگئے appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2DQLUxG

ڈاکٹر شاہد مسعود کون ہے؟

پچھلے دنوں میں فیس بک کی ٹائم لائن اسکرول کر رہا تھا تو ایک ویڈیو سامنے آئی میں جس میں ایک بزرگ آدمی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ علامہ اقبال اُن کے خواب میں آئے اور انہوں نے اُس بزرگ کو صدر پاکستان بنا دیا ہے، قرآن پا ک کی سورتیں سنی ہیں اور...

The post ڈاکٹر شاہد مسعود کون ہے؟ appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2ntwc0o

افغانیوں کی 40سال بعد واپسی

****تحریر : محمد فہیم**** سال1979میں سویت یونین نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد پاکستان نے دنیائی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی میزبانی کی۔ یہ افغان مہاجرین 40سال تک پاکستان میں مقیم رہنے کے بعد اب وطن واپسی...

The post افغانیوں کی 40سال بعد واپسی appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2DOC1Rk

پی ٹی آئی کا چوہدری سرورسے متعلق اہم فیصلہ

اسلام آباد: پي ٹي آئي نےپنجاب سےچوہدری سرورکوسینیٹ الیکشن لڑانےکافیصلہ کیاہے۔ سماءکےمطابق پی ٹی آئی نے سابق گورنر پنجاب چوہدری سرورکواہم ذمہ داری سونپنےکافیصلہ کیاہے۔ پی ٹی آئی نے پنجاب سے چوہدری سرور کو سینٹ الیکشن لڑانےکافیصلہ کیاہے۔ پی ٹی آئی قیادت نےچوہدری سرورکوفیصلےسےآگاہ کردیا ہے۔ اس حوالےسے چوہدری سرورنےمشاورت کےلیےوقت مانگ لیاہے۔ یہ فیصلہ...

The post پی ٹی آئی کا چوہدری سرورسے متعلق اہم فیصلہ appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2ntg6Eb

صادق و امین کی بنیاد پر نا اہلی،سپریم کورٹ میں آج پھر سماعت

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی مقدمے کی سماعت آج پھر ہوگی، صادق اور امین نہ ہونے کی بنیاد پر نااہلی تاحیات ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ میں آئینی مقدمے کی سماعت آج پھر ہوگی، دوسری بار نوٹس جاری ہونےپر سابق وزیراعظم نواز شریف نے اعظم تارڑ ایڈووکیٹ کے ذریعے پیش ہونےکا...

The post صادق و امین کی بنیاد پر نا اہلی،سپریم کورٹ میں آج پھر سماعت appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2DSkW8T

لیاری ایکسپریس وے : مسافروں کی مشکلات میں آسانی

کراچی: شہر قائد کے باسیوں کیلئے پندرہ برس سے زائد عرصے سے زیر تعمیر لیاری ایکسپریس وے کا افتتاح کردیا۔ پندرہ برس بعد مکمل ہونے والے کراچی کے لیاری ایکسپریس وے کے نارتھ باؤنڈ کیرج وے کاافتتاح کردیا گیا ہے بیس پلوں اورچار انٹر چینجز پر مشتمل 38 کلومیٹر طویل منصوبہ اربوں روپے کی لاگت...

The post لیاری ایکسپریس وے : مسافروں کی مشکلات میں آسانی appeared first on Samaa Urdu News.



from Samaa Urdu News http://ift.tt/2nrHUZy

Democratic Response to SOTU


By Unknown Author from NYT U.S. http://ift.tt/2Epj1FU

Why Koreans Are So Good at Speedskating


By JAY CASPIAN KANG from NYT Magazine http://ift.tt/2DYVjCG

The Unabashed Beauty of Jason Brown on Ice


By PATRICIA LOCKWOOD from NYT Magazine http://ift.tt/2DQzGoM

What Cross-Country Skiing Reveals About the Human Condition


By SAM ANDERSON from NYT Magazine http://ift.tt/2rTHAbq

The First African Team to Compete in Bobsled


By As told to JAIME LOWE from NYT Magazine http://ift.tt/2rRIMw9

The Search for Stillness at the Heart of Biathlon


By BROOKE JARVIS from NYT Magazine http://ift.tt/2nrkgfG

Full Transcript and Video: Joe Kennedy Delivers Democratic Response to the State of the Union


By THE NEW YORK TIMES from NYT U.S. http://ift.tt/2nt0r7E

Trump’s Volk und Vaterland


By ROGER COHEN from NYT Opinion http://ift.tt/2ErISx0

Trump’s Besotted Republicans


By KEVIN BAKER from NYT Opinion http://ift.tt/2DYXHcC

Trump Tries for a Reset


By ROSS DOUTHAT from NYT Opinion http://ift.tt/2BF1Wow

A ‘Feel-Good’ Room


By NATALIE PROULX from NYT The Learning Network http://ift.tt/2rW1fY6

Word + Quiz: obstinate


By THE LEARNING NETWORK from NYT The Learning Network http://ift.tt/2E4d181

‘Gloomy.’ ‘Amazing.’ Trump’s Speech Divides the Pundits.


By MICHAEL M. GRYNBAUM from NYT Business Day http://ift.tt/2FvxiQV

State of the Union, Syria, the Moon: Your Wednesday Briefing


By PATRICK BOEHLER from NYT Briefing http://ift.tt/2Erk0FH

What’s on TV Wednesday: ‘Animals With Cameras’ and ‘Happy!’


By ANDREW R. CHOW from NYT Arts http://ift.tt/2DOSR2m

Gearing Up for Distance and Form in Nordic Combined


By By from NYT Magazine http://ift.tt/2EpqmW3

Melania Trump, Traveling Again Without Her Husband, Emerges at State of the Union


By KATIE ROGERS from NYT U.S. http://ift.tt/2rVQMw5

Kristaps Porzingis and Enes Kanter Lead Knicks in Rout of Nets


By THE ASSOCIATED PRESS from NYT Sports http://ift.tt/2nkLndi

Corrections: January 31, 2018


By Unknown Author from NYT Corrections http://ift.tt/2DPRYXj

Trump’s Boring, Utterly Terrifying Warmongering


By MICHELLE GOLDBERG from NYT Opinion http://ift.tt/2nnmyNO

Fox News Breaking News Alert

Fox News Breaking News Alert

Trump says he’s ‘100 percent’ behind releasing FISA surveillance memo

01/31/18 12:34 AM

Fox News Breaking News Alert

Fox News Breaking News Alert

Trump: 'I am keeping another promise' by signing order to keep Guantanamo Bay prison open

01/30/18 10:15 PM

Fox News Breaking News Alert

Fox News Breaking News Alert

Trump invites Dems to help protect all US citizens 'because Americans are dreamers too'

01/30/18 9:54 PM

Fox News Breaking News Alert

Fox News Breaking News Alert

Trump says honoring veterans is ‘why we proudly stand for the national anthem’

01/30/18 9:37 PM

Fox News Breaking News Alert

Fox News Breaking News Alert

Clinton, moments before SOTU, explains why she didn't fire campaign adviser

01/30/18 9:31 PM

State of the Union: Trump hails 'new American moment'

The president speaks of "one American family", but Democrats say he has left the nation "fractured".

from BBC News - World http://ift.tt/2Gykn1A

Taliban threaten 70% of Afghanistan, BBC finds

The Islamist group's power and reach have surged since foreign combat troops left, the BBC finds.

from BBC News - World http://ift.tt/2GxHfyf

Pope to send envoy to investigate Chile sex abuse claims

The Vatican says it has been given new information about allegations of a bishop's alleged cover-up.

from BBC News - World http://ift.tt/2DOA6rH

Trump signs order to keep Guantanamo Bay prison open

The move reverses attempts by former President Barack Obama to close the controversial site.

from BBC News - World http://ift.tt/2GyqPpl

Hawaii false alarm: Officials quit over missile alert

Additionally the employee who sent the warning, who had a record of poor performance, is fired.

from BBC News - World http://ift.tt/2GwFtNV

عامر خان بیوی کی توہین پر کینیڈین باکسر پر ٹوٹ پڑے

لندن: پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے اپنی بیوی فریال مخدوم اور نجی زندگی کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے پر پریس کانفرنس کے دوران سب کے سامنے کینیڈین باکسر فل لو گریکو کے منہ پر پانی کا گلاس دے مارا۔

گزشتہ روز باکسر عامر خان اور ان کے حریف باکسر  فل لو گریکو کے درمیان ایک پریس کانفرنس کے دوران اس وقت بدمزگی پیدا ہوگئی جب گریکو نے سب کے سامنے نہ صرف عامر خان کی نجی زندگی کے بارے میں بولنا شروع کردیا بلکہ ان کی بیوی فریال مخدوم اور اینتھنی جوشوا کے تعلقات کے بارے میں بھی نازیباکلمات کہنے شروع کردئیے۔ پہلے تو عامر خان گریکو کی بات پر مسکراتے رہے تاہم جب معاملہ ان کی برداشت سے باہر ہوگیا تو انہوں نے ٹیبل پر رکھا ہوا پانی کا گلاس گریکو کے منہ پر دے مارا اور اس کے بعد ان پر مکے برسانے کی کوشش کی تاہم تقریب میں موجود دیگرافراد نے بیچ بچاؤ کرایا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق باکسر عامر خان تقریباً 2 سال بعد ایک بار پھر رنگ میں اتر رہے ہیں اور ان کی پہلی فائٹ 33 سالہ کینیڈین باکسر فل لو گریکو کے ساتھ 21 اپریل کو ہوگی۔ دونوں اسی حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں شریک تھے جب گریکو نے عامر خان کی نجی زندگی کو نشانہ بنانا شروع کردیاجسے سن کر عامر خان سخت اشتعال میں آگئے  اور سامنے رکھا پانی کا گلاس گریکو کے منہ پر دے مارا جس کے جواب میں گریکو نے عامر خان پر حملہ کردیا۔

تاہم موقعے پر موجود دیگر افراد اور پروموٹرز نے دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کرایا اس طرح یہ لڑائی مزید بڑھنے سے پہلے رک گئی۔ دونوں کے درمیان لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس عامر خان اور ان کی اہلیہ فریال مخدوم اپنی گھریلو زندگی اور تنازعات کے باعث ساراسال خبروں کی زینت بنے رہے تھے۔ فریال مخدوم نے عامر خان کے گھروالوں پر الزام لگایا تھا کہ ان کے سسرالیوں اک رویہ ان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے بعد ازاں عامر خان نے فریال کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے واپس لیتے ہوئے انہوں نے سب کچھ ٹھیک ہونے کا اعلان کیا۔

The post عامر خان بیوی کی توہین پر کینیڈین باکسر پر ٹوٹ پڑے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2E2Y1XS

Glee actor Mark Salling, 35, found dead

The actor, who had admitted possessing child sex abuse images, is believed to have killed himself.

from BBC News - World http://ift.tt/2DXW3b3

Skywatchers await 'super blue blood Moon'

A blue blood supermoon and lunar eclipse across Asia heralds a year of lunar science milestones, say scientists.

from BBC News - World http://ift.tt/2DNjDYM

Diane Keaton defends Woody Allen over abuse allegations

The actress says she "continues to believe" the director after claims against him resurfaced.

from BBC News - World http://ift.tt/2Gu0XuS

Yemen separatists capture most of Aden, residents say

Yemeni cabinet ministers are reported to be holed up inside the presidential palace in Aden.

from BBC News - World http://ift.tt/2GxRIdk

France jogger death: Husband admits killing Alexia Daval

Three months after Alexia Daval's body was found, her husband tells police he killed her by mistake.

from BBC News - World http://ift.tt/2Frace3

Pierre Agnes: Boardriders boss goes missing at sea in France

Pierre Agnes' boat was discovered washed ashore near Biarritz on France's Atlantic coast.

from BBC News - World http://ift.tt/2rQAhkF

The killer whale that can say 'hello' and 'bye bye'

A killer whale that can mimic words such as "hello" is thought to be the first of its kind to copy human speech.

from BBC News - World http://ift.tt/2nqKlfJ

State of the Union: Congress divided on Trump speech

The contrasting reactions to the president's speech tell the tale of a deeply divided Congress.

from BBC News - World http://ift.tt/2nozzH0

State of the Union: Kennedy delivers response to Trump

Joseph Kennedy III attacked the president and said Democrats were speaking for all Americans.

from BBC News - World http://ift.tt/2BGLowb

Taliban 'threaten 70% of Afghanistan' BBC investigation finds

The Afghan Taliban, which US-led forces spent billions of dollars trying to defeat, are now openly active in 70% of the country, a BBC study has found.

from BBC News - World http://ift.tt/2rQlZRb

Super blue blood moon: Get ready for a rare celestial show

A lunar eclipse, supermoon and blue moon are about to happen at once. Here's what you need to know.

from BBC News - World http://ift.tt/2DQmXOX

Why did Kenya's Raila Odinga 'inaugurate' himself as president?

Kenya's main opposition leader stages his own "swearing-in" after two disputed elections. We explain.

from BBC News - World http://ift.tt/2E0X0Q0

Stranded skiers' chairlift chopper rescue

Rescuers were lowered from a helicopter to help up to 150 skiers stuck on a mountain in Austria.

from BBC News - World http://ift.tt/2DNsFFr

Réunion island and the 'stolen children' of France

Marlène Morin was 15 when she was resettled from the island of Réunion to France. After 52 years, she finally returned.

from BBC News - World http://ift.tt/2rQmV8l

Top-secret Australian files 'left at second-hand shop'

Bureaucrats say they will urgently investigate a breach that has sparked both amusement and concern.

from BBC News - World http://ift.tt/2BFFhIG

'Emotional support peacock' barred from United Airlines plane

United Airlines refuses to let a woman in New Jersey board a plane with a peacock, citing its size.

from BBC News - World http://ift.tt/2rVgVLc

State of the Union: The North Korean defector at Trump's side

North Korean defector Ji Seong-ho waved his crutches to resounding applause when Trump called him up.

from BBC News - World http://ift.tt/2DZ8LX8

Used clothes: Why is worldwide demand declining?

As the worldwide demand for used and worn clothing plummets, what do we do with our unwanted clothes?

from BBC News - World http://ift.tt/2EqeIKC

'I was 12 when I married a 35-year-old'

A campaign in several African countries wants to stop child brides and keep girls in education.

from BBC News - World http://ift.tt/2nqZsF4

The tea boss with a thirst for global domination

How businessman Tran Qui Thanh built Vietnam's largest soft drinks firm, THP, and his plans to become a worldwide brand.

from BBC News - World http://ift.tt/2FxKrc1

Bollywood's troubled relationship with women

Film critic Shubhra Gupta shines a spotlight on the history of sexism in Indian films.

from BBC News - World http://ift.tt/2nsu0Xf

'Chemtrail' conspiracy theorists: The people who think governments control the weather

The first part of the BBC's series on online conspiracy theories: why some people think chemicals are dropping from the sky.

from BBC News - World http://ift.tt/2DQkWX9

Wikipedia article of the day for January 31, 2018

The Wikipedia article of the day for January 31, 2018 is Cape sparrow.
The Cape sparrow (Passer melanurus) is a southern African bird. A medium-sized sparrow at 14–16 centimetres (5.5–6.3 in), it has distinctive grey, brown, and chestnut plumage, with large pale head stripes in both sexes. The male has some bold black and white markings on its head and neck. The species inhabits semi-arid savannah, cultivated areas, and towns, from the central coast of Angola to eastern South Africa and Swaziland. Cape sparrows primarily eat seeds, along with soft plant parts and insects. They typically breed in colonies, and search for food in large nomadic flocks. The nest can be constructed in a tree, bush, cavity, or disused nest of another species. A typical clutch contains three or four eggs, and both parents are involved, from nest building to feeding the young. The species is common in most of its range and coexists successfully in urban habitats with two of its relatives, the native southern grey-headed sparrow and the house sparrow, an introduced species. The Cape sparrow's population has not decreased significantly, and is not seriously threatened by human activities.

Five tips to keep your app data safe online

After a fitness app "heatmap" revealed military information, what are your devices saying about you?

from BBC News - Technology http://ift.tt/2nni2yE

لونگ کے حیرت انگیز طبی فوائد

 کراچی: انڈونیشیا سے لے کر پاکستان تک لونگ کو کئی ادویہ سمیت کھانوں میں مہک اور ذائقے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم اب ماہرین نے اس چھوٹی سی شے کے کئی اہم خواص دریافت کیے ہیں جو انسانوں میں شفا کی وجہ بن سکتے ہیں۔

کئی ممالک میں لونگ کو کئی امراض کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے تحقیق کے بعد لونگ کے درج ذیل طبی فوائد بیان کیے ہیں۔

منہ کو صحت مند رکھے

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ منہ کی اندرونی صحت اور تندرستی برقرار رکھنے کے لیے لونگ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سائنس دانوں نے لونگ کے ماؤتھ واش کا موازنہ دنیا کے بہترین ماؤتھ واش سے کیا تو انکشاف ہوا کہ لونگ سے بنے ماؤتھ واش دنیا کے مہنگے ماؤتھ واش سے بہتر اور مؤثر ہوتے ہیں۔

لونگ سے بنے ماؤتھ واش، مسوڑھوں کی خرابی اور دانتوں پر جمے میل کو کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوئے ہیں۔ لونگ میں موجود طاقتور اجزا منہ کے جراثیم ختم کرکے جلن اور سوزش کو کم کرتے ہیں۔

ذیابیطس بھگائے 

ایک تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ لونگ سے حاصل ہونے والا ایک جزو نائگریسن چوہوں میں انسولین جذب ہونے کا عمل بڑھاتا ہے اور انسولین سے مزاحمت کو کم کرتا ہے۔ یہ چوہے ذیابیطس کے شکار تھے اور نائگریسن لبلبے کو بہتر بناکر بی ٹا سیل کی کارکردگی کو بھی بڑھاتے ہیں۔

ماہرین نے لونگ کی افادیت معلوم کرنے کے لیے اس کا پاؤڈر بنایا اور چوہوں کو کھلایا۔ جن چوہوں کو لونگ کا سفوف دیا گیا ان میں دیگر چوہوں کے مقابلے میں شکر کی مقدار کم ہوئی جو خون میں گلوکوز کی شرح کے تحت ناپی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس تجربے میں چوہوں کے دونوں گروہ ذیابیطس کے شکار تھے۔

 کینسر کے خلاف ایک ہتھیار

لونگ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس خلیاتی سطح پر ٹوٹ پھوٹ اور ڈی این اے کے بگاڑ کو روکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اینٹی آکسیڈنٹس کی جتنی مقدار نصف چمچے لونگ کے پاؤڈر میں ہوتی ہے اس کی مقدار نصف کپ بلیوبیری سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لونگ کئی طرح کے سرطانی خلیات کے پھلنے پھولنے کی رفتار کو کم کرتی ہے اور بڑی آنت کے سرطان میں بھی لونگ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ اس عمل کو کینسر کے شکار چوہوں پر بھی آزمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اس سے سرطانی رسولیوں کو کم کرنے میں حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ کینسر تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے اور لونگ اس عمل کو روکتی ہے۔

موٹاپا  دور کرے

لونگ میں موجود مفید اجزا پورے جسم اور خصوصاً جگر پر چربی بننے کے عمل کو کم کرتے ہیں۔ چوہوں پر کیے گئے تجربات سے انکشاف ہوا ہے کہ لونگ سے حاصل شدہ بعض کیمیکل موٹاپے کو روکتے ہیں اور پورے بدن میں چربی کو زائل کرتے ہیں۔

لونگ کے سائیڈ افیکٹس اور دیگر خطرات

لونگ کے تیل کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے کچھ منفی اثرات اور نقصانات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ لوگ کا تیل آنکھوں، سانس کی نالی اور جلد میں سوزش پیدا کرسکتا ہے۔ یہ فوری طور پر بھڑک سکتا ہے اور اگر اس کا تیل پی لیا جائے تو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

رپورٹ شدہ ایک کیس کے مطابق ڈیڑھ سالہ بچے کو لونگ کے تیل کی 10 ملی لیٹر مقدار اس کی ماں نے پلائی جس سے فوری طور پروہ بچہ کوما کا شکار ہوا بعد ازاں اس کا جگر ناکارہ ہوگیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔

اس لحاظ سے لونگ کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے کرنا ہی بہتر ہوگا۔

The post لونگ کے حیرت انگیز طبی فوائد appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2DNApXK

Tuesday, January 30, 2018

Australia Catholic bishops criticise 'foreign influence' laws

Churchgoers risk being treated as agents of the Vatican under Canberra's new spy laws, bishops say.

from BBC News - World http://ift.tt/2DQLQxO

India outcry after eight-month-old baby raped

The girl is in a critical condition at a hospital where she was brought in with "horrific injuries".

from BBC News - World http://ift.tt/2GtwKME

US ends ban on refugees from 'high-risk' countries

Refugees from "high-risk" countries will instead face stricter security measures before entering the US.

from BBC News - World http://ift.tt/2BC4SlK

US House panel votes to release memo on Russia inquiry

US Republicans say the classified memo shows anti-Trump bias at the justice department.

from BBC News - World http://ift.tt/2DMnWDH

Canada 'serial killer' faces more charges

Man faces five counts of first degree murder, three related to men in Toronto's gay community.

from BBC News - World http://ift.tt/2FpvNDu

Argentine president bans family members in government

Ministers will be unable to employ close family and those in government positions will have to leave.

from BBC News - World http://ift.tt/2Fsi5A2

Russian SU-27 warplane 'flew 1.5 metres' from US spy plane

The SU-27 fighter jet was trailing the EP-3 spy plane over the Black Sea in international airspace.

from BBC News - World http://ift.tt/2npw4z5

Chile creates national parks from donated land

The expansion includes land donated by the widow of North Face founder Doug Tompkins.

from BBC News - World http://ift.tt/2DOdQON

Stranded skiers' chairlift chopper rescue

Rescuers were lowered from a helicopter to help up to 150 skiers stuck on a mountain in Austria.

from BBC News - World http://ift.tt/2DNsFFr

Beckham's fans are cheering, but will they show up on match days?

David Beckham's fans are cheering, but will they show up on match days? And what about a stadium?

from BBC News - World http://ift.tt/2GwBBwr

Five tips to keep your app data safe online

After a fitness app "heatmap" revealed military information, what are your devices saying about you?

from BBC News - World http://ift.tt/2nni2yE

Why Cape Town is shutting off its water supply

South Africa's second largest city is in the midst of a severe drought.

from BBC News - World http://ift.tt/2GvyaGv

Philippines: Volcanic mudflows sweep away roads

Rainfall near the erupting Mount Mayon has caused strong mudflows

from BBC News - World http://ift.tt/2rM6aer

Evangelical leader Franklin Graham: Trump is 'work in progress'

US evangelical leader Franklin Graham says President Trump is no model Christian.

from BBC News - World http://ift.tt/2npJBXs

Terminally ill teenager marries high school sweetheart

Dustin Snyder has a rare form of cancer and was recently told he had weeks left to live. So he proposed.

from BBC News - World http://ift.tt/2Em8NGo

'Unsolvable' exam question leaves Chinese students flummoxed

The test question cannot be solved with maths, but officials say that's not the point.

from BBC News - World http://ift.tt/2Gv5Vrm

France to investigate Nutella promotion that led to 'riots'

The finance ministry will check whether a 70% discount that led to "riots" broke trading laws.

from BBC News - World http://ift.tt/2nkAUhP

What really happened after this photo was taken

Eddie Adams captured one of the most famous images of the Vietnam War but he was haunted by it.

from BBC News - World http://ift.tt/2BCSgL4

Palestinians fear cost of Trump's refugee agency cut

Donald Trump's move to withhold payments to the Palestinian refugee agency is causing alarm in Gaza.

from BBC News - World http://ift.tt/2Gtsmx2

Maye Musk: "I am just getting started" as a model, aged 69

Older models are the latest fashion trend, thanks to social media and an aging society.

from BBC News - World http://ift.tt/2Gt1QnC

Migrants' heroine faces jail for human trafficking

Why a Spanish woman credited with saving the lives of thousands of migrants is facing prison.

from BBC News - World http://ift.tt/2rQypZm

Viewpoint: India and Pakistan up the ante on disputed border

Both India and Pakistan have blamed each other for the steep rise in ceasefire violations.

from BBC News - World http://ift.tt/2rLlaJk

How an interview faux-pas sparked a row

Why have African literary fans rallied around author Chimamanda Ngozi Achide after her interview in Paris?

from BBC News - World http://ift.tt/2rNy8pZ

راؤ انوار کے روپوش ہوتے ہی ان کے کالے دھندے بھی بند

کراچی: راؤ انوار کی رپوشی کے بعد ان کے کالے دھندے بھی بند ہونے لگے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے روپوش ہونے کے بعد اس کے ناجائز ذرائع آمدن بھی بند ہونے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عدالتی پابندی کے باوجود بھی ملیر ندی اور اس کے ملحقہ علاقوں سے ملیر میں ریتی، پتھر اور بجری چوری ہوتا تھا کیوں کہ یہ کام سابق ایس ایس پی کے زیرِسایہ ہوتا تھا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: راؤ انوار کی گرفتاری کی عدالتی ڈیڈلائن ختم

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریتی، بجری اور پتھر ملیر ندی، درسانو چنو اور میمن گوٹھ سمیت دیگر علاقوں سے نکالا جاتا تھا جس سے قومی خزانے کو اربوں روپوں کا نقصان ہوا تاہم جب سے راؤ انوار گرفتاری کے خوف سے روپوش ہوئے ہیں اس وقت سے تاحال یہ غیر قانونی کام بند ہے۔

The post راؤ انوار کے روپوش ہوتے ہی ان کے کالے دھندے بھی بند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2rOq0Wh

ہمارے بچوں کو ان کے والدین اور اساتذہ سے کون بچاۓ گا؟

قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات نے جہاں ہمارے معاشرے کے اخلاقی زوال کو برہنہ کر دیا وہاں سوسائٹی میں بچوں کو جنسی ہراسمنٹ کے بارے میں شعور دینے کی بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ بحث بچوں کے لیے محفوظ معاشرہ کی طرف پہلا مثبت قدم ہے۔ اس سلسلے میں بچوں کو ٹریننگ دینے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن ہم بھول رہے ہیں کہ اس ٹریننگ کی بچوں سے زیادہ ان کے والدین اوراساتذہ کو ضرورت ہے۔ انہیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کی تربیت کس طرح کرنی ہے۔

زینب اور اس جیسی بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کا اس لیے پتہ چل جاتا ہے کے یہ جنسی جنونی زیادتی کے بعد انہیں مار دیتے ہیں لیکن ہزاروں بچے ایسے ہیں جنھیں اسکولوں، مدرسوں ، گھروں اور دکانوں پر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ بچے ڈر، شرم یا لالچ کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور یوں انکا جنسی استحصال ہوتا رہتا ہے۔ جب یہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو اس گھناؤنے کھیل کو دہراتے ہیں۔

مذہب نے اسکے لیے واضح ہدایات دی ہیں بلکہ سخت سزائیں بھی مقرر کی ہیں لیکن بدقسمتی سے ان واقعات کا زیادہ ظہور مدارس میں ہوتا ہے جہاں یہ واقعات رپورٹ نہیں ہوتے اس لیے سزائیں بھی نہیں ہوتی۔ ہماری معاشرتی اقدار بھی اس طرح کے قبیح افعال کی اجازت نہیں دیتی لیکن پھر بھی ہوس کا یہ ننگا ناچ ہمارے کھیتوں، اسکولوں، بند کمروں اور مدرسوں میں جاری رہتا ہے۔

اس صورت حال میں ہم اپنے بچوں کو کس طرح بچائیں؟ ویسے تو ایک مہذب معاشرے کا ارتقاء ایک با تدریج عمل ہے۔ ہمیں شاید کئی سو سال چاہئیے اس مقام تک پہنچنے کے لیے جہاں اعلیٰ اخلاقی اقدار پر لوگ اپنے ارادے اور مرضی سے عمل کرتے ہیں لیکن اس وقت ہم بطور قوم جس انحطاط کا شکار ہیں، اس میں بہت سخت اور بہت تیز اقدامات کی ضرورت ہے ۔

سب سے پہلے حکومت کو اس طرح کے مجرموں کو سخت اور فوری سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔

اساتذہ اور والدین کی ٹریننگ کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انہیں چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کونہ صرف جنسی ہراسمنٹ کا شعور دیں بلکہ بچوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر بھی رکھیں۔

میں اس وقت ڈنمارک میں بچوں کی تدریس کی ٹریننگ پروگرام کا حصہ ہوں۔ اس ٹریننگ میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کیا چیزیں ہراسمنٹ ہیں۔ اور وہ کیا نشانیاں ہے جس سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے بچے کو جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے یا اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اگر آپ کا بچہ یا طالب علم بہت زیادہ خاموش ہو گیا ہے، کسی سے بات نہیں کر پاتا یا کرنا نہیں چاہتا یا اس میں اعتماد کی کمی ہو گئی ہے، یا اس کے نمبرز کم آنے لگے ہیں یا اسے بہت غصّہ آنے لگا ہے اور وہ بہت زیادہ لڑنے لگا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اسے جسمانی ،نفسیاتی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے بات کریں۔ اس پر اعتماد کا اظہار کریں تاکہ وہ آپ کو اپنے ساتھ ہونے والا ظلم بتاۓ۔

زیادہ تر بچے اس لیے کسی کو کچھ نہیں بتاتے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں ان پر اعتماد نہیں کیا جاۓ گا- کچھ کو لگتا ہے کہ یہ انکی اپنی غلطی ہے اسی لیے انکے ساتھ یہ سب ہوا یا پھر ان بچوں کو ڈرایا جاتا ہے کہ ہم تمہیں یا تمہارے گھر والوں کو مار دینگے۔

بچوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔ والدین بننا ایک فل ٹائم جاب ہے۔ بچے تو جانور بھی پیدا کرتے ہیں اور انھیں کھانا بھی دیتے ہیں۔ ہم انسانوں پر الله نے بھاری ذمےداری دی ہے۔ ہمیں ان گوشت کے لوتھڑوں کو انسان بنانا ہے، ایک اچھا انسان اور جب تک یہ اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو جائیں انکی حفاظت کرنی ہے۔ ہمیں بچوں کی ذہنی ،نفسیاتی جسمانی ساری ضرورتوں کا خیال رکھنا ہے۔ استاد کا رتبہ تو والدین سے بھی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے انکی ذمے داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی ماں باپ کی۔ اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں تاکہ ہمیں کل کسی اور زینب پر ماتم نہ کرنا پڑے۔

اس طرح کے چند اقدامات سے شاید ہم اپنے بچوں کو کسی حد تک جنسی طور پر ہراساں ہونے یا جنسی تشدد سے بچا لیں مگر اجازت ہو تو یہ کہنے کی جسارت کروں کہ ان بچوں پر جو نفسیاتی اور جسمانی تشدد ماں باپ اور اساتذہ کرتے ہیں، اس تشدد سے انہیں کون بچاۓ گا؟

یورپی ممالک میں اگر والدین اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو ریاست ان سے بچے لے لیتی ہے اور انھیں خود پالتی ہے اور اگر اساتذہ اپنی ذمےداری پوری نہ کریں تو انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ اگر کوئی فرد چاہے وہ والدین ہوں یا اساتذہ، بچوں پر کسی قسم کے نفسیاتی، جسمانی یا جنسی تشدد میں ملوث پایا جاتا ہے تو ریاست حرکت میں آتی ہے اور اسے قرار واقعی سزا ملتی ہے لیکن ہماری ریاست اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے؟ ایسے بچے جو یتیم خانوں یا فلاحی اداروں میں پل رہے ہیں کیا وہ محفوظ ہیں؟ اگر کسی بچے یا بچی کو اپنے والدین کی طرف سے کسی جنسی ہراسمنٹ کا سامنا ہو تو کیا وہ سرکاری اداروں میں محفوظ ہو گا؟

بچوں پر جنسی تشدد نہ بھی ہو تو ان پر بد ترین جسمانی تشدد کیا جاتا ہے، اتنا تشدد کہ یا تو انکے ہاتھ پاؤں توڑ دیے جاتے ہیں یا پھر جان سے ہی مار دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال کراچی کے ایک مدرسے میں ایک بچے کی اپنے استاد کے ہاتھوں ہلاکت ہے۔ ان کو سزائیں کون دے گا؟ کون اس معاشرے کو بچوں کے لیے محفوظ معاشرہ بنائے گا؟

کون والدین کو یہ بتاۓ گا کہ بچے کو پیدا کرنے سے آپ کو ان پر جسمانی یا نفسیاتی تشدد کرنے کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ ان مولویوں کو کون بتاۓ گا کہ قوم لوط کیوں تباہ کی گئی تھی ہمارے بچوں کو ان کے والدین، استادوں، مولویوں اور محلے داروں سے کون بچاۓ گا؟

The post ہمارے بچوں کو ان کے والدین اور اساتذہ سے کون بچاۓ گا؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2nqHDWN

سانپ کے ڈسے

پانامہ ایشو کے بعد وزیراعظم کی نااہلی نے نئی صف بندی کر دی ہے۔ لوگ کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ عوام کے طرفدار بھی اور عوام کے دشمنوں کے طرفدار بھی۔ نقاب اتر چکے ہیں، طبل جنگ بج چکا ہے اور فائنل راؤنڈ جاری ہے۔ سماج کے دیگر طبقات کے ساتھ صحافیوں میں بھی تقسیم واضح ہو چکی ہے۔ کچھ صحافی ملک و ملت کا قرض چکا رہے ہیں اور کچھ اپنے آقاؤں کا حقِ نمک ادا کر رہے ہیں۔ اس معرکے کے اختتام تک کچھ اپنا نام تاریخ میں امر کر چکے ہوں گے جبکہ کچھ کو تاریخ بھلا چکی ہوگی۔

کچھ لوگوں نے تو انتہائی سوچ سمجھ کر اپنے آپ کو عوام کے مخالف صف آراء کیا ہوا ہے اور وہ یقیناً اس کی قیمت بھی وصول کر رہے ہوں گے مگر چند احباب ایسے بھی ہیں جوصرف اور صرف جمہوریت کے نام پر دھوکا کھا رہے ہیں۔ انہیں اندازے کی شدید غلطی نے شاید غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ عوام مخالف کیمپ سے ہمدردی کر رہے ہیں۔

ان احباب کا المیہ یہ ہے کہ وہ پانامہ کیس کو بھی ماضی کی طرح اداروں کی اندرونی چپقلش اور تصادم کا شاخسانہ سمجھ رہے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پانامہ ایشو نہ عدلیہ نے اٹھایا ہے اورنہ ہی فوج کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ پرویز مشرف کے بعد جس طرح فوج نے خود کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنا شروع کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ راحیل شریف کے دور میں سیاست سے علیحدگی کا عمل عروج پہ تھا۔ اب جبکہ باجوہ صاحب آرمی چیف بن چکے ہیں، جو بقول شخصے حکومت کے خاص آدمی ہیں اور انہوں نے آتے ساتھ ہی ادارے میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں اور تقرریاں کی تھیں جو بادی النظر میں حکومت کے ایما پر کی گئی تھیں۔ اس صورتِ حال میں ایسی کسی بھی مداخلت کا امکان ناممکنات میں سے ہے۔

پانامہ ایشو سیدھا سادا ملکی وسائل کو لوٹ کر بیرونِ ملک ذاتی جائیدادیں بنانے کا کیس ہے جس میں عدلیہ نے شریف فیملی کو اپنی صفائی دینے کا مکمل موقع فراہم کیا مگر وہ دولت کی بیرون ملک منتقلی کا کوئی بھی ثبوت نہ دے سکی اور جو ثبوت دیے گئے وہ بوگس، من گھڑت اور خود ساختہ تھے جن پر سپریم کورٹ برہمی کا اظہار کر چکی ہے۔ عدلیہ نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کروائیں اور ملزمان کو بار بار مواقع دیے تا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں مگر شریف فیملی خود پر لگے الزامات کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔ ایسے میں عدلیہ پر سازش کا الزام بدنیتی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

حقیقت یہ ہے دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے اور سانپ کا ڈسا رسی سے بھی خوف کھاتا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا میں نصرت جاوید اور سوشل میڈیا پہ فرنود عالم ان لکھاریوں میں شامل ہیں جنہوں نے ماضی کے تلخ تجربات کو مدنظر رکھ کر پانامہ ایشو کے بارے میں رائے قائم کی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ جمہور اور جمہوریت کی خدمت یہ نہیں کہ آپ مجرموں کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دیں۔ جمہوریت تو یہ سکھاتی ہے کہ افراد کو قانون کی چھلنی میں سے گزار کر پرکھا جائے۔ آپ اپنے سیاسی نظریات کو بھلے سنبھال کر رکھیں۔ آپ بھلے عمران خان کو سیاسی طور پہ سپورٹ نہ کریں مگر کم از کم جمہوریت کے نام پر ایک خاندان کی لوٹ مار کی حمایت تو نہ کریں ۔ آپ میں اتنی اخلاقی جراءت تو ہونی چاہیے کہ آپ جمہوریت کے نام پہ لوٹ مار کرنے والوں سے سوال کر سکیں کہ حضور! عوام نے آپ کو حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے، لوٹ مار کا نہیں۔ خدارا ملکی وسائل کو لوٹ کر اس مینڈیٹ کی توہین تو نہ کریں۔ کیا آپ کے نزدیک جمہوریت کے نام پر ہر اٹھائی گیرے کی بے جا اور غیر مشروط حمایت ہی جمہوریت کا حسن ہے ؟

The post سانپ کے ڈسے appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2DMjXr0

داعش  افغانستان میں

کچھ دن پہلے ایک تصویر دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں کچھ گاڑیاں داعش کا پرچم لہراتی افغانستان کے مختلف شہروں میں نظر آئیں تو افغانستان کے سابقہ صدر حامد کرزئی کا الجزیرۃ ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو یاد آگیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں داعش کی سرپرستی کر رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش کا افغانستان میں وجود امریکی انٹیلی جنس کی موجودگی میں ہوا۔ امریکی حکومت کو ہمارے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔حامد کرزئی نے کہا کہ پہلے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے ارکان زیادہ تھے لیکن اب داعش سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے زیادہ ہیں، اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ انتہا پسندی کو کیسے قابو کیا جاسکتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم امریکا سے سوال پوچھیں کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی اور موجودگی کے باوجود داعش نے کس طرح افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔امریکا کو اس کا جواب لازمی دینا چاہیے کیوں اس کا جواب افغانستان کے پاس نہیں بلکہ امریکا کے پاس ہے۔حامد کرزئی نے کہا کہ انہیں شک سے بھی زیادہ یقین ہے کہ داعش کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا جاتا ہے اور یہ صرف ملک کے ایک حصے میں نہیں بلکہ کئی حصوں میں ہو رہا ہے۔ داعش کو اسلحہ کی فراہمی کی خبریں افغان شہری ہی نہیں بلکہ حکومت میں موجود افراد اور دیہات میں رہنے والے لوگ بھی دے رہے ہیں۔

سابق افغان صدر کا کہنا تھا  کہ امریکا افغانستان میں شدت پسندی کوشکست دینے آیا تھا لیکن اس کی نگرانی میں ملک میں شدت پسندی کیسے بڑھ گئی؟ اسے آپ محض اتفاق سمجھیں یا کچھ اور، جن دنوں افغانستان کے سابقہ صدر حامد کرزئی کا یہ انٹرویو سامنے آیا تقریبا انہی دنوں بی بی سی کی ایک رپورٹ بھی منظر عام پر آئی  تھی ۔ اس رپورٹ کے مطابق داعش کے حمایتیوں کو شام کے شہر رقع میں شکست کے بعد نکلنے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا گیا تھا اور یہ راستہ کسی اور نے نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے حمایتی گروپ شام ڈیموکریٹک گروپ نے فراہم کیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق تقریبا ڈھائی سو دہشت  گردوں اور ان کے خاندانوں کے تقریبا پینتیس سو افراد کو ایک معاہدے کے تحت رقع سے شام، ترکی اور عراق کے مختلف علاقوں میں جانے کی اجازت دی گئی۔ اس خبر کی کسی نے تردید نہیں کی۔

افغانستاں میں داعش کی سرگرمیاں سب سے پہلے صوبہ ننگہار میں نظر آئیں۔ اس کے بعد یہ اس کے ہمسائے صوبے کنڑ میں منظرعام پر آئے۔
افغانستان میں داعش کے علاقوں کی شناخت کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ 2 محوروں میں آپریشن کر رہے ہیں.

مغربی حصہ: جس میں صوبہ ننگرہار، خوست اور کونڑ و غیرہ شامل ہیں۔
شمال مغربی حصہ: جس میں صوبہ فاریاب اور جوزجان اور سرپل شامل ہیں۔

داعش افغانستان کے شمال میں بھی درزآب، قوش جوزجان، بلچراغ،فاریاب، شہر صیاد، سرپل میں سرگرم ہے۔ اور شیعہ نشین علاقہ میرزاولنگ بھی اس علاقے کے نزدیک ہے۔ آخر داعش کے لوگ افغانستان کے شمالی علاقے میں کیوں اکٹھے اور منظم ہو رہے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ایک اطلاع کے مطابق اس کا مقصد روس کو نقصان پہنچانا ہے۔ داعش کو روس کی وجہ سے داعش کو شام میں ہزیمت اٹھانا پڑی اور وہ اب روس سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔ لیکن افغانستان اور روس کے درمیان کافی فاصلہ ہے اور اس کے علاوہ ان دونوں ملکوں کے درمیان کئی اور ممالک موجود ہیں۔اس لئے اس مفروضے میں اتنی جان نظر نہیں آتی۔

افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کا ایک اور مقصد خراسان پر قابض ہونا ہے، جس کا تعلق آخرالزمان کے عقیدے سے ہے۔
افغانستان میں سر گرمیوں کا ایک مقصد اس ملک کے شیعہ اور پاکستان اور ایران کو نشانہ بنانا ہے۔خصوصا پاکستان کے صوبہ بلوچستان اس کا خاص ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔

داعش کی افغانستان کے شمالی علاقے میں موجودگی کی ایک اور وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ ان علاقوں میں چھپے زیرزمین نایاب خزانے ہیں ۔ یہ علاقے مہنگی دھاتوں سے مالامال ہیں اور یہ بات محض اتفاق نہیں کہ عراق اور شام میں داعش نے جن علاقوں پر قبضہ کیا وہ تیل کی دولت سے مالامال تھے۔ داعش ان علاقوں سے تیل نکالتی تھی اور عالمی منڈی میں فروخت کرتی تھی شام اور عراق میں دستیاب وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اب اس نے افغانستان کا چنائو کیا ہے۔

افغانستان میں داعش کا  رسوخ، معاشی بحران، قومی اختلافات، مغربی  خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ داعش کے ازبکستان، تاجکستان، قرقیزستان، پاکستان، عراق اور قزاقستان میں سرگرم افراد بھی اب افغانستان پہنچ گئے ہیں اور حزب اسلامی ازبکستان جو پاکستان میں بھی سرگرم تھی داعش سے مل گئی ہے۔داعش، افغانستان میں بھی شام اور عراق کی طرز پر جنگ کر رہی ہے، وہ مختلف افراد کو جذب کرنے کے لیے جہاد النکاح کو بھی رواج دے رہے ہیں۔

افغانستان کے شمالی علاقوں میں ان جنگجوئوں کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا تھا۔ان علاقوں میں رشیددوستم کا کافی اثرورسوخ ہے اور اس نے ماضی میں ان علاقوں میں طالبان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن آج کل وہ خود کافی پریشانیوں کا سامنا ہے۔زنا کے ایک معاملے میں ملوث ہونے پر اسے افغانستان سے فرار ہونا پڑا۔ آج کل وہ ترکی میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے کیونکہ وطن واپسی پر اسے گرفتاری کا ڈر ہے۔

اگرچہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے حمایت یافتہ نیٹو کے ہزاروں فوجی موجود ہیں لیکن وہ داعش کے اس چھوٹے سے گروہ کے خلاف کوئی  بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ شاید وہ اس اثاثے(داعش) کو کسی اور جگہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

داعش افغانستان میں کیا کرتی ہے ۔ ؟روس کو نقصان پہنچاتی ہے یا ایران اور پاکستان اس کے نشانے پر ہیں؟ ایک بات البتہ طے ہے کہ فی الحال امریکہ افغانستان سے جانے والا نہیں۔ وہ افغانستان میں رہے گا۔ کبھی القائدہ اور طالبان کے نام پر تو کبھی داعش کے نام پر۔

The post داعش  افغانستان میں appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2nrehaz

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny