Saturday, March 10, 2018

تریپورہ میں گیروی فتح کے بعد ہندوتا کی دھشت گردی کی لہر

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں پچھلے پچیس سال سے کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کی حکومت تھی اور اس کے وزیر اعلیٰ مانک سرکار اپنی نہایت سادہ زندگی کی وجہ سے مشہور اور مقبول تھے لیکن گذشتہ ہفتے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے تریپورہ کی قبائیلی جماعت پیپلز فرنٹ کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی کو شکست دے دی۔ 59 اراکین کی اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد نے 43 نشستیں جیتی ہیں۔ کانگریس پارٹی کا یکسر صفایا نریندر مودی نے اسے نظریات کی جیت قرار دی ہے۔ یعنی ہندوتا کی کمیونزم پر فتح۔ لیکن ابھی تریپورہ میں نئی حکومت بھی نہیں بنی تھی کہ گیروے رنگ پہنے نریندر مودی کی پارٹی کے کارکنوں نے پوری ریاست میں دھشت گردی برپا کردی۔

سب سے پہلے اگر تلہ کے قصبے سب روم میں موٹر اسٹنڈ کے قریب لینن کے مجسمہ پر ایک گاڑی چڑھا کر اسے گرا دیا گیا۔ اس کے بعد اگر تلہ کے بیلونیا کے قصبہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور قبائیلی جماعت کے بپھرے ہوئے کارکنوں نے بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگاتے ہوئے لینن کا پانچ فٹ اونچا مجسمہ جو تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کی حکومت کی اکیسویں سالگرہ پر نصب کیا گیا تھا، گرا کر اسے توڑ دیا۔

lenin-statue-tripura-demolished

نریندر مودی کی پارٹی کے رہنمائوں نے لینن کے مجسمے کی مسماری کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لینن، غیر ملکی تھے اور دھشت گرد۔ ہندوستان کی سر زمین پر ان کے مجسمے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
جس پارٹی نے بابری مسجد کو مسمار کیا ہے اس کے لئے لینن کے مجسمے کو مسمار کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ تامل ناڈو میں ڈی ایم کے کے بانی پیری یار کے مجسمے کو نیست و نابود کر دیں گے کیونکہ وہ ہندو مت اور ہندو دیوتائوں کے سخت خلاف تھے۔

lenin_630_6301_630_630

لینن کے مجسموں کی مسماری کے بعد تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں پر حملوں کی لہر بھڑک اٹھی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کے جنر ل سیکرٹری سیتا رام یچوری نے بتایا ہے کہ تریپورہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی فتح کے بعد پوری ریاست میں دھشت گرد حملے شروع ہو گئے ہیں، جن میں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کے 1539 مکانات کوحملوں کا نشانہ بنایا گیاہے۔ 196 مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا اور کمیونسٹ پارٹی کے 134 دفاتر پر حملے کیے گئے۔

india-warns-bjp-supporters-who-bulldozed-lenin-s-statue-in-tripura-1520348403-3593

تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کے کارکنوں پر ان دھشت گرد حملوں کے خلاف، کلکتہ میں پارٹی کے مرکزی رہنمائوں کی قیادت میں جلوس نکالا گیا جو دھرم تلہ میں لینن کے مجسمے کے سامنے ختم ہوا۔ جلوس میں مظاہرین لینن کی تصاویر لئے ہوئے تھے۔

ہندوستان کی سب سے چھوٹی تیسری ریاست تریپورہ کے شکست خوردہ وزیرِ اعلیٰ مانک سرکار ہندوستان کے سب سے غریب وزیرِ اعلیٰ مانے جاتے تھے۔ ان کا اپنا کوئی ذاتی گھر نہیں تھا بلکہ اپنے پر دادا کے چھوٹے سے پرانے گھر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے انہیں جو تنخواہ ملتی تھی وہ کمیونسٹ پارٹی کے فنڈ میں دے دیتے تھے اور اس کے عوض انہیں پارٹی کی طرف سے دس ہزار روپے الائونس ملتا تھا۔ ان کے پاس کوئی کار نہیں تھی بلکہ سائیکل رکشے میں سفر کرتے تھے۔

manik sarkar tripura former chief minister

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما، تریپورہ میں کمیونسٹ پارٹی کی شکست اور اس کے بعد پوری ریاست میں لینن کے مسجسموں کو مسمار کئے جانے پر جنونی انداز سے بغلیں بجا رہے ہییں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے کمیونزم کو اسی طرح سے شکست دی ہے جس طرح ماضی میں برطانیہ کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے اور حال میں صدر ٹرمپ نی زیر کیا ہے اور اب یہ مشن ٹرمپ نے نریندر مودی کو تفویض کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں کمیونزم کا قلع قمع کر دیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان میں کمیونزم کا قلع قمع کرنے میں کامیابی ہو یا نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھارتیہ پارٹی اب ہندوستان کی انتیس ریاستوں میں سے بیس ریاستوں میں بر سر اقتدار ہے اور سیاسی جوتشیوں کی پیش گوئی ہے کہ اگلے سال کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی پورے ہندوستان پر قبضہ کرلے گی۔ اور یوں پورا ملک کٹر ہندو قوم پرستی، ہندوتا کے گیروے رنگ میں رنگ جائے گا۔

The post تریپورہ میں گیروی فتح کے بعد ہندوتا کی دھشت گردی کی لہر appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2tBujW2

No comments:

Post a Comment