Saturday, March 10, 2018

پڑھے لکھے ڈکیت

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کو بنیادی طور پرچور اور ڈاکو مانا جاتا ہے جو حالات اور مفلسی کے مارے ہوں، معاشی طور پر مستحکم نہ ہوں، اور سب سے بڑھ کر وہ تعلیمی لحاظ سے بہت زیادہ پسماندہ ہوں اور اچھی اور بہتر تعلیم و تربیت نہ ہونے کے باعث وہ زندگی میں ایسا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی منزل صرف اور صرف جیل کی اندھیری چاردیواری ہوتی ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کے دھتکارےلوگ ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے، تعلیم یافتہ، ذی شعور لوگ اس طرح کے لوگوں سے بات کرنا کسی طرح کاکوئی تعلق رکھنا اپنی تذلیل سمجھتے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب ہمارے معاشرے میں اس طرح کے افراد بلکہ یوں کہا جائے کہ ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو چوری، ڈکیتی کو معیوب نہیں سمجھتے کسی دوسرے کے پیسے پر نظر رکھنا، جی بھر کر عیاشی کرنا، اپنی کرسی کا غلط استعمال کرنا، اختیار اختیارات سے تجاوز کرنا، امانت میں خیانت کرنا خیانت کرنے کو اپنا اولین فرض اور فرائض منصبی میں شامل ایک ایسا کام سمجھتے ہیں جس کی بدولت وہ اپنے گھروں میں دولت کے انبار لگا کر اس پیارے ملک کے خزانوں میں ایسی نقب لگاتے ہیں جس سے ان کے پیچھے آنے والے لوگوں کو لوٹ مار میں مدد ملتی ہے اور ایک ایسا نہ ختم ہونے والا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ پھر ہمیں اپنی ضرورتوں کے لیے دوسروں کے سامنے کشکول پھیلانا پڑتا ہے چاہے پھر وہ اس کشکول کو خالی لوٹا دے یا پھر اپنے ملک کے لوگوں کی خیرات اور صدقہ آپ کے اس کشکول میں مالی امداد یا قرضے کی مد میں ڈال دے۔

گزشتہ برس قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان کی کی چند یونیورسٹیز اور انکے وائس چانسلرز کے خلاف مالی بدعنوانی، اختیارات سے تجاوز، بھرتیوں میں بے قاعدگی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔

پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر عظمت حیات خان کے خلاف تحقیقات ہوئیں۔ اس تحقیقات کے مطابق انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور خزانہ کو 62.38 ملین کا نقصان پہنچایا۔

ڈاکٹر اسحاق فانی، ڈائریکٹر فاصلاتی تعلیم، بہا الدین زکریایونیورسٹی، ملتان کے خلاف انکوائری کاحکم دیا۔ اس انکوائری کے مطابق ان پر غیر قانونی تقرریوں کے لئے، کتابوں کی خریداری، اور فاصلاتی تعلیم سیکھنے کے پروگرام کے امدادی فنڈز میں بے قاعدگی کے مبینہ الزامات تھے۔ جس کی وجہ سے خزانہ کو 193.123ملین کا نقصان پہنچایا۔

اکتوبر 2017ء میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے خیبر پختون خوا ونگ نے ہزارہ یونیورسٹی میں غیر قانونی تقرریوں، مالی بے قاعدگیوں میں تحقیقات شروع کردیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر فریدجو نیب کی انکوائری کا سامنا کرتے ہیں، ان کو مبینہ طور پر وائس چانسلر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

نیب کے چیف جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں سنگین مالی بے قاعدگیوں، غیر قانونی تقرریوں کے حوالے سے سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر چوہدری اکرم اور دیگر عملے کے خلاف انکوائری کاحکم دیا۔

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین، جو بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات میں کئی مقدمات اور تحقیقات کا سامنا کررہے ہیں، انہیں سندھ حکومت نے سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین کے طور پر مقرر کیا ہے۔

نیب کی ان تحقیقات اور ڈاکٹر عاصم کی تعیناتی کے بعد اس بات کا احساس بہت شدت سے ہو رہا ہے کہ ہم کم پڑھے لکھے لوگوں اوراس طبقے کو الزام دیتے ہیں جو کم تعلیم ہونے کے باوجود کسی معاشرتی برائی کے ذمہ دار ہیں۔ مگر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ شاید اس پاکستان میں ہم آنے والے دور میں جن چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے ساتھ اپنی ترقی کی منازل طے کریں گے وہ سب کے سب انتہائی تعلیم یافتہ اور کوالیفائیڈ ڈکیت ہوں گے۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے

جب اس ترقی یافتہ معاشرے کا استاد اس معاشرے کا رہبر ہی رہزن بن جائے تو پھر اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ قافلہ کیوں لٹا، عزتیں کیوں نیلام ہوئیں اور ہم بھائی بھائی بن کر رہنے والے مساوات کا درس دینے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں ہو گئے؟۔

The post پڑھے لکھے ڈکیت appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2FFpAHv

No comments:

Post a Comment