Saturday, March 10, 2018

پاکستانی ناظرین اور ٹی وی چینلز کی ٹوپی

گزشتہ شام جب آفس سے واپس آئی تو کام کی وجہ سے بہت تھکان ہورہی تھی، سوچا کہ ٹی وی آن کر کے اپنے آپ کو فریش کیا جائے۔ جیسے ہی ٹی وی آن کیا، ایک چینل پر “شکیلہ کیسے جیے گی” کے عنوان سے ایک ڈرامہ لگا ہوا تھا۔ اس ڈرامے میں شکیلہ بچاری پر زمانے کے ظلم و ستم جاری تھے، گھبرا کر دوسرا چینل لگایا تو وہاں “فرحانہ اب کیا کرے” کے عنوان سے ایک ڈرامہ لگا ہوا تھا جس کی کہانی پہلے والے ڈرامے سے ملتی جلتی تھی۔ اسی طرح ہر انٹرٹیمنٹ والے چینلز پر اسی قسم کے عنوان کے ڈرامے لگے ہوئے تھے۔ “فائزہ کا کیا ہوگا”، “آسیہ کی دوست بنی اس کی نند”، “میری سہیلی بنی میری ساس” جیسے عنوان کے ڈراموں کے نام سے ہی ظاہر ہو رہا تھا کہ ڈرامے کی کہانی کیا ہوگی۔

ایک ٹی وی چینل پر صبح کا مارننگ شو رپیٹ ہو رہا تھا، سوچا یہ دیکھتے ہیں۔ دو منٹ گزرے، معلوم ہوا کہ “کریلے” سے دنیا میں موجود تمام بیماریوں کے علاج بتائے جا رہے ہیں۔ سیٹ کے ایک حصے میں کریلا پیس کر ایک خاتون کے چہرے اور بالوں پر بھی لگایا جارہا تھا اور وہ خاتون ایسے سکون سے بیٹھی تھیں جیسے وہ یہاں سے کرینہ کپور یا کترینہ کیف بن کر ہی نکلے گی۔

اسی طرح ہم چینلز بدلتے بدلتے ایک نیوز چینلز پر پہنچ گئے جہاں ایک میسنا سا میزبان بیٹھا ہوا تھا اور اس نے خادمِ اعلیٰ اور انصاف والوں کی پارٹیوں کے سب سے لڑاکے کارکنوں کو شو میں مدعو کیا ہوا تھا اور اب انہیں آپس میں لڑنے کے خوب مواقع مہیا کر رہا تھا۔ وہ خود وقفے وقفے سے جلتی پر تیل چھڑک کر سائیڈ پر ہو جاتا تھا  اور سیاسی جماعتوں کے کارکن مزید شدت کے ساتھ آپس میں لڑنا شروع ہوجاتے تھے۔ اس قسم کے پروگراموں سے ہماری تھکان کیا اترتی، اس میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

اب ہمیں اپنی غلطی کا شدید احساس ہونے لگا تھا، فوراً سے پہلے ٹی وی بند کیا اور اللہ کے حضور اپنے اس گناہ کے لیے توبہ کی۔ ان پراگرامز کو دیکھنے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ناظرین بچارے کتنے مجبور ہیں۔ وہی گھسے پٹے پروگرامز جو صدیوں سے پاکستان میں دکھائے جا رہے تھے، آج بھی چل رہے ہیں۔ کوئی نیا آیئڈیا اور نیا پروگرام تو دور کی بات، پروگرامز کے عنوان بھی وہی ہیں جو ہم سالوں سے سنتے آ رہے ہیں۔

ہمارے چینلز پر وہی ڈرامے چل رہے ہیں جہاں عورت ہی عورت پر ظلم کر رہی ہے۔ بعض ڈرامے ایسے ہیں جن کی کہانی نہایت ہی بیہودہ ہے تو کچھ ایسے ہیں جن کی کہانی کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔ مارننگ شوز کی بات کریں تو وہ کبھی میرج بیورو تو کبھی بیوٹی سیلون تو کبھی کسی سماجی تنظیم میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ٹاک شوز دیکھو تو میزبان یا تو مہمانوں سے لڑ رہا ہوتا ہے یا مہمانوں کو آپس میں لڑوا رہا ہوتا ہے۔ چاہ کر بھی ان چینلز پر آپ کو کوئی نئی چیز دیکھنے کو نہیں ملے گی جبکہ دنیا میں نئے سے نئے آئیڈیاز کے پروگرامز موجود ہیں۔

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کو ہی دیکھ لیں۔ ان کے ٹی وی چینلز پر بے شمار قسم کے پروگرامز اور مواد موجود ہے۔ ان کے کئی پروگرامز ایسے ہیں جہاں نئے ٹیلنٹ کو سراہا جاتا ہے۔ کئی قسم کے رئیلیٹی شو مختلف بھارتی چینلز پر چلتے ہیں جن کا ناظرین بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔

پاکستان کے ٹی وی چینلز کا مواد صرف ڈرامے، ٹاک شوز، اور مارننگ شوز تک محدود ہوکر رہ گیا ہے جن سے اب عوام بور ہونا شروع ہوگئی ہے جس کا اثر ان پروگرامز کی ریٹینگ پر ہو رہا ہے۔ اس گرتی ہوئی ریٹنگ کو بڑھانے کے لیے مزید گھٹیا پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں۔

ہماری عوام جو پہلے ہی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہے،  اسے اس قسم کے پروگرامز دکھا کر ٹی وی چینلز والے مزید ازیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ چند چینلز دیکھنے کے بعد مجھے یہ اندازہ تو ہو گیا کہ پاکستانی صابر قوم ہے جو ہر ظلم و ستم کو خوشی خوشی برداشت کرلیتی ہے بلکہ ان کو تو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان پر ظلم کیا جارہا ہے۔ کاش ہماری حکومت اور چینلز خود سے ہی سمجھ جائیں کہ وہ اس صابر اور معصوم عوام پر کتنا بڑا ظلم ڈھا رہے ہیں اور کچھ نئے آییڈیاز اور نئے پروگرامز کو ٹی وی سکرین کی زینت بنائے۔

The post پاکستانی ناظرین اور ٹی وی چینلز کی ٹوپی appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2FF7AwL

No comments:

Post a Comment