جناب عالی گزارش ہے کہ میرا نام ‘میٹرو بس’ ہے اور میں ابھی آپ کے ملک میں ایک نوزائیدہ بچے کی مانند ہوں۔ میں نے خود کو نوزائیدہ بچے کی مانند اس لئے نہیں کہا کہ میری جسامت یا قد کاٹھ کمزور ہے بلکہ اس لئے کہا ہے کہ مجھ میں اپنا دفاع کرنے کی سکت نہیں ہے۔ اب اپنا ایک کمزور سا دفاع اس خط کے ذریعے کر رہی ہوں۔
کسی بھی شخص، چیز اور جگہ کا کوئی نام ہوتا ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔ خود کی پہچان بنانے کیلئے لوگ اپنی زندگیاں دائو پر لگا دیتے ہیں اور اگر نام خراب ہونے کا خدشہ ہو تو بھی جی جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔
نام کے بعد باری آتی ہے کام کی، کوئی بھی چیز شخص یا جگہ اپنے نام کے بعد اپنے کام سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر لوگ کسی کے نام سے واقف نہ ہوں تو اس کے کام سے اس کو ضرور جانتے ہیں۔ شاید اسی خوبی کی بدولت کچھ ممالک اور لوگ پوری دنیا میں اپنے کاموں سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن آپ کے ملک میں، میں اتنی بے بس ہوں کہ نہ اپنے نام کی رکھوالی کرسکتی ہوں نہ ہی اپنے کام کو بھرپور طریقےسے سرانجام دے سکتی ہوں۔
میری طرح دنیا بھر میں میٹرو کے نام سے کئی ٹرینیں اور بسیں چلتی ہیں۔ دنیا کے جس کونے میں بھی میٹرو کا نام آتا ہے تو ایک پرسکون اور بہترین سواری کا خیال ذہن پر قبضہ کرلیتا ہے لیکن میں تیسری دنیا کے ایک ایسے ملک میں آ بسی ہوں جہاں کے لوگوں کو میٹرو کے نام سے چڑ ہے۔ یہاں کے لوگ میرا نام سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ میں دن رات ان لوگوں کی خدمت میں جتی رہتی ہوں اور یہ ہر بار مجھ پر ہی وار کرتے ہیں۔ ان کا کوئی بھی احتجاج ہو، مظاہرہ ہو، کوئی مطالبہ منوانا ہو یا جلوس نکالنا ہو ان کی نظر صرف مجھ پر ہی پڑتی ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب مجھے پاکستان لایا گیا تو خوب سجا سنوار کے سڑکوں کی زینت بنایا گیا تھا۔ میرے استقبال کے لیے عوام کی ایک بڑی تعداد آئی ہوئی تھی لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مجھے حقارت آمیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ عرصے بعد میرے خلاف بیان بازیاں ہونے لگیں جن سے میرا دل چھلنی ہوگیا تھا لیکن اس سب کے باوجود میں نے میرے خلاف بیان بازی کرنے والوں اور بری نظر ڈالنے والوں کی بھی ویسے ہی خدمت کی جیسے اپنے چاہنے والوں کی، کی۔
بات شروع ہوئی تھی نام سے تو نام کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اسے باآسانی بگاڑا جا سکتا ہےاور نفرت، حقارت اور حسد سے بھرے لوگ نام کو بگاڑنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ تیسری دنیا کے لوگ تو نام بگاڑنے میں ماہر ہی نہیں چیمپئن ہوتے ہیں، اگر نہیں یقین تو اپنے اردگرد لوگوں کے ناموں کو دیکھ لیں۔ اچھا خاصا نام بلال ہوگا لیکن لوگ بلو، بلو، کہتے پھریں گے، کامران کو کامی کردیں گے اور عبدالرحمان کو مانی کر کے مزے لیں گے۔ ایسا ہی کچھ میرے نام کا بھی حال کیا گیا۔ اچھا خاصا پڑھا لکھا نام تھا میٹرو۔ لیکن بھلا ہو ان پاکستانیوں کا جنہوں نے مجھ سے میرا نام چھین کر مجھے جنگلہ بس کہنا شروع کر دیا۔ اس تیسری دنیا کے عوام نے مجھ سے میرانام تک چھین لیا لیکن پھر بھی میں ان کی خدمت میں جتی رہی۔
بات اگر نام تک رہتی تو شاید میں برداشت کرلیتی لیکن بات تو نام سےکہیں آگے میرے کام تک پہنچ چکی ہے۔ مجھے لاہور، اسلام آباد اور ملتان کی سڑکوں پر عوامی خدمت کا کام سونپا گیا تھا۔ میری ذمہ داری ہے کہ میں صبح سے لے کر رات گئے تک لاکھوں لوگوں کو بہترین سفری سہولیات مہیا کروں لیکن کچھ لوگوں کو میرے کام میں روڑے اٹکانے کی لت پڑ گئی۔ لت بھی ایسی پڑی کہ چھوٹنے کا نام نہیں لے رہی اور نہ ہی کوئی اس لت کو چھڑانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
جس دن سے میں نے لاہور کی سڑکوں سے دوستی کی ہے، کچھ لوگ مجھ سے حسد کرنے لگے ہیں۔ آئے روز کہیں نہ کہیں لوگوں کی تھوڑی سی تعداد سڑک پر بیٹھ جاتی ہے اور میرا راستہ روک لیتی ہے۔ اس وقت نہ میں کچھ کرسکتی ہوں اور نہ ہی مجھے اس ملک میں لانے والے کو حکمت کر سکتے ہیں۔
اگر آپ گزشتہ چند ماہ کے اخبارات اور خبروں کا ہی جائزہ لے لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے میری زندگی کو اندھیر کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ سڑک سے میری دوستی شاہدرہ سے گجومتا تک ہے لیکن کبھی مجھے کلمہ چوک پر روک لیا جاتا ہے تو کبھی نیازی چوک پر۔ ایم اے او کالج سے میری واپسی تو شاید اب ایک معمول کی کارروائی ہے۔
لوگوں کی سیاست، مطالبات اور نفرت نہ جانے میرے نام اور کام کی دشمن کیوں بن گئی ہے۔ کوئی بھی سیاستدان بھرے مجمع میں مجھے جنگہ بس کہہ کر ذلیل و رسوا کردیتا ہے اور میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ چند افراد کا جتھا میری راہ میں حائل ہوجائے تو میں دو قدم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ بظاہر تو میں سڑکوں پر ہوا کے ساتھ اڑنے کی عادی ہوں لیکن بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب مجھے اپنے پر کٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
میں ‘میٹرو بس’، پاکستان کے عوام، سیاستدانوں، مظاہرین اور خاص طور پر نابینا افراد سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتی ہوں کہ خدارا اپنے مطالبات منوانے کیلئے میرے کام میں روڑے نہ اٹکائیں۔ اپنے مطالبات حکمرانوں تک پہنچانے کیلئے کوئی اور راستہ یا جگہ تلاش کریں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ سیاست دان بھی اپنی سیاست چمکانے کیلئے میرا نام لے لے کر مجھے ذلیل و رسوا نہ کریں۔ اپنا ووٹ بنک بڑھانے یا مخالفین کی ٹانگ کھینچنے کیلئے کوئی اور حربہ استعمال کریں۔ اگر میری عوامی خدمت میں کوئی کمی آئے تو آپ بےشک مجھے کان سے پکڑ کرملک بدر کردیں۔
مجھے پاکستان لانے والوں سے بھی ایک التجاء ہے کہ اگر آپ مجھے پاکستان کی عوام کیلئے لے ہی آئے ہیں تو میری حفاظت بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ سے میری درخواست ہے کہ جب آپ مجھے لائے تھے تو دلہن کی طرح سجا کر لائے تھے لیکن اب مجھے ایسے بھول گئے ہیں جیسے بیوہ ہوچکی ہوں ۔ میں آپ سے التماس کرتی ہوں کہ اگر کسی کو دلہن بنا کر گھر لایا جاتا ہے تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پوری کی جاتی ہے۔ میں آپ کی دی گئی تمام تر ذمہ داریاں پوری کررہی ہوں بلکہ میرے نام پر آپ ووٹ بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اب آپ کی باری ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری پوری کریں اورمیری رہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کو سبق سکھائیں۔
آپ کے لیڈر کو کوئی نااہل کردے تو آپ اسمبلیوں میں قراردادیں پاس کراتے ہیں لیکن جب چند افراد کا مجمع مجھے نااہل کردے اور اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے دے تو آپ اس کیلئے نہ کوئی قانون بناتے ہیں اور نہ سنجیدہ اقدامات کرتے ہیں۔ آئے روز احتجاج ہوتا ہے اور آپ کسی ایک افسر کو بھیج کر عوام سے مذاکرات کرتے ہیں تاکہ سڑک سے میری دوستی بحال ہو اور میں پھر سے سڑک پر دوڑ سکوں لیکن پھر اگلے ہفتے کوئی نیا احتجاج شروع ہو جاتا ہے۔ آپ اگر اپنے لیڈر کیلئے قانون میں تبدیلی کرسکتے ہیں تو کیا ایسا کوئی قانون بھی بنا سکتے ہیں کہ کوئی بھی احتجاج کا مارا آپ کی حکومت کا ستایا شخص میری راہ میں پتھر نہ پھینکے اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو آپ اس کو اٹھا کر سلاخوں کے پیچھے بھیج دیں۔
میری عوام سے بھی گزارش ہے کہ جس طرح وہ ہر کام میں مغربی ممالک کی تقلید کرتے ہیں، ایسے ہی وہ احتجاج اور مظاہرے کرتے وقت بھی کرلیا کریں۔ میں ‘میٹرو بس’ ان کی دوست اور ان کے سفر کی بہترین ساتھی ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ مجھ پر سفر نہ کرتے ہوں لیکن آپ کے اپنے علاقے، شہر، صوبے یا کم از کم ملک کے لوگ تو مجھ پر سفر کرتے ہیں اور میں ان کی ضرورت بن گئی ہوں آپ میرا نہ صحیح اپنے لوگوں کو ہی خیال کرلیں۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
شکریہ۔
The post ‘میٹرو بس’ کی عوام سے درخواست appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2ty0fu3
No comments:
Post a Comment