یکم مئی کی تاریخ ہر سال آتی ہے اور گزر جاتی ہے۔ یہ دن مزدوروں کی شناخت کا دن کہلاتا ہے۔ اس دن وطنِ عزیز میں بھی عام تعطیل ہوتی ہے جس میں مزدور کے علاوہ سب چھٹی پر ہوتے ہیں۔
اس وقت مزدور کی کم سے کم اجرت 14000 روپے ہے جبکہ 2018ء کے بجٹ میں اس پر کوئی نظر ثانی نہیں کی گئی بلکہ اسے صوبائی معاملہ قرار دے کر جان چھڑا لی گئی ہے۔ صنعتی مزدوروں کے تحفظ کے لیے عرصہ دراز سے سوشل سیکورٹی کا ادارہ موجود ہے مگر عملی طور پر مزدوروں کے حقوق کا تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ ایک تولہ سونا کے برابر ماہانہ اجرت دینے کا دعویٰ کرنے والے آج تک مزدور کو تعلیم، صحت، بعد مرگ انشورنس جیسی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
کبھی نیا پاکستان، کبھی ایک پاکستان، تو کبھی نظریاتی پاکستان۔۔۔ بس نعرے ہی نعرے۔۔۔ دعوے ہی دعوے
جالب نے کیا خوب کہا تھا
اے شاعر مشرق یہی جھوٹے یہی بد ذات
پیتے ہیں لہو بندہ مزدور کا دن رات
مئی کا دن مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دراصل یہ دن شکاگو میں مارے جانے والے مزدروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مزدور تحریک بنیادی طور پر 1860ء سے شروع ہو چکی تھی جو مختلف جبر و ستم کے مراحل طے کرتے ہوئے 1886ء کو اسٹارک ہارویسٹر کے 80 ہزار مزدوروں نے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لئے احتجاج شروع کیا۔ فیکٹریوں میں دوران کام مزدور محنت طلب کام کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہونجاتے تھے۔ مزدوروں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔ ان مطالبات کے سلسلے میں دوسرے روز یکم مئی 1886ء کو بھی شکاگو کے سارے کارخانوں میں مکمل ہڑتال رہی۔ 3 مئی کو ہڑتالی مزدوروں نے بہت بڑا جلسہ کیا جس میں سرمایہ دار نے اپنا رنگ دکھایا۔ اس جلسے میں پولیس نے بلاوجہ فائرگ کی جس میں 5 مزدور ہلاک ہو گئے۔
اتنی قربانیوں کے باوجود بھی مزدور سدا مزدور ہی رہتا ہے۔
اس شہر میں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیں
جس نے سب کے گھر بنانے اسکا کوئی گھر نہیں
پاکستان میں قومی سطح پر یوم مئی منانے کا آغاز 1973ء میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مزدوروں کے حقوق کیلئے انقلابی لیبر پالیسی نافذ کی جس کے مطابق مزدوروں کو روزگار کا تحفظ دیا گیا اور انہیں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان کے دور حکومت سے یکم مئی کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا۔ اس دن تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور بنک بند رہتے ہیں۔
مگر مفلس مزدور کی چھٹی کبھی نہیں ہوتی۔ اسے تعطیل لفظ سے کبھی کبھی آشنائی نہ ہو سکی۔
کیا ملیں اس لیے دن رات کپڑا بنتی ہیں
کہ مزدور کی بیٹی تار تار کو ترسے
مزدور اگر خوشحال ہوں گے تو وہ دلجمعی سے کام کریں گے۔ اگر وہ ڈٹ کر کام کریں گے تو کارخانے کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ جب کارخانے کی پیداوار بڑھے گی تو ملک کی معیشت ترقی کریگی۔ آجر اور اجیر کے تعلقات اگر خوشگوار ہوں گے تو ملک میں صنعتی امن قائم ہوگا۔ جب محرومی البتہ مزدور کا مقدر بن جائے اور جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ فرعون، تو پھر شاعر لامحالہ کہہ اٹھتا ہے کہ
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
دینِ اسلام کی نظر میں مزدوری کرنے والا اللہ پاک کا دوست ہے۔ اپنے گردو پیش میں نظر دوڑائیں کہ ہمارا اجتماعی رویہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ہے ۔ کیا ہم انکا حق بروقت ادا کرتے ہیں؟ انکی دکھ پریشانی میں انکے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ چند ایک کو چھوڑ کر اکثریت کا جواب نفی میں ہی ہوگا۔ محبت کے میٹھے دو بول بھی مزدور کا دل خوش کر سکتے ہیں۔
عملی طور پر یہ طبقہ جن مشکلات کا شکار ہوتا ہے، ہم عام زندگی میں اسکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
جلسے، ریلیاں، سمینار مزدور کا مقدر نہیں بدلیں گے جب تک زمینی حقائق کے مطابق انکی فلاح و بہبود کا کام ریاست سر انجام نہیں دے گی۔
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
The post ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2Fy7W4a
No comments:
Post a Comment