استاد محترم بڑے بھائی زاہد عابد کی فیس بک پر پوسٹ پڑھی تو رہا نہ گیا۔ قصور میں ہونے والے واقعہ گزشتہ روز سے اپنے ذہن میں آنے ہی نہیں دے رہا تھا لیکن ضبط ٹوٹ گیا۔ ایک سال میں 10 بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس اور حکومتی انتظامیہ ناکام نہیں بلکہ قصور میں ہے ہی نہیں۔
یہ واقعہ حرام خوری کی انتہا اور بے حسی کی داستان ہے۔ قصور کے ٹھیکے داروں اور حکام بالا تم ذرا سوچو کہ زیادتی کی بھینٹ چڑھنے والی یہ بچیاں کیسے والدین کے لخت جگر کا ٹکڑا ہوں گی۔ اپنے گھروں میں موجود معصوم پریوں کو ذرا دیکھو گھر میں پیار لیتی ہوئی ننھی پریوں کو ذرا دیکھو۔ بھیا، باباجانی، ماما، پیارے ماموں اور دیگر ناموں کو معصومیت کے ساتھ پکارتے ہوئے اور پیار لیتے ہوئے ان ننھی رحمتوں کو تو دیکھا ہو گا اور پھر پکارے جانے پر ‘صدقے تمہارے’ کی آواز بلند کر کے ان کو سینے سے لگانے والے منظر کو تو یاد کرو۔ کیا تمہارے گھر اللہ بیٹیاں نہیں دیتا؟ اور اگردیتا ہے تو جب گھروں کو لوٹتے ہو تو گھر میں موجود تمہاری اپنی ننھی بیٹیوں کو کیسے پیار کر لیتے ہو؟ ان سے کیسے نظریں ملا لیتے ہو؟ بابا کہنے پر کیسے تمہارے منہ سے صدقے نکل جاتا ہے؟ دوسروں کی بیٹیوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کی داستانیں سن کر اپنی بیٹیوں کا سامنا کیسے کر لیتے ہو؟
کوئی اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے؟ کوئی اتنا بے غیرت کیسے ہو سکتا ہے؟ کوئی اتنا پرسکون ہو سکتا ہے تو کیسے ہو سکتا ہے ؟ افسوس افسوس۔۔۔ بے حد افسوس۔ یاد رکھنا بے بس لوگ اور یہ ننھی پریاں اپنے رب کے پاس پہنچ کر اپنے رب کو رو رو کر اپنے اوپر بیتے ظلم کی داستان بتائیں گی اور میرا رب سب کچھ جاننے کے باوجود بھی انہیں اپنے پاس بٹھا بٹھا کر سنے گا۔
میں ڈرتا ہوں اس درندہ صفت کے انجام سے اور یاد کرتا ہوں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی کی بات کو کہ اگر کتا بھوکا مرگیا تو کیا جواب دوں گا اور یہاں قیامت گرانے والے 10 واقعات ہوگئے اور تمہارے لئے معمول کے واقعات کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ کیسے سو جاتے ہو ؟ تمہیں نیند کیسے آجاتی ہے؟ اسمبلیوں میں قرار دادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کے اعلی افسران کی دوڑیں بھی لگی ہوئی ہیں۔ ایسے افسران جو 9 کے بعد 10 اور 10 کے بعد گیارہویں واقعے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ڈوب مرو، اگر تھوڑی سی بھی شرم رکھتے ہو تو آج ڈوب مرو۔
The post تمہیں ننید کیسے آجاتی ہے؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ http://ift.tt/2mCna0D
No comments:
Post a Comment