گزشتہ رات نو بجے کا بلیٹن شروع ہوتے ہی تمام چینلز کے مونٹاج میں گلوکار علی ظفر کے گانے سنائی دیے تو امت کے اتحاد و یگانگت پر حیرانی ہوئی۔ ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کر کئی چینلز تبدیل کئے لیکن ہر جگہ علی ظفر پر میشا شفیع کے الزامات ہی پہلی خبر تھی۔
پاکستانی کی معروف گلوکارہ میشا شفیع نے گلوکار اور اداکار علی ظفر پر انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ گلوکارہ میشا شفیع نےاپنی ٹویٹ میں کہا کہ علی ظفر نے ایک سے زائد بار جنسی طور پر انہیں ہراساں کیا۔ اب ان کا ضمیر مزید خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر شوبز کی جگمگاتی روشنیوں کے پیچھے چھپی بدنما حقیقتوں کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔
Sharing this because I believe that by speaking out about my own experience of sexual harassment, I will break the culture of silence that permeates through our society. It is not easy to speak out.. but it is harder to stay silent. My conscience will not allow it anymore #MeToo pic.twitter.com/iwex7e1NLZ
— Meesha Shafi (@itsmeeshashafi) April 19, 2018
میشا شفیع نے علی ظفر پر الزامات ٹویٹر پر لگائے جن کے جواب میں علی ظفر نے بھی اپنی ٹویٹ میں گلوکارہ کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ وہ خاموش نہیں رہیں گے بلکہ اس معاملے کو عدالت لے جائیں گے۔ معاملہ اب کیا رخ اختیار کرے گا؟ کیا علی ظفر اپنا دفاع کر پائیں گے؟ کیا میشا شفیع کے اپنے الزامات کو ثابت بھی کریں گی یا یہ الزامات صرف الزامات ہی رہیں گے اور بات آئی گئی ہوجائے گی؟ یہ سب وقت کے ساتھ ساتھ ہی معلوم ہوگا۔
— Ali Zafar (@AliZafarsays) April 19, 2018
گلوگارہ میشا شفیع نےعلی ظفر پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا اور ساتھ “می ٹو” ہیش ٹیگ کا استعمال کیا۔ گزشتہ چند ماہ میں سوشل میڈیا پر یہ “می ٹو” ہیش ٹیگ بہت زیادہ استعمال کیا گیا۔ گزشتہ ایک سال میں “می ٹو” ہیش ٹیگ دنیا بھر میں جنسی ہراسگی کا شکار خواتین کی آواز بن کر ابھرا ہے۔ ٹویٹر پر جاری اس “می ٹو” تحریک کے کڑیاں ہالی وڈ میں جنسی ہراسگی کے ایک بڑے اسکینڈل سے ملتی ہیں۔
پچھلے سال ہالی وڈ کے ایک فلم پروڈیوسر “ہاروی وائنسٹن” پر کئی اداکارائوں اور خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اس اسکینڈل کے منظرعام پر آتے ہی امریکی اداکارہ “ایلیسا ملانو” نے ٹویٹر پر “می ٹو” کے عنوان سے ایک احتجاجی مہم کا آغاز کیا۔ یہ ہیش ٹیگ اتنا مقبول ہوا کہ دنیا بھر سے خواتین کے احتجاجی پیغامات کی ڈھیر لگ گئے۔ امریکی اداکارہ اینجلینا جولی، گوینتھ پالٹرو جنیفرلورینس سمیت کئی اداکارائوں نے جو تفصیلات بیان کیں وہ شرمناک ہیں۔ ایک خبر کے مطابق “ہاروی وائنسٹن” بالی ووڈ اداکارہ اور سابقہ مس ورلڈ ایشوریہ رائے سے بھی تنہائی میں ملنے کے خواہشمند تھے۔
“می ٹو” ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے اب تک لاکھوں لوگ اپنے غم وغصے کا اظہار کرچکے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی خواتین نے اس ہیش ٹیگ کا استعمال کیا۔ متعدد فنکاروں نے اپنے بچپن کے جنسی طور پر ہراسان ہونے کے واقعات کے بارے میں بات کی جن میں فریحہ الطاف اور مہین خان زیادہ نمایاں ہیں۔ اسی طرح یہ مہم بالی ووڈ بھی پہنچی اور وہاں بھی کئی فنکاروں نے اس مہم کو بھرپوراستعمال کیا جن میں کنگنا رناوت، کونکنا سین اور رادھیکا اپٹے بھی شامل ہیں۔
امریکی ٹائمز میگزین نے “می ٹو” تحریک کو 2017ء کی موثرترین تحریک قرار دیا ہے لیکن پاکستان میں “می ٹو” مہم کو اتنی پذیرائی علی ظفر پر الزامات لگنے کے بعد ہی ملی۔ بلاشبہ علی ظفر پاکستان کا بڑا نام ہیں اور مشہور و معروف گلوکار اور اداکار ہیں۔ ایک ایسے سٹار پر جنسی ہراسگی کا الزام لگنا جو پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان ہے پریشان کن بات ہے۔ ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیے۔ علی ظفر کا عدالت جانے کا اعلان احسن قدم ہے۔ جلد اس معاملے کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہئیے۔
لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب سے یہ “می ٹو” نامی مہم شروع ہوئی اور خواتین نے الزامات لگائے لیکن کسی مرد کو سزا ہوئی نہ ہی الزامات ثابت ہوئے۔ خواتین اداکارائوں نے جنسی ہراسگی سے متعلق بیان دیے اور بات آئی گئی ہوگئی یا صرف خبر کی زینت بن گئی ۔ ہالی ووڈ ہو یا بالی ووڈ خواتین نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ انہیں فلموں میں آنے کیلئے یا انٹرٹینمںٹ انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کیلئے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ خواتین کے بیانات کے بعد بھی کسی طرف سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اورہر طرف خاموشی چھائی رہی۔ کسی مرد اداکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر نےآواز نہیں اٹھائی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یا تو مرد اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے یا وہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہی نہیں چاہتا بلکہ وہ خواتین کو صرف اور صرف اپنے مطلب کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں سینکڑوں افراد نے “می ٹو” تحریک سے متاثر ہو کر جنسی ہراسگی کےمتاثرین کی حمایت میں جلوس نکالا اور جلوس کے شرکاء میں بھی زیادہ تعداد خواتین کی ہی تھی۔
جب بات ہماری مائوں، بہنوں کی آتی ہے تو ہماری غیرت جاگ جاتی ہے لیکن جب بات کسی اور خاتون کی ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ صرف الزامات ہیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کا معصومانہ طریقہ ہے۔ خواتین کو نہ صرف شوبز میں بلکہ باقی تمام شعبہ جات میں جنسی ہراسگی کاسامنا کرنا پڑتا ہے اگر وہ آواز اٹھائیں بھی تو ان کی آواز دب جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی پاکستان کی سیاست میں بھی ہوا تھا۔ حال ہی میں عائشہ گلالئی نے اپنی پارٹی کے چئیرمین پرجنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تو خواتین سمیت پوری پارٹی ان کے خلاف ہوگئی اور آج یہ بات شاید ہی کسی کو یاد بھی ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میشا شفیع کے الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں یا کچھ دن بعد ہم یہ الزامات بھی کسی عام خبرکی طرح بھول جائیں گے۔
The post میشا شفیع کے الزامات اور”می ٹو” ہیش ٹیگ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2HdOob9



No comments:
Post a Comment