جوں جوں انتخابات کا وقت آ رہا ہے، عوامی نعروں کا موسم بھی قریب آتا جا رہا ہے۔ ایک طرف سیاسی جماعتوں کی غیر اعلانیہ انتخابی مہم دن بدن زور پکڑ رہی ہے تو دوسری جانب سیاسی جماعتیں الیکٹیبلز کی تلاش میں ایک دوسرے کے بندے توڑنے میں مصروف ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی اس پوری جدوجہد کے پیچھے خواب صرف ایک ہے جس کی تکمیل کے لیے وہ رات دن ایک کر رہی ہیں اور وہ خواب ہے وزارتِ عظمیٰ کا تخت۔ اس خواب کی تعبیر پانے کے لئے کبھی کبھار اپنے ضمیر کا سودا بھی کر لیا جاتا ہے، قوم کو بیوقوف بنانا پڑے تو وہ بھی بنا لیا جاتا ہے، قوم کا استحصال کرنا پڑے تو وہ بھی کیا جاتا ہے کیونکہ مقصد ذاتی مفادات ہوتا ہے نہ کہ عوامی ترجیحات۔
وزارتِ عظمیٰ کے تخت کی تلاش میں عوام سے بلند و بالا دعووں کا بازار لگنا شروع ہو چکا ہے۔ کہیں سے بدلا ہے پنجاب تو بدلیں گے پاکستان اور کہیں سے بنے گا نیا پاکستان کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ بلوچستان میں احساس محرومی کے خاتمے اور سندھ کی عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کی صداؤں سےخوش کیا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات کہ ہم بحیثیت قوم کس درجہ تنزلی کا شکار ہیں کہ ہم اچھے اور برے میں فرق نہیں محسوس کرسکتے۔ ہم فریب بھی کھاتے ہیں تو کس سادگی کے ساتھ۔ ہم پانچ سال صرف نعروں اور جھوٹے دعووں اور جھوٹی امیدوں کے سہارے اپنی نسلوں کے مستقبل کا سودا کر دیتے ہیں۔
ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہمارا حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ بھی تھا کہ ووٹ کے بدلے ہمیں کیا کیا ملنا تھا۔ ہم سوال کرنا تک گوارا نہیں کرتے۔ ان حکمرانوں نے ہماری نسلوں کو کس جہنم میں دھکیل دیا ہے کہ لاکھوں نوجوان ڈگریاں رکھنے کے باوجود دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ نہ ہمیں علاج کے لیے کوئی اچھے اسپتال ملے نہ شعور کی آگاہی کے لیے تعلیمی ادارے، بس ملی تو رسوائی اور ذلت۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت ایک بہترین انتقام ہے۔ ایک اور جمہوری حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے جا رہی ہے، ان گزرے پانچ سالوں میں عوام کو کیا ملا؟ عوامی مسائل کتنے حل ہوئے؟ کتنا روزگار ملا؟ کتنی سہولیات ملی؟ آج نہ جان کا تحفظ ہے نہ مال کا۔ نام نہاد خادمِ اعلیٰ پنجاب جب بھی عوامی اجتماع سے مخاطب ہوتے ہیں، وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ جس نے ترقی دیکھنی ہے، وہ لاہور آکر دیکھ لے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ وزیرِ اعلیٰ صاحب کیا پورا پنجاب صرف لاہور ہی ہے؟
سندھ کی عوام پسماندگی اور بدحالی میں زندگی بسر کرتی رہے گے مگر سوال کرنے والا کوئی دکھائی نہ دے گا۔ بلوچستان کی عوام احساس محرومیوں کا رونا روتی رہے گی مگر اس ظلم کے خلاف نہیں اٹھے گی۔ خیبر پختونخوا کی عوام کو یہاں داد دینی ہوگی کہ انہوں نے ہر بار نئے بندے کو موقع دے کر ایک اپنی سی کوشش تو کی ہے لیکن اجتماعی طور پر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کب تک ان سیاسی نعروں کے سہارے اپنی نسلوں کو ان کے حوالے کرتے رہیں گے؟ کب تک ان کرپٹ حکمرانوں کے جھوٹے دعووں پراعتبار کرتے رہیں گے؟
بدلتے موسموں کی طرح سیاسی نعرے بھی بدلتے ہیں۔ ہمیں نہ بدلا ہوا پاکستان چاہئیے نہ نیا پاکستان چاہئیے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے حقوق چاہئیے۔ خدارا اس بار کھوکھلے نعروں کی زنیت بننے کی بجائے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں اور اچھے لوگوں کا چناؤ کریں ورنہ پھر پانچ سال اندھیروں اور چراغوں کی تلاش میں ہی گزریں گے۔
The post عوامی نعروں کا قریب آتا موسم appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2HjzCzP
No comments:
Post a Comment