انتیس اپریل 2018ء، وہی لاہور، وہی پی ٹی آئی کے لہراتے پرچم، مینار پاکستان کو منٹوپارک کے زمانے کی سیاسی سرگرمی کی یاد تازہ کروا رہے تھے۔ چاروں طرف ایسا منظر کہ دل عش عش کر اٹھتا تھا۔ دیکھنے والوں نے اپنی ٹی وی اسکرین پر ایسے توجہ دے رکھی تھی کہ لگتا تھا کہ لاہور میں ایک بار پھر کوئی تقدیر لکھی جانی تھی۔
مینارِ پاکستان وہ مقام ہے جہاں کبھی قراردادِ لاہور منظور ہوئی تھی۔ جس نے اس خطے کی تقدیر بدلی تھی۔آج بھی پورا پاکستان اسی جگہ جمع ہونے جا رہا تھا۔ لفظوں میں جذبوں کو بیان کرنا محال سا لگ رہا تھا۔ چہروں پر کپتان کے کھلاڑیوں کی کچھ الگ ہی کیفیت تھی۔
سوچیں برسوں سے جن بچوں نے کبھی سیاست کی تعریف نہ سنی تھی وہ سب ہی آج اس جگہ صرف اپنے کپتان کی ایک آواز پر جمع ہونے چلے آئے تھے۔ نہ پیسے کی پروا نہ وقت کی خبر بس۔ کیسے کہوں کہ کون لوگ ہوں گے جنہوں نے ساری عمر سیاست کو برا ہی سنا تھا۔ پہلی بار کپتان نے انہیں بتایا کہ سیاست بری نہیں ہوتی۔ جب درست ووٹ ڈالو گے تو ہی سیاست کے رنگ جمیں گے۔
اٹھائیس اپریل کی شب بھی مینارِ پاکستان کے مناظر دیکھنے میں ایسے لگے کہ گویا آج ہی جلسہ ہو۔ مگر جلسہ تو انتیس کو تھا۔ کپتان کال دے اور لوگ نہ آئیں، اب ایسا نہ ہوگا۔ سب جانتے تھے۔ کہتے ہیں جس نے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ای نئی۔ تو آج کے جلسے کے بعد کہا جا سکتا تھا کہ سب کا جنم ہو چکا ہے اور یہ جنم کچھ اور نہیں بلکہ سیاسی جنم ہوگا۔
کئی نئے چہرے اسٹیج پر موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ ہوں یا عامر لیاقت سب اپنے انداز سے مسکرا رہے تھے۔ آج کے دن اتنا کراؤڈ دیکھ کر عامر لیاقت نے یقیناً سوچا ہوگا کہ جناح گراؤنڈ میں تو محض ایک لسانی اکائی کی ترجمانی کرتے مناظردیکھنے میں آتے تھے اور مینارِ پاکستان میں تو ہر جگہ کا رہائشی موجود تھا۔ عامر لیاقت اب کراچی میں مقیم مہاجروں کے نمائندے کے طور پر ایک وفاقی پارٹی کا حصہ بن کر مہاجروں کے مسائل حل کرنے کو بے تاب نظر آئے۔
تمام انصافینز کو کامیاب جلسہ مبارک ہو! pic.twitter.com/vap6GwHJcc
— Aamir Liaquat Husain (@AamirLiaquat) April 29, 2018
دور کیوں جائیں۔۔۔ حال ہی میں عامر لیاقت نے جب عزیز آباد سے متصل بھنگوریہ ٹاؤن میں قادریہ مسجد کے پاس پانی کی عدم فراہمی کے حوالے سے ایک پروگرام کیا تو انہیں پی ٹی آئی کے ہی طعنے ملے اور کہا گیا کہ وہ پی ٹی آئی کے ووٹ پکے کرنے آئے ہیں۔ اگلے دن جب وہ گئے تو انہیں بھنگوریہ ٹاؤن کے باہر پھاٹک پر ہی روک لیا گیا۔ اس مرتبہ روکنے کیلئے پولیس استعمال کی گئی۔ سیاسی جماعتوں نے چاہا کہ اب پانی تو دیں گی مگر اس پانی کو پی ٹی آئی کا پانی نہیں کہا جا سکے گا۔
ہیش ٹیگ “پی ٹی آئی مینارِ پاکستان جلسہ” ٹوئٹر کے پاکستان پینل پر جلسے کی اگلی صبح گیارہ بجے بھی پہلے نمبر پر تھا۔ اسی طرح “دو نہیں ایک” پاکستان پینل پر تیسرے نمبر پر موجود تھا۔پینل پر یہاں تک پہنچانے میں پی ٹی آئی کی آفیشل ٹیم ہو یا فرحان ورک اور ان کے ساتھیوں کی انتھک محنت۔ نتیجہ تو سب کے سامنے تھا۔
#PTIMianrePakistanJalsa How many people? What’s your guess guys! pic.twitter.com/czgWigK88J
— Farhan K Virk (@FarhanKVirk) April 29, 2018
سوات میں ہونے والے ایک جلسے میں درون خان پاکستانی پرچم لئے چلے گئے جو ان سے لپیٹ لینے کا تقاضا کیا گیا۔ بقول فرحان ورک ایسے جلسے افغانی کر رہے ہیں اور ان کے پاس پاکستان کے شناختی کارڈ بھی یقیناً موجود ہوں گے۔ عاصم خان نامی فرد کا تو موبائل فون بھی ٹوٹ گیا۔ یہ سب بھی پی ٹی آئی کے کارکن ہیں اور سرحد میں نسل پرستوں کے خلاف لڑنے والی واحد دیوار پی ٹی آئی کے کارکنوں کی صورت میں کھڑی ہے۔
پی ٹی آئی کی صورت میں پاکستان میں ایک وفاقی پارٹی کا وجود گویا تحفظ پاکستان کے لحاظ سے دم غنیمت سمجھیں۔ فرحان ورک سے گفتگو ہوئی تو کہنے لگے میری نظر میں پاکستان کی سلامتی سب سے پہلے ہے۔ اتنی میچور گفتگو کی مجھے کسی نوجوان سے تو توقع ہر گزنہ تھی۔ اسی وجہ سے میں یہ سن کر قدرے حیران سا رہ گیا۔ ایک سادہ سا نوجوان جو اپنی تعلیم کو بھی وقت دیتا ہے اور سوشل میڈیا کے ساتھ عملی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیتا ہے۔ اسے پی ٹی آئی کے جلسے میں اسٹیج پر نہ دیکھ کر مجھے افسوس ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کو اتنے باصلاحیت نوجوان کو سوشل میڈیا ٹیم میں اہم مقام دینا لازم ہے اور جلسے میں اسٹیج پر ایک نشست اس کا حق بھی ہے۔ سوچئے گا ضرور
The post مینار پاکستان جلسہ اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2I2ISI8
No comments:
Post a Comment