ہم تو شروع سے ہی سیاست دانوں سے ڈرتے ہیں اور خاص طور پر یتیم سیاست دان سے۔ سیاسی یتیم ایسے سیاست دانوں کو کہا جا رہا ہے جنہوں نے نہ تو سوچنا ہوتا ہے کہ یہ بات کہنی ہے کہ نہیں اور نہ ہی انہیں بات کرتے وقت یہ شعور ہی ہوتا ہے کہ وہ کیا کر یا کہہ رہے ہیں۔
اس سے ہٹ کر اس قسم کے سیاسی یتیم بھی ہوتے ہیں۔ ان کی نہ تو کوئی پارٹی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مستقل رائے ہوتی ہے۔ اپنا ٹٹو وہ دھوڑ میں ہی دوڑاتے رہتے ہیں۔ اپنا قد اونچا کرنے کے لئے وہ دوسروں کی پگڑی یا ٹوپی اچھالنے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ سیاسی یتیم اپنی پارٹی تو بنا لیتے ہیں مگر ان کی دانش مندی لوٹا پن اور بار بار ٹانگے بدلنے کی عادت سے انہیں ہر کوئی رد کر دیتا ہے سوائے ایک تبدیلی والی پارٹی کے یا پھر زندہ ہے والی پارٹی کے کہ جن کے پاس ٹکٹیں ہیں پر امیدوار نہیں۔
یہ بلا وجہ دوسروں پر تنقید کرنے کے لئے ہر چینل پر خود ہی آ جاتے ہیں اور چینل والوں کے پاس جب کوئی اور مبصر نہ ہو وہ ان سیاسی یتیموں کو بلا لیتے ہیں۔
انہیں سیاسی نقطہ نظر سے تانگہ پارٹی بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک تانگے جتنی سواریوں سے بھی کم افراد پر مشتمل پارٹی ہوتی ہیں۔ عام طور پر یہ فرد واحد کی کل کائنات ہوتی ہیں وہی اس کا چئیر مین، سیکریٹری، اور کارکن بھی وہ واحد ہی ہوتا ہے۔ ایسی پارٹیوں کے سربراہان اکثر شادی کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اگر کسی نہ کسی طریقے سے ہو بھی جائے تو وہ جلد ہی علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ علیحد گی کی وجہ نظریاتی اختلاف ہوتا ہے۔ بیوی کہتی ہے کہ کوئی ڈھنگ کا کام کرو اور یہ موصوف اپنی لت سے باز نہیں آتے۔ ایسی ہی پارٹی میں اب ایک بڑے چوہدری کا اضافہ بھی ہونے جا رہا ہے جو اپنی ذات میں خود ہی افلاطون ہیں اور ہر بات پریس کانفرنس میں کرنے کے شوقین ہیں۔
ان میں سے اکثر کی حس مزاح اور حس طنز بہت تیز ہوتی ہے۔ ہر بات کو مذاق میں اڑانے کا فن خوب جانتے ہیں۔ ان کو اپنی بے عزتی کا پتہ ہی نہیں چلتا اور وہ ہو بھی جاتی ہے۔ اسی لئے تو یہ بہت چٹکلے باز بھی ہوتے ہیں۔ جتنےمن گھڑت قصے ان کے پاس ہوتے ہیں اتنے کسی کے پاس نہیں کیونکہ انہوں نے خود ہی نیا قصہ گھڑ لینا ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ تو سنا ڈالتے ہیں دوسری بار کبھی کبھار اور تیسری بار کی تو نوبت ہی نہیں آتی کیونکہ اس وقت تک یہ حضرت اس قصے کی تردید بھی کر چکے ہوتے ہیں اور معذرت بھی۔
یہ سیاسی یتیم شکل سے ہرگز ایسے نہیں دکھتے بلکہ جب تک اپنا تعارف نہ کروائیں یا بات نہ شروع کریں ہمیں پتہ نہیں چل پاتا کہ یہ سیاسی یتیم ہیں۔
کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ سیاسی یتیم ہیں مگر لوگ بھی طبیعت کو خوش رکھنے اور خوش کرنے کے لئے ان کی موشگافیاں سنتے ہیں۔
The post سیاسی یتیموں میں اضافہ کا رحجان appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2MOHkRD
No comments:
Post a Comment