انتخابات دو ہزار اٹھارہ کے دو بڑے نعرے تھے ایک “ووٹ کو عزت دو” اور دوسرا نعرہ تبدیلی کا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت بنا کر ملک میں تبدیلی لائے گی یا نہیں اس پر تو ابھی تک سوالیہ نشان ہے بلکہ تبدیلی آنے تک سوالیہ نشان ہی رہے گا۔ آنے والی حکومت کیا کرتی ہے یہ دور کی بات ہے لیکن انتخابات دو ہزار اٹھارہ کے نتائج نے ہی بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے۔
عام انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹ گئے ہیں۔ وہ لوگ جو پارلیمنٹ کی جان سمجھے جاتے تھے اب ایوان میں ان کا چہرہ تک نظر نہیں آئے گا۔ سیاست کے بڑے نام اب پارلیمنٹ میں نہیں جاسکیں گے۔ قومی اسمبلی میں چودھری نثار کی گھن گرج بھلا کون بھول سکتا ہے لیکن اس بار سابق وزیرِ داخلہ چودھری نثار کی پارلیمانی سیاست اور جیپ دونوں کو ہی بریک لگ گئی ہے۔ اب پارلیمنٹ میں چودھری نثار کی گھن گرج سنائی نہیں دے گی۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور ملکی سیاست کے بڑے برج خواجہ سعد رفیق بھی تحریک انصاف کی سونامی میں بہہ گئے۔ پارلیمنٹ کے فلور پر اپنی دھاک بیٹھانے والے خواجہ سعد رفیق پارلیمنٹ جانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بات تسلیم کرنے والی ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے این اے 131 میں عمران خان کے خلاف بھرپور مقابلہ کیا اور صرف 680 ووٹوں سے ہارے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کو اپنی کارکردگی پر اتنا یقین ہے کہ انہوں نے دوبارہ گنتی کی درخواست دے دی ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو کون نہیں جانتا، کل تک وہ پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر ببانگِ دہل کہا کرتے تھے کہ میرا وزیراعظم نواز شریف ہے اور آج وہی شاہد خاقان عباسی جو خود کو وزیراعظم مانتے ہی نہیں تھے وہ اپنے دونوں حلقوں سے سیٹ ہار گئے ہیں اور ان پر پارلیمنٹ کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔
گذشتہ حکومت میں مسلم لیگ ن کا سب سے زیادہ اگر کسی نے دفاع کیا ہے تو وہ طلال چودھری اور عابد شیر علی ہی ہیں۔ مسلم لیگ نون کا دفاع کرنے والے یہ دونوں جوشیلے رہنما اب ٹی وی پر پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھا کریں گے۔ عابد شیر علی اور طلال چودھری کو اپنی آبائی سیٹوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ویسے یہ بات کسی حد تک ہمارے ایوان کے حق میں ہی ہے کیوں کہ ان دونوں کی زبان جب چلتی ہے تو کب کیا اگل دے یہ خود انہیں بھی نہیں پتا ہوتا اور عابد شیر علی کے تو ہاتھ بھی چل جاتے تھے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا دوبارہ اسمبلی میں جانے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ یوسف رضا گیلانی کو ملتان سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
ایم ایم اے کے رہنما مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق جیسے بڑے ناموں کو تحریک انصاف کی سونامی نے پارلیمنٹ سے کوسوں دور کر دیا ہے۔ شاید یہ پارلیمنٹ سے دوری ہی ہے جس نےآج کل مولانا صاحب کو بہت زیادہ غصہ دلا دیا ہے۔ مولانا صاحب اتنے گرم ہوگئے ہیں کہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد ملک گیر تحریک چلانے، احتجاج کرنے اور حلف نہ اٹھانے تک کا اعلان کر دیا ویسے میں نے پوچھنا تھا مولانا صاحب آپ کونسی سیٹ جیتے ہیں جس پر حلف نہیں اٹھائیں گے؟
لاہور کی سیٹوں پر زیادہ تر نتیجے وہی آئے ہیں جو سب توقع کر رہے تھے، مجھ جیسا سیاسی نابالغ بھی کہہ رہا تھا کہ تحریک انصاف 4 یا بہت بھی جیتی تو 5 سیٹیں جیتے گی لیکن اس کے باوجود یاسمین راشد کی جیت یقینی نظر آ رہی تھی مگر شریف فیملی کے آبائی حلقے کو جیتنا یقیناً مشکل تھا اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد این اے125 کی سیٹ ہار گئیں جس کا مجھ سمیت ہر کسی کو افسوس ہے۔
لاہور میں علیم خان کی جیت بھی یقینی سمجھی جا رہی تھی لیکن ایاز صادق کا ایسا جادو چلا کہ علیم خان ایک بار پھر شکست کھا گئے اور اب پارلیمانی سیاست کا تجربہ حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔ ویسے جناب نے وسطی پنجاب میں 41 امیدواروں کو قومی اسمبلی کے ٹکٹس دلوائے تھے جن میں سے 32 امیدوار ہار گئے اور صرف 9 ہی جیت پائے۔ علیم خان کی اس کارکردگی پر بھی کئی سوالیہ نشان ہیں۔
مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف چار حلقوں سے میدان میں اترے لیکن انہیں صرف لاہور سے کامیابی ملی باقی تین حلقوں میں منہ کی کھانی پڑی۔ کراچی کے حلقےاین اے249 سےتحریک انصاف کے فیصل ووڈا نے شہباز شریف کو چت کیا، وہ سوات اور ڈی جی خان میں بھی تحریک انصاف کے امیدوار سے ہار گئے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو لیاری سے نہ صرف ہارے بلکہ تیسرے نمبر پر رہے جو یقیناً ایک بڑا اپ سیٹ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری مالاکنڈ کے حلقے این اے8 سے بھی تحریک انصاف کےامیدوار سے مات کھا گئے۔
کراچی کی سیاست کی سرگرم ترین شخصیت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار بھی پارلیمنٹ سے کافی دور ہو چکے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو این اے 245 کراچی سے تحریک انصاف کے عامر لیاقت نے ہرایا۔ جی ہاں یہ وہی عامر لیاقت ہیں جو ٹی وی شو میں لوگوں کو آم کھلاتے ہیں۔
فاروق ستار کو این اے247 کراچی میں بھی تحریک انصاف کےعارف علوی نے شکست دی۔ فاروق بھائی اچھی خاصی ضد کر رہے تھے کہ مجھے چھٹی دے دو میں الیکشن نہیں لڑوں گا، پتہ نہیں کیوں چھٹی منظور نہیں ہوئی اور لمبی چھٹی مل گئی۔
اے این پی کے اسفند یار ولی اور غلام احمد بلور کی بھی شکست کے بعد پارلیمانی سیاست سے چھٹی ہوگئی۔ محمود اچکزئی کے بھی ہاتھ کچھ نہیں آیا اور عائشہ گلالئی کی تو یہ حالت ہے کہ چار سیٹوں پر الیکشن لڑے اور چاروں کی چاروں جگہ سے ہار گئیں۔ اسی طرح جمشید دستی کو بھی پتہ چل گیا کہ عوام راج پارٹی نہیں چلے گی۔
The post الیکشن 2018: کئی بڑے برج جو الٹ گئے appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2Ahryw3





No comments:
Post a Comment