مفاد پرستی ایک ایسا عمل ہے جس کے مقابلے میں قوم پرستی اور مذہبی بنیاد پرستی بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ مفاد پرستی میں اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی حد تک جایا جاسکتا ہے۔
بزرگوں سے سنا ہے کہ کام کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج کل کے گدھوں میں بھی شعور آچکا ہے۔ جب گدھے کو علم ہوجاتا ہے کہ سامنے والا شخص اسے گدھا سمجھ کر استعمال کر رہا ہے تو اس کا ضمیر جاگ جاتا ہے اور پھر وہ گدھا اپنے مالک کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے۔
مفاد پرست سیاست دان کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے اپنا مفاد لازمی دیکھتے ہیں اور جب کسی کو لات مارتے ہیں تب بھی اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔ جس کے بعد سیاست دانوں کی ساری عمر اپنے حمایتیوں کو دو باتیں سمجھانے میں گزر جاتی ہیں۔ ایک کہ میں نے اس سے ہاتھ کیوں ملایا تھا اور دوسرا کہ میں نے اب اسے لات کیوں ماری ہے۔
بزرگوں سے یہ بھی سنا ہے کہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتی جو اپنا ماضی بھول جاتی ہیں۔
چوہدری نثار علی خان جنہوں نے اپنی ساری زندگی اپنے نااہل قائد جناب نوازشریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن کے لیے وقف کردی مگر حال ہی میں ضمیر جاگنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ نواز شریف انہیں گدھا سمجھ کر استعمال کر رہے تھے جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کرلی اور آزاد حیثیت میں مسلم لیگ ن کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ چناچہ اب چوہدری نثار اپنے چاہنے والوں کو دو باتیں سمجھانے میں انتہائی مصروف ہیں کہ میں پہلے نوازشریف کے ساتھ کیوں تھا اور اب ساتھ کیوں نہیں ہوں۔ یہ دو باتیں سمجھانا اتنا آسان نہیں کیونکہ عوام اب بھولی نہیں رہی۔
ایک وقت تھا جب نوازشریف اپنے پیارے بچے شیخ رشید کو چوم رہے تھے اور شیخ رشید اپنے آپ کو انتہائی خوش نصیبی سمجھا کرتے تھے مگر آج شیخ رشید صاحب اسی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونا اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں جس نے ببانگِ دہل کہا تھا میں شیخ رشید کو کبھی اپنا چپڑاسی بھی نہیں رکھوں گا۔
ایک وقت تھا جب مصطفیٰ کمال اپنے قائد الطاف حسین کو والدِ محترم کہا کرتے تھے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر میں ٹیلیفون آپریٹر کی کرسی سے اپنا سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ ناظم کراچی اور سینیٹر کی کرسی کے مزے لوٹنے کے بعد ان کا ضمیر جاگا جس کے بعد انہوں نے اپنے سیاسی والد کو شرابی اور غدار کا لقب دے دیا۔ اب وہ اپنے والد کی جماعت کے خلاف الیکشن لڑنے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں۔ ساتھ میں اپنے چاہنے والوں کو دو باتیں سمجھانے میں بھی انتہائی مصروف ہیں کہ میں پہلے اپنے سابقہ والد کے ساتھ کیوں تھا اور اب ضمیر جاگنے کے بعد ساتھ کیوں نہیں ہوں۔
ایم ایم اے دینی جماعتوں کے اتحاد کی بات کریں تو یہ پچھلے الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے۔ مگر حالیہ الیکشن میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے بعد اپنے حمایتیوں کو وہی دو باتیں سمجھا رہے ہیں کہ ہم پہلے ایک دوسرے کے خلاف کیوں تھے اور اب اسلام کی خاطر ایک دوسرے ساتھ کیوں ہیں۔ یہ بھی دو باتیں سمجھانا اتنا آسان نہیں کیونکہ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔
معصوم عوام بھی آئیندہ الیکشن میں حلال مفاد پرستی کرتے ہوئے مفاد پرست سیاست دانوں کی طرح اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پسندیدہ جماعت کو کامیاب کرانے کے لیے اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کرے گی۔
The post حلال مفاد پرستی appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2lSLITb




No comments:
Post a Comment