یہ کہانی نہ تو عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر ہے اور نہ ہی جوانی کا جنون، یہ بڑھاپے کی دہلیز پر خود سپردی کا ایک منظر ہے جو اقتدار کی راہداریوں سے نئے نئے آشنا ہونے والے عاشق کے شوق کی تکمیل کے لئے ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں اقتدار کے ملتجی عاشق کی وارفتگی کا منظر انتہائی واضح نظر آ رہا ہے۔ کس طرح پھولوں کی پتیوں کی سیج سجائی جا رہی ہے اور پھر اپنی مرشد کامل کے گھٹنوں سے گھٹنے جوڑ کر ولی قامل کی بارگاہ میں منت مانی جا رہی ہے۔ پیرنی پنکی جی کی ایک ایک التجاء پہ عاشق اقتدار کی وفور شوق میں ڈوبی سرگوشیوں میں آمین آمین کی صدائیں بتا رہی ہیں کہ آکسفورڈ کا پڑھا، ماڈرن عمران خان اقتدار کی طلب میں اپنی مرشد بیگم کے دکھائے راہ پر کس طرح مجاھدوں کے در عبور کر رہا ہے۔
اولیاء کاملین کے آستانے سخاوت کے لئے بہت مشہور ہیں۔ ان آستانوں سے اللہ کے فضل و عطا سے بے مرادوں کی مرادیں بھر آتی رہیں اور آئندہ بھی تشنہ لب شاد گام ہوتے رہیں گے۔
مگر مجھ پر یہ منظر دیکھ کر ایک خوف سا طاری ہو رہا ہے. وہ شخص جسے صوفیاء کی طرز زندگی اور صوفیاء کی کرامات اور سلوک اور تصوف کے باب میں اولیاء و صوفیاء کے تصرف کے احوال سنا سنا کر صوفیاء کا عقیدت مند تو بنا دیا مگر اسے سلوک و تصوف اور معرفت کی راہ کی ان آزمائشوں سے شاید آگاہی نہیں دی گئی جن آزمائشوں، مجاھدوں اور جس تزکیہ نفس سے گزر کر ایک سالک کو مراد تک پہنچنا ہوتا ہے۔ بات اگر بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی دہلیز کو چومنے تک رہتی اور منت ماننے تک ہی رہتی تو مناسب ہوتی مگر یہ عقیدت کا سفر عقائد کی نئی تشریحات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹنوں پھول کی پتیوں کی سیج سجا کر من مرشد کو راضی کرنے اور خوائش نفس کی تکمیل کے لئے کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے بابا فرید سے مانگا بھی جا رہا ہے تو ایک چھوٹے سے خطے پر اقتدار اور حکمرانی، اور اس کے لئے ایسے جتن؟
اگر یہ آج کا مجاور کل الیکشن میں کسی بھی وجہ سے ہار گیا یا جو خواب بن رکھے ہیں وہ پورے نہ ہوئے تو اس آکسفورڈ کے پڑھے جدید ماحول میں پلنے بڑھنے والے کا وہ جو کمزور لاغر سا عقیدہ تھا اس عقیدے کا کیا بنے گا؟
اور پھر جس کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس سے تعلق کا کیا عالم ہو گا؟ اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
یہ عقیدت اپنی جگہ سو فی صد درست صحیح مگر ایک ایسے ماڈرن شخص کو یک دم اس انتہا تک لے جانا میرے خیال میں مناسب نہیں کہ سلوک کی راہ کے مسافر بڑے جتن کرنے کے بعد مرید بنتے ہیں۔
جو سلسلہ اپنا تسلسل قائم نہ رکھ سکے اسے زبردستی جوڑنا اور چلانے کی کوشش کرنا موت کے مترادف ہے۔ سلوک و معرفت کی راہ کے مسافر اس طریقت و معرفت کے سفر کو خون کے دریا عبور کرنے سے تشبیہہ دیتے ہیں۔اس راستے پر چل کر مملکتیں نہیں مالک کو مانگا جاتا ہے، اقتدار نہیں قدرت والے کو مانگا جاتا ہے۔
میرے خیال میں خان صاحب کے لئے “ایاک نعبدو وایاک نستعین” کا ورد اور اس پر سختی سے عمل تمام سلاسل اور تمام مجاھدوں سے بہتر تھا۔
واللہ اعلم۔
The post عشق کا ق appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2Nk4LSQ
No comments:
Post a Comment