Wednesday, July 11, 2018

 آم کے آم گٹھلیوں کے دام!

ایک MNA یا MPA الیکشن لڑنے اور جیتنے کے لیے لاکھوں سے لیکر کروڑوں روپے تک خرچ کرتا ہے اور اگر وہ کسی مقبول سیاسی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرلے تو اسے پارٹی فنڈ کے نام پر بھی لاکھوں سے کروڑوں روپے (جس حلقے سے الیکشن لڑنا چاہے اس کے اعتبار سے فنڈز کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں) دینے پڑتے ہیں۔ اتنا پیسا لگا کر بھلا کون پاگل ہے جو اپنے لگائے ہوئے کروڑوں روپے بھول کر عوام کا خادم بنے اور محض چند لاکھ روپے (جو تنخواہ اور الائونسز وغیرہ کی مد میں ہوتے ہیں) پر گزارہ کرے۔ کیا یہ ممکن ہے؟

ہیر پھیر، خرد برد، بدعنوانی اور رشوت ستانی کے بغیر وہ شخص اگلا الیکشن تو کیا لڑے گا بلکہ خرچ شدہ رقم بھی پوری نہیں کر پائے گا۔ وہ تو یقیناً اپنے لگائے گئے پیسے کو ڈبل، ٹرپل کرنے کی کوشش میں رہے گا یا کم از کم جتنا پیسا لگایا ہے اتنا اپنا پیدائشی حق سمجھ کر وصول کرے گا۔ کیوں کہ اگلا الیکشن بھی تو لڑنا ہے۔

یہ ہے ہمارا نظام۔۔۔ یہ نام نہاد جمہوریت ہے، یہ نظام ہی ایسا ہے کہ آپ کرپشن نہیں کر سکتے تو الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ کوئی کروڑوں روپے لگا کر عوام کا خادم بن جائے اور اپنا پیسا بھول جائے کیا یہ ممکن ہے؟

دعوتِ فکر امر یہ ہے کہ یہ جو نگران حکومت ہے اس کے سارے لوگ ماشاء اللہ پڑھے لکھے، لائق و قابل اور تجربہ کار ہیں۔ یہ حکومت عوامی الیکشن کے ذریعے نہیں بنی نہ ہی اس حکومت کے بننے میں اربوں روپے اور وقت ضائع ہوا۔۔۔ پھر بھی حکومت کا نظام چل رہا ہے۔ عدلیہ کا نظام بھی عوامی الیکشن کے بغیر چل رہا ہے۔ آرمی کا نظام بھی عوامی الیکشن کے بغیر چل رہا ہے بلکہ بہت منظم اور بہتر طریقے سے چل رہا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا کوئی بھی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا تو کیا ضرورت پڑی ہے کہ عوامی الیکشن میں اربوں لگا کر پارٹیاں اقتدار میں آئیں اور اپنے اربوں کو کھربوں میں بدلیں؟ اس نظام کے تحت کیسے ممکن ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو؟ یہ خاتمہ کون کرے گا اور کیوں؟ کیسے ممکن ہے جو اربوں لگا کر اقتدار میں آئیں وہ اپنے اربوں روپیوں کو بھول جائیں اور صرف ملک کی خدمت کریں؟ قارئین محترم! یہ لوگ آم کے آم گٹھلیوں کے دام وصول کرتے ہیں۔

نظام بدلو!!! پاکستان بدلو!!!

The post  آم کے آم گٹھلیوں کے دام! appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2zuIXBc

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny