Friday, July 27, 2018

چیف جسٹس صاحب سے انصاف کی اپیل

جناب عالی! انصاف کے فروغ، بدعنوانی کے خاتمے، اور عوام کی داد رسی کے لیے اگر کوئی نام ذہن میں آتا ہے تو وہ آپ کا ہے۔ اسی یقین کے پیشِ نظر میں اپنے علاقے چنار گارڈن (نزد قلندر پورہ) موضع ہربنس پورہ، لاہور کے مکینوں کا ایک دیرینہ مسئلہ آپ کے سامنے اس باوقار ذریعہ ابلاغ کے ذریعے پیش کرنے کی جسارت کرنے جا رہی ہوں۔ قوی امید ہے کہ آپ اعلیٰ ترین اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ مسئلہ پہلی فرصت میں حل فرما کراپنی قیادت میں انصاف کی بلا تاخیر فراہمی پر ہمارا یقین بڑھا دیں گے۔

جناب عالی! یہ مسئلہ واپڈا حکام اور سکیم کے مالک کی بدعنوانی اور ملی بھگت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس علاقے کی بجلی اچانک منقطع ہو جاتی ہے۔ تین تین دن تک اس کی بحالی نہیں ہوتی۔ واپڈا کا کوئی نمائندہ فون نہیں اٹھاتا۔ نہ آ کر بجلی کی بحالی کا کام کرتا ہے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس رہائشی سکیم کو خریدنے والے شخٰص نے جس کا نام راشد بتایا ہے اسے خریدتے وقت واپڈا کے محکمہ کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ اس علاقے میں بجلی کی بندش سے متعلقہ مسائل کو حل کرنا واپڈا کی نہیں بلکہ علاقہ کے مکینوں کی ذمہ داری ہو گی۔

عالی قدر قابل غور بات اور ستم ظریفی یہ کہ یہ معاہدہ آج سے پندرہ سال قبل فردِ واحد اور ایک محکمہ کے درمیان ان لوگوں کی طرف سے کیا جا رہا تھا جنھوں نے یہاں پر ابھی ایک پلاٹ بھی نہیں خریدا تھا اور نجانے کہاں کہاں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت یہاں کوئی پلاٹ نہیں بکا تھا۔ اور پلاٹ خریدنے والے کسی شخص کو اس گھنائونے سودے سے آگاہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔

اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ سکیم کا مالک سب پلاٹ بیچ کر یہاں سے جا چکا ہے۔ واپڈا والے کان لپیٹ چکے ہیں۔ کوئی ایم این اے کوئی ناظم یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہاں کے مکین شدید گرمی اور حبس کے موسم میں تین تین دن بجلی سے محروم رہتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں ہوتا تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اپنی محنت کی کمائی سے پیسے جمع کر کے خو د ٹرانسفارمر ٹھیک کرواتے ہیں یا بجلی بحال کرواتے ہیں۔ کل دن قبل 21 جولائی 2018 کو بھی ایسا ہی ہوا۔ ٹرانسفارمر خراب ہونے پر علاقہ کے مکینوں نے پورا دن تڑپ تڑپ کر گزارا۔ بچے اور بزرگ خاص طور پر بہت اذیت میں تھے۔ واپڈا حکام سے رابطہ کرنے پر پیسوں کا سوال اٹھا۔ چالیس ہزار روپے اکٹھے کر کے اپنی مدد آپ کے تحت الیکٹریشن سے رابطہ کیا گیا تو بجلی بحال ہوئی۔ کیونکہ واپڈا حکام نے ہر بار کی طرح مدد سے صاف انکار کر دیا تھا۔

واپڈا حکام کی ایک اور زیادتی یہ ہے کہ اس علاقے میں رہائش اختیار کرنے والے ہر شخص سے میٹر لگانے کے ضمن میں اصل رقم سے دو یا تین ہزار روپے زیادہ وصول کیے جاتے ہیں۔

آپ سے درخواست ہے کہ اپنی نگرانی میں ایک ایماندار اور ذمہ دار افراد کی ٹیم کو اس علاقے میں بھیجیں تاکہ وہ اس مسئلے کی مکمل تحقییق کرے۔ واپڈا حکام اور متعلقہ شخص سے بھی باز پرس کی جائے کہ انھوں نے اپنی طرف سے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ان لوگوں کی طرف سے یہ معاہدہ کیوں کیا جو اس سے نہ تو آگاہ تھے نہ ان میں سے کوئی وہاں پر موجود تھا؟

جنابِ عالی علاقہ کے مکینوں کی کیا خطا ہے کہ انھوں نے زمین کی قیمت بھی پوری پوری ادا کی، میٹر لگوانے کے لیے پیسے بھی زیادہ ادا کیے، اور تین یا چار ماہ بعد بجلی کی بندش کی صورت میں اضافی رقم بھی ادا کرتے ہیں۔ اس رقم پر ان کے بچوں کا حق ہے یا واپڈا حکام کا؟ کیا وہ بل ادا نہیں کرتے؟ کیا وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے کہ ان کو بجلی کی بندش کی صورت میں واپڈا حکام کی طرف سے اس کی بحالی کے لیے معاونت فراہم کی جائے۔

براہ مہربانی ہمارا یہ دیرینہ مسئلہ حل فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

علاقہ مکین چنار گارڈن نزد قلندر پورہ، لاہور۔

The post چیف جسٹس صاحب سے انصاف کی اپیل appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2v6CYx9

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny