گھر والے لوٹے اور سیاست والے لوٹے میں اگرچہ اتنا زیادہ فرق نہیں ہوتا مگر پھر بھی ریکارڈ کی درستگی کے لئے ہم اسے آج کل الیکٹیبل کہنے لگے ہیں تاکہ یہ سیاسی آئٹم کہیں گھر میں بھی نہ آ جائے۔
عام لوٹے اور سیاست والے لوٹے میں پارٹی کا فرق ہوتا ہے۔ کوئی اپنے گھر کو لوٹے تو اسے لوٹا نہیں بدھو ہی کہتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں جو لوٹتے ہیں وہ بدھو نہیں الیکٹیبل کہلاتے ہیں اور پیر کامل سے بھی زیادہ کامل اور ہشیار ہوتے ہیں۔ایسے ہی جیسے مشرق اور مغرب کا فرق ہے۔ مغرب میں الو عقل کی علامت ہے اور ہمارے ہاں لوٹا یا الیکٹیبل موقع پرست یعنی دانش مند سمجھا جاتا ہے۔
ایک زمانے میں لوٹے چور کو تلاش کرنے میں مدد گار ثابت ہوا کرتے تھے۔ میرے خیال میں اب بھی ان کا یہی کام ہے۔ جس طرف لوٹوں کا رخ ہو جاتا ہے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ اقتدار چرانے والا ہے۔ کہا یہ جاتا تھا کہ ایک عامل کامل بابا جو اکثرایک ڈھونگی ہی ہوا کرتا تھا جسے شمن کہا جاتا تھا وہ اس طریقے سے مجرم پکڑتا تھا۔ شمن تمام گھروں سے لوٹے منگوا کر ایک جگہ ڈھیر لگا دیتا تھا اور مشکو ک فرد کو سامنے کھڑا کر لیتا تھا۔ جب وہ کوئی منتر پڑھتا تو تمام لوٹے کانپنے لگ جاتے بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے لوٹے کسی کی حکومت آجانے کے چکر میں کانپنے لگ جاتے ہیں اور بے چین ہو جاتے ہیں کہ کب اپنا رخ اس پارٹی کی طرف پھیر لیں جو بر سر اقتدار آ سکتی ہے۔ منتر پڑھنے کے بعد اگر تمام لوٹوں کا رخ اس شخص کی طرف ہو جاتا جس پر شک ہوتا تو اسے مجرم گردانتے اور اسے دھر لیا جاتا۔ آج کی سیاست میں بھی جب تمام لوٹوں کا رخ کسی ایسے شخص کی طرف ہو جائے تو اسے بھی دھر لیا جاتا ہے مگر یہ دھرنے والے بادشاہ گر ہوتے ہیں جو ان تمام لوٹوں کے سربراہ کو کرسی یا مسند شاہی پر بٹھا دیتے ہیں۔
جب لوٹے تعداد میں بہت بڑھ گئے تو پھر لوٹا کریسی کا جنم ہوا بالکل ایسے ہی جیسے کہ اب اینکروکریسی ہے۔
لوٹوں کا وجود صدیوں سے ہے اور شائد جب تک سیاست ہے تب تک رہے گا۔
لوٹے اقتدار کے کارخانے میں بنتے ہیں اور یہیں پر ہی ان کا کریا کرم ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسے لوٹے کو بھی جانتے ہیں جس نے آج تک دوسرا الیکشن پہلی پارٹی کی طرف سے نہیں لڑا۔ اور اکثر کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں لوٹا بنانے والے بڑی حکومت ساز فیکٹری والے ہوتے ہیں جو ہر طرح کے لوٹوں کی ماہر ہے۔ ابھی ابھی دیکھ لیں الیکشن سے پہلے لوٹوں کی تبدیلی کا عمل کتنا تیز ہو ا، جنم جنم کے ساتھی اقتدار کے لالچ میں جیپ میں بیٹھ گئے اور مخالف کو جیل میں بھی ڈلوا دیا۔ابھی اور بھی بہت سے لوٹے باقی تھے مگر افسوس کہ نامزدگی کا وقت ختم ہو گیا اور انہیں اسی پارٹی سے الیکشن لڑنا پڑا۔لوٹےکو پاکیزگی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے شائد اسی لئے اسمبلی کو پاک کرنے کے لئے بہت زیادہ لوٹوں کی ضرورت ہے۔
The post تمہیں لوٹا کہوں یا الیکٹیبل؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2mya7Od
No comments:
Post a Comment