ننھے بچوں کی کلکاریوں اور ان کی خوبصورت شرارتوں پر برجستہ پیار کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اس محبت و پیار کے مختلف نام اور طریقے بھی ہیں، ہاں وقت کی قید آج تک کوئی نہ لگا سکا۔
بوسہ، پپّی، کِس، پیار، چُما۔
ان الفاظ اور احساسات کا ذکر ہر دور کے شاعروں نے کھل کر اپنے اشعار میں کیا لیکن ہمارے معاشرے میں اسے کھلے عام کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ شوبز میں بھی کسی حد تک ‘سب چلتا ہے’ ہی چلتا ہے۔ فلم میں سینسر بورڈ کی قینچی سے ایسے مناظر بچ جائیں اور اسکرین پر نظر آجائیں تو کئی اک بس دیکھ دیکھ ہی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں۔
ہاں یہ الگ بات ہے کہ بھارتی معاشرے میں یہ سب عام ہے اور فلمیں بوس و کنار کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتیں۔
تقریباً 5 سال قبل وینا ملک نےاپنی سالگرہ کے دن اپنے ہاتھ پر ایک منٹ میں ایک سو سینتیس بوسے وصول کیے اور ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سے قبل بھارتی اداکار سلمان خان نے اپنے ہاتھ پر ایک منٹ میں ایک سو آٹھ بوسے حاصل کر کے یہ ریکارڈ بنایا تھا۔
وینا ملک کے مطابق “بوسے تو ہوتے ہی اچھے ہیں اور یہ ایک عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی ہاتھ پر بوسہ دے۔ اگر ایک منٹ میں اتنے بوسے ملیں تو یہ بہت خوبصورت احساس اور ریکارڈ ہے۔ ”
رواں سال فروری میں ہونے والی لکس اسٹائل ایوارڈ کی تقریب یاد ہے آپ کو۔ اس میں بھی جاوید شیخ نے اسٹیج پر ماہرہ کا بوسہ لینے کی کوشش کی جس پر سوشل میڈیا صارفین نے خوب تنقید کی اور ایسی باتیں بھی کہیں جو بوسہ دینے یا لینے سے بھی زیادہ نازیبا تھیں۔
فیفا ورلڈ کپ کے دوران برازیلین ٹی وی کی صحافی جولیا گوئماریس روس کے شہر یکاٹیرن برگ میں کیمرے کے سامنے رپورٹنگ کے فرائض انجام دے رہی تھیں کہ ایک شخص نے ان کے گال پر بوسہ لینے کی کوشش کی لیکن خاتون صحافی نے پیچھے ہٹ کر خود کو بچا لیا۔ اس موقع پر جولیا غصے میں آگئیں۔ بوسہ لینے کی کوشش کرنے والے شخص نے بھی فوراً معذرت کر لی۔
اس سے قبل جرمنی کے نشریاتی ادارے سے اسپورٹس رپورٹر کولمبیا کی جولیتھ گونزالے کو صحافتی ذمے داریوں کی انجام دہی کے دوران ایک مداح نےدبوچ کر بوسہ لیا تھا۔
خاتون رپورٹر نے ویڈیو انسٹا گرام پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘احترام کیجیے! ہم اس طرز عمل کے مستحق نہیں۔ میں فٹبال کے مسحورکن لمحات سے آگاہ کرتی ہوں لیکن ہمیں پیار اور ہراساں کرنے کی حد کی شناخت ہونی چاہئیے۔’
گذشتہ سال ٹینس کے کھلاڑی21 سالہ میکزیم ہمو نے فرنچ اوپن کے دوران ایک لائیو انٹرویو میں رپورٹر مالے تھومس کو گردن سے پکڑ کر بوسہ دینے کی کوشش کی۔ خاتون صحافی بچنے اور پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتی رہیں،
یہ تو تھے کھیل اور شوبز سے جڑے پپّی، کس اور بوسے کے کچھ واقعات۔ آج کل تو سیاست میں بھی بوسوں کی بھرمار ہے۔ ذرا سیاست کی پھرکی کچھ پیچھے لے جائیں تو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی وہ ویڈیو یاد آجائے گی، جس میں وہ بڑے پیار سے کہہ رہے ہیں، ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر۔
الطاف حسین کی جانب سےمصطفیٰ کمال کے سر پر ہاتھ پھیرنے، ان کو گلے لگانے اور پھر پپی کرنے کی ویڈیو اور تصاویر بھی خوب وائرل ہوئی، لیکن مفادات کی جنگ نے اپنوں کو بیگانہ کردیا، آمنے سامنے کھڑا کردیا۔ پھر تم تم نہ رہے اور ہم ہم نے رہے۔
اور وہ سابق گورنر سندھ عشر ت العباد کو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی جانب سے ملنے والی چُمی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم ہی ہے کہ جس میں قائد/ سربراہ/ بانی نے کسی بھی کارکن کو’کِس’ کیا۔ ورنہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے کارکن پارٹی قیادت سے محبت کا اظہار کرنے کیلئے کیا کیا انداز اپناتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کب کون کہاں سے کس گال پر ایک “چمّی” ثبت کر دی جائے۔
الیکشن قریب آتے ہی رومانس کی فضا چل پڑی ہے۔ جس سے سب سے زیادہ متاثر نظر آرہے ہیں، پیپلز پارٹی کے کارکن، جو اپنے قائد یا لیڈر کو دیکھتے ہی ان کا منہ چومنے کیلئے اتاولے ہوجاتے ہیں۔
گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ روہڑی جلسے میں دلچسپ صورتحال میں پھنس گئے۔ ایک پرستار خورشید شاہ کا بوسہ لینے پر اصرار کرتا رہا۔ بوسے کے بعد بھی پرستار مزید بوسے کیلئے بیقرارتھا۔ بڑی مشکل سے خلاصی پائی۔
اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ بھی کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کی درگاہ پر حاضری کے بعد ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ ایک شخص نےبلاول کو اجرک پہنانے کے دوران چہرے پر بوسہ لینے کی کوشش کی۔ تاہم بلاول نے سخت ناگواری کا اظہار کیا اور اس شخص کو جھڑک دیا۔
اس سے پہلے بنوں جلسے کے دوران کارکن نے اسٹیج پر بلاول کے گال کو چوما تو بی بی کے لعل نےلال پیلے ہو کر فوراً اپنا رخسار صاف کر لیا تھا۔
شیخ رشید بھی اس صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔ نوازشریف نااہلی کیس کی سماعت کے دوران عدالت سے باہر آتے ہوئے ایک شخص نے شیخ رشید کا بوسہ لینے کی کوشش کی جس پر شیخ رشید برہم ہو گئے اور نوجوان کو تھپڑ رسید کر دیا۔
نواز شریف اور شیخ رشید کو آج کی نسل ایک دوسرے کا دشمن سمجھتی ہے لیکن نوے کی دہائی میں یہ دونوں ایک دوسرے پر جا ن چھڑکتے تھے اور ا ن کا سیاسی رومانس عروج پر تھا۔
6 جولائی کو بوسے کے عالمی دن پر سیاستدان اور ان کے پرستار کیا گل کھلاتے ہیں، بس دیکھتے جائیں۔
ارے ہاں ! وہ بوسہ جسے سجدہ کہا جا رہا ہے۔
کچھ روز قبل ہی عمران خان اور ان کی تیسری اہلیہ پاکپتن میں دربار حضرت بابا فرید شکر گنج پر حاضری کے حوالے سے وائرل ہوئی ویڈیو نے ہنگامہ برپا کردیا۔ فتوے جواب فتوے سے زیادہ تماشے لگ رہے ہیں ان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ دعویداران دہلیز کے بوسے کو سجدہ تعظیمی قرار دے کر ہنگامہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں انہوں نے خانقاہ کی دہلیز کو عقیدت سے بوسہ دیا۔ جبکہ مخالفین اسے سجدہ اور شرک سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تاہم دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔
ان بوسوں کو بھی سیاسی گُر ہی سمجھ لیں۔ عوام میں مشہور ہونے کا طریقہ۔ پہلے مخالفین سے نعرے لگوا کر جلسوں کی رونق بڑھوائی جاتی تھی، سیاسی شہید بننے کے لیے اداروں سے تصادم کیا جاتا تھا۔ لیکن جوتا، انڈے، ٹماٹر، سیاہی والے ٹرینڈ پرانے ہوگئے ہیں، کچھ نیا ہے تو و ہ ہے بوسے کی سیاست۔ اب اس کو عقیدت سمجھیں، محبت سمجھیں یا ہراساں کرنے کی کوشش۔
گئے وقتوں کے حکمرانو، ان داتاؤ۔ !!! تم نے برس ہا برس ہمیں کچھ نہ دیا۔ ووٹ، روٹی، کپڑا، مکان، عزت، جان سب ہی تو ہم سے لے لیا ہے، ہم تو آج تک صرف دیتے ہی آئے ہیں سو یہ بھی دے دیا۔ کہ یہ دینے کی چیز ہے اور ہم غریب ہو کر بھی بڑے دل والے ہیں۔ کیونکہ ‘بوسہ دینے کی چیز ہے آخر۔
The post بوسہ دینے کی چیز ہے آخر appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2Nq8gaH










No comments:
Post a Comment