نااہل حکمرانوں، خود غرض طالع آزمائوں اور ملت کے غداروں سے تاریخ نے ہمیشہ عبرت ناک انتقام لیا ہے۔ نواز شریف آج در بدر ہے تو اس کا سبب بھی اس کی نااہلی، خودغرضی، حرص، ہوس اور لالچ تھا جس نے اسے اپنوں کا غدار بنا ڈالا۔
ریاست پاکستان کا کل کا وزیراعظم اپنی حرص، ہوس، خود غرضی اور لالچ کی وجہ سے غیروں کا آلہ کار بن کر آج اپنے ہی وطن کی زمین کو خود پر تنگ کر بیٹھا ہے۔
آج لندن سے جب دونوں باپ بیٹی کو میڈیا پر بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کسی اجڑے ہوئے مسافر کی طرح اداس شکلوں کے ساتھ گلوگیر آواز میں اپنا مدعا بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے ہسپانیہ کے آخری تاجدار ابوعبداللہ کا الحمراء کی طرف آخری بار پلٹ کر دیکھنا اور آنکھوں سے رواں آنسو یاد آ جاتے ہیں۔ اس کو روتا دیکھ کر اس کی ماں نے کہا تھا کہ ‘عبداللہ جس چیز کے لئے مردوں کی طرح لڑ نہیں سکے، اس شے پر عورتوں کی طرح آنسو بھی مت بہائو۔’ لندن میں میڈیا سے بات کرتے باپ بیٹی کو دیکھ کر میرے کانوں میں ابو عبداللہ کی ماں کے غیرت و اہمیت میں ڈوبے الفاظ گونجنے لگتے ہیں۔
المیہ یہ رہا کہ میاں نواز شریف کو تین بار اس ملک پاکستان کا حکمران بننے کا موقع ملا۔ بجائے اسکے کہ وہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں اپنا نام درج کرواتے، انکا سارا دور ٹکراؤ کی سیاست پر مبنی تھا۔ اداروں کو کمزور اور شخصیات کو طاقتور کرنا انکی اولین ترجیح تھی جس کا خمیازہ وہ آج بھگت رہے ہیں۔
جلا وطنی، این۔ آر۔ او کی وساطت سے ختم ہوئی تو فوج کو زیر نگیں رکھنے کے لئے بیرونی آقائوں سے ساز باز کر لی۔ نواز شریف جو اقتدار کی ہوس میں اس قدر اندھا ہو گیا کہ یہ بھی بھول گیا کہ افواج کسی بھی ملک کا دفاعی حصار ہوتی ہیں۔
جس ملک کی فوج ٹوٹ جائے یا کمزور پڑ جائے یا اپنی خود اعتمادی کھو دے، وہ ملک اور ریاستیں بھی سلامت نہیں رہتیں۔
پس نواز شریف نے اپنی ہی فوج کے خلاف غیروں کے اشاروں پر چلنا شروع کر دیا۔ انڈین را تک سے مراسم بنا لئے۔ را کے آزادانہ پاکستان میں آنے جانے کے لئے راستہ ہموار کیا اور سازشوں کے تانے بانے بنے جانے لگے۔
نواز شریف نے اپنی ہی قوم کے پیٹ میں چھرا کھونپنے کی کوشش کی۔ آج اللہ رب العزت نے اسے نشان عبرت بنا بھی دیا اور ابھی مزید رسوائیاں اس کا مقدر ہیں۔
نواز شریف کے نو رتنوں نے اسے اتنی ہوا دی کہ وہ اپنی ہی قوم کی سلامتی کا دشمن بن گیا۔
ابو عبداللہ کو تو غیروں نے آ کر الحمراء سے بےدخل کیا تھا، نواز شریف کو اپنوں سے بے وفائی کی وجہ سے خود ہی ترک وطن کرنا پڑ رہا ہے۔
بیگم کلثوم نواز کی علالت کو لے کر جو سیاست کی جا رہی ہے، وہ سمجھ سے باہر ہے۔ ہماری دعا ہے اللہ پاک انہیں شفا عطا فرمائے۔
مگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ پہلے کینسر پھر وینٹیلیٹر، آج تک ہارلے اسٹریٹ کلینک کے کسی ترجمان یا ڈاکٹر کا آفیشلی بیان سامنے نہیں آیا۔ بیگم کلثوم نواز ممبر قومی اسمبلی رہی ہیں، لیڈر رہی ہیں۔ لیڈر کے معاملات پبلک پراپرٹی ہوجاتے ہیں مگر کیا کریں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اگر بیگم کلثوم نواز کی صحت کو لے کر میاں صاحب کوئی سیاست کر رہے ہیں تو انہیں اسکا مزید نقصان اٹھانا پڑ سکتآ ہے۔ سنا ہے لوگ غلطیوں اور ٹھوکروں سے سیکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ پیر پر کلہاڑی نہ ماریں مگر تاریخ گواہ ہے میاں صاحب نے ہر بار اپنا پیر کلہاڑے پر مارا ہے۔
آج میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ میں مریم نواز صاحبہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ان کی آواز، ان کی باڈی لینگویج اور ان کے چہرے کے تاثرات سے بلکل عیاں تھا کہ وہ سوگ کے عالم میں ڈوبی ہمدردی کی طلب گار ہیں۔
مگر ناس ہو اس دنیا طلبی کا، اس قوت و اقتدار کی طلب کا جو رشتوں کا خون کر کے بھی بھوکی کی بھوکی ہی رہتی ہے۔
یہ عبرت کی علامتیں ہیں۔ اقتدار کے پیچھے بھاگنے والوں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہئیے اور اپنے عمال و کردار کو اس حد تک بہکنے سے بچائے رکھنا چاہئیے جہاں سے اپنی قوم اپنی ملت کے حقوق کو پامال کر کے اپنی نسلوں کی آسائشوں کا ساماں پیدا کرنے کی حرص اور ہوس بڑھنے لگے۔ اور ملک و ملت سے بہت دور کر دے اتنا دور کہ پھر ابوعبداللہ کی ماں بیٹے کی بےبسی کے آنسو دیکھے تو وہ ماں یہ نہ کہے کہ عبداللہ جس چیز کی حفاظت مردوں کی طرح نہیں کر سکے اس پر عورتوں کی طرح آنسو بھی مت بہائو۔
The post عبرت غداروں کا پیچھا کرتی ہے appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2lZB6lL
No comments:
Post a Comment