2009ء سے اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے تین بڑے فوجی آپریشنز ہو چکے ہیں، راہِ نجات، ضربِ عضب اور رد الفساد۔ ان آپریشنز میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 17600 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ہر آپریشن کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن بد قسمتی سے عام انتخابات سے قبل اور پولنگ کے دوران 232 افراد خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے جاں بحق ہوئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف تین بڑے آپریشنز میں جن میں دو لاکھ دو ہزار کے قریب فوج نے کارروائی کی دہشت گردی سے اب تک نجات کیوں نہیں مل سکی۔ موصل عراق اور شام میں داعش کے صفائی کے بعد پاکستان میں کیونکر یہ تنظیم اتنی تیزی سے اپنے گروہ منظم کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ مستونگ اور پشاور میں ہولناک حملے کرنے میں سے کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اسکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشت گردی کے ایک سابق اعلیٰ افسر سے دہشت گردی کے مسئلہ پر بات ہو رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلہ سے جس طرح نبٹا جا رہا ہے یہ کارگر نہیں بلکہ بے سود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نے جنوبی وزیرستان اور دوسرے قبائیلی علاقوں پر حملے کر کے وہاں تو دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کا قلع قمع کر دیا لیکن ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کے سد باب کے لئے کوئی کارگر طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔
میں نے پوچھا کہ وہ کیا ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح جیسے لندن میں آیریش ری پبلیکن آرمی IRA کے حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے سارا زور انٹیلی جنس پر دیا گیا تھا۔ بلا شبہ IRA کی تنظیم میں جاسوس کا گھسنا بڑا مشکل تھا لیکن ایسے آیرئش افرد جن پر کوئی شبہ نہ ہو، ہم نے IRA میں داخل کئے جن سے ان کی کارروائیوں کے منصوبوں کے بارے میں ہمیں پیشگی اطلاع مل جاتی تھی۔ یہی موثر طریقہ ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کے راج کے دوران بھی سی آئی ڈی کا بنیادی طور پر یہ کام تھا کہ وہ راج کے خلاف جماعتوں میں جاسوسی کر کے ان کے منصوبے معلوم کرے۔
کہنے لگے کہ آپ نے دیکھا کہا شمالی آئیرلینڈ میں IRA کی جنگ کا خاتمہ کیسی کامیابی سے ہوا۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ اس جنگ کے خاتمہ میں 35 سال کا عرصہ بھی تو لگا تھا اور وہ بھی آپ کو امریکا کی کوششوں کا مرہون منت ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ دہشت گردی اور IRA کی جنگ میں بڑا فرق ہے۔ IRA شمالی آئیرلینڈ میں اقتدار میں رومن کیتھولک اقلیت کے حق کے لئے لڑ رہی تھی جو 2005 کے گڈ فرائی ڈے معاہدے کے تحت اسے اقتدار کی شراکت کے ذریعہ حاصل ہوگیا۔ پاکستان کا معاملہ بالکل مختلف ہے یہاں کوئی ایک تنظیم نہیں ایک طرف پاکستانی طالبان ہیں، دوسری جانب افغان طالبان ہیں پھر داعش ہے اور مختلف مسلکوں کے مسلح بازو ہیں۔ IRA کی طرح ان کا کوئی ایک واضح مطالبہ نہیں جس پر مذاکرات ہو سکیں اور کوئی سمجھوتہ طے پا سکے۔
انہوں نے میری اس دلیل سے اتفاق کیا لیکن کہا کہ پھر بھی پاکستان میں بنیادی طور پر دہشت گردی کے خاتمے کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔ فوج کشی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پھر بھی کہوں گا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے انٹیلی جنس، دہشت گرد تنظیموں کی خفیہ جاسوسی لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں مسئلہ کی جڑ دراصل اقتصادی عدم مساوات، بے روزگاری اور خوشحالی سے ناامیدی ہے۔
میں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جنون سب مسائل پر حاوی ہے۔ کہنے لگے اس کا مداوہ بھی اقتصادی اقدامات میں مضمر ہے۔ وہ مدارس اور وہ تنظیمیں جو مذہبی جنونیت کو ہوا دیتی ہیں آخر کار مالی اعانت کے لئے دامن پھیلائے رہتی ہیں۔ ان سے نبٹنا بہت آسان ہے پھر اس علاقوں میں جہاں شدت پسندی کی آبیاری بہت آسان ہے وہاں روزگار کے مواقع پیدا کر کے اور ان جنونیوں کو خوشحالی اور ترقی کی راہ دکھا کر راہِ راست پر لایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے یہ خاصا طویل اور دقت طلب سفر ہے اور اس سفر کے لئے تعلیم اور خوشحالی کی امنگ بہت ضروری ہے۔
میں ان کی رائے اور تجاویز سے اتفاق کئے بغیراور یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ کاش کہ پاکستان میں ان ہی خطوط پر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے۔
The post پاکستان میں دہشت گردی یوں کبھی ختم نہ ہوگی appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2Ab8cch
No comments:
Post a Comment