Friday, July 27, 2018

“پاکستان کو فائدہ دو”

الیکشن نہیں ہوں گے، نگران حکومت ہی کام چلائے گی، ٹیکنوکریٹ حکومت بن جائے گی وغیر وغیرہ جیسے تجزیوں کے باوجود الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوگئے۔ پاکستان کی تاریخ کے 11ویں عام انتخابات کا سورج 25 جولائی بروز بدھ کو طلوع ہوا اور عوام گرمی اور حبس کے باوجود بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پہنچی۔ سب سےاچھی خبر یہ کہ ملک بھر سے کوئی بری خبر نہیں آئی، افسوسناک بات یہ کہ کوئٹہ میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 31 لوگ شہید ہو گئے اور خبر آئی گئی ہوگئی۔

انتخابات کے دوران لاہور اور پنجاب کے کئی پولنگ اسٹیشن میں پولنگ سست روی کا شکار رہی، سندھ سے بھی کچھ شکایات آئیں۔ خود سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسی متعدد شکایات آئیں۔ پولنگ کا مرحلہ مکمل ہوا تو نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہوتے ہی رک گیا۔ الیکشن کمیشن نے چند حلقوں کے صرف بیس فیصد رزلٹ دینے کے بعد نتائج جاری کرنے کا سلسلہ روک دیا۔ میڈیا نے اس دوران اس بیس فیصد نتائج کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ ملک کے طول و عرض میں تحریک انصاف کے حامیوں نے جشن منانا شروع کر دیا اور مخالف جماعتوں نے الیکشن کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور ایم ایم سمیت 8 جماعتوں نے پریس کانفرنسز کیں اور الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزامات لگائے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے الزامات کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جب تک نتائج آرہے تھے تب تک پنجاب میں ن لیگ برتری لے رہی تھی لیکن ایک لمبے وقفے کے بعد آنے والے نتائج نے سب کچھ الٹ پلٹ کردیا۔ سندھ میں بھی یہی صورتحال رہی، کراچی کی سیٹ پر تو پہلے شہبازشریف آگے جا رہے تھے پھر ایک جمپ آیا اور فیصل واوڈا جیت کے اس پار چلے گئے جبکہ شہبازشریف اسی طرف رہے۔

اس ساری صورتحال میں عوام، سیاستدان تو مضطرب رہے ہی لیکن سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا صحافی حضرات کو کرنا پڑا۔ جو لوگ فیلڈ میں تھے وہ ساری رات رزلٹ لینے کیلئے دھکے کھاتے رہے اور جو دفاتر میں تھے وہ صبح تک انتظار میں آنکھیں جھپکاتے رہے۔

اس سب صورتحال میں سیکریٹری الیکشن کمیشن ٹی وی پر آئے اور واضح کیا کہ نہ دھاندلی کی جارہی ہے اور نہ نتائج کو روکا جا رہا ہے بلکہ آر ٹی ایس سسٹم میں خرابی کے باعث نتائج آ ہی نہیں رہے تو دیں کہاں سے؟ خیر اللہ اللہ کرکے آدھی سے زیادہ رات گزر جانے کے بعد تقریباً ڈھائی بجے کے قریب چیف الیکشن کمشنر نے بھی آ کر الزامات کو رد کیا اور ایک حلقے کا غیر حتمی نتیجہ دے کر چلتے بنے۔ تمام جماعتوں نے دھاندلی کا نہیں بلکہ ان کا الزام تھا کہ ہمیں فارم 45 نہیں دیا جا رہا اور ہمارے پولنگ ایجنٹ کو باہر نکال کر گنتی کی جا رہی ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ہمیں فارم 45 سے متعلق متعدد شکایات آئی تھیں۔

یہ سب تو تھا الیکشن کا منظر نامہ، اب ذرا نتائج پر نظر دوڑاتے ہیں۔ حالیہ نتائج نے نہ صرف عوام کو بلکہ کئی سیاستدانوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی بہتر پوزیشن تو سب پر واضح تھیں ہی لیکن اتنی برتری آئے گی اس کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ اب کیوں کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو بظاہر اکثریت ملتی نظر آ رہی ہے تو یقیناً عمران خان وزیراعظم بن جائیں گے۔ اسی وجہ سے شائد خان صاحب نے وکٹری اسپیچ بھی کرڈالی۔ متوقع فتح کے بعد عمران خان کا خطاب یقیناً ایک شاندار تقریر تھی جس میں انہوں نے خارجہ پالیسی سمیت کئی اہم ایشوز پر لب کشائی کی اور وہ ایسی کہ سارا ملک میڈیا اور سوشل میڈیا جھوم اٹھا۔ کھلاڑیوں کو فخر تھا کہ خان صاحب نے فل بدیہہ تقریر کی جب کہ جیالے اور لیگی متوالےٹھٹھے اڑا رہے تھے کہ خان صاحب نے ایک لمبے سے پرچے پر نوٹس لکھے تھے۔

خیر سوشل میڈیا تو کچھ نہ کچھ نکالتا ہی رہتا ہے لیکن جب بات حقیقی مسائل کی ہوتی ہے تو ان کا حل نہ صرف مشکل بلکہ ناممکمن بھی ہوتاہے کیوں کہ باقی تمام جماعتوں نے کام کرنے والوں کی ٹانگیں کھینچنے کی قسم اٹھا رکھی ہوتی ہے۔

اب عمران خان وزیراعظم بننے جا رہے ہیں اور ان تمام مسائل کا حل ہی ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ تقریر میں عمران خان نے جتنے بڑے بڑے دعوے کر دئیے ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک بھی مکمل کر دیا تو جس طرح کے پی نے انہیں ایک بار پھر بھرپور موقع دیا ہے ویسے ہی پنجاب بلکہ پورا پاکستان انہیں دوبارہ موقع دے گا اور ضرور دے گا۔

ایسے حالات میں تمام جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ اب ملک میں نئے سیاسی مسائل پیدا کرنے کے بجائے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی اپنائے۔ دھاندلی کے خلاف عمران خان کے احتجاج سے ملک کو نقصان ہوا تھا ایسے ہی اب کوئی بھی جماعت ایسا کرے گی تو بھی نقصان پاکستان کو ہی ہوگا۔ عوام نے ووٹ کو عزت بھی دے دی، پاکستان بھی دو نہیں ایک بنا لیا اور پاکستان کو ووٹ بھی دے دیا۔ اب انہی ووٹرز کی گزارش اور نعرہ ہے کہ “پاکستان کو فائدہ دو”۔

The post “پاکستان کو فائدہ دو” appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2v6rSbm

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny