میں ایک عام سا انسان ہوں جو کہ لکھنے کا شوق رکھتا ہے. کافی دن سے میں سوچ رہا تھا کہ کسی موضوع پر لکھوں مگرکچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اسی کشمکش میں ٹویٹر کھولا اور ٹویٹس دیکھنے لگا تو مجھے عامر لیاقت کا ایک ٹویٹ دکھا ئی دیا۔
اس ٹویٹ کو پڑھ کر مجھے دکھ ہوا کہ نئے پاکستان کا یہ ایم این اے ہندو مذہب کی تضحیک کیوں کر رہا ہے ؟۔میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اور عامر لیاقت سے شدید اختلاف رکھنے کےباوجود یہ کوشش کی کہ شائستگی کا دامن نہ چھوٹنے پائےاور میں نے جواب میں ایک ٹویٹ کی جس میں لکھا کہ
” کسی کے مذہب کا مذاق نہ اڑاؤکیونکہ جواب میں پھر وہ بھی ایسا کریں گے اور نہ کسی کے خداؤں کو برا بھلا کہو۔ اور دوسری بات یہ کہ آپ حکومت کا حصہ ہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں پاکستان میں بھی ہندو بستے ہیں”
میں توقع کر رہا تھا کہ میری شائستگی کو مد نظر رکھتے ہوئے دین اسلام کا علم رکھنے والے اور خود کو ایک اسلامک اسکالر کہلوانے والے عامر لیاقت صاحب فورا معذرت کریں گے یا پھر اگر معذرت ان کی شان کے خلاف ہوگی تو کم ازکم ٹویٹ ضرور ڈیلیٹ کر دینگے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس، انہوں نے جواب میں ایک اور ٹویٹ کردی اور اپنی بات کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ
‘”ہم مذہب کا مذاق اڑانے والوں میں سے نہیں حفاظت کرنے والوں میں سے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں روز مسلمان ہونے کی سزا جو پارہے ہیں ان سے پوچھو، بابری مسجد گرانے والوں سے پوچھو اور سکھ یاتریوں کو بابا کے پاس آنے سے روکنے والوں سے پوچھو!”
اب میری سمجھ میں تو ان کی لاجک نہیں آرہی، کیونکہ اگر کوئی مسلمان کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام نے اسے یہ سکھایا ہے بلکہ یہ اس شخص کا انفرادی فعل کہلائےگا ۔اسی طرح اگر کسی سیکیولر ملک کی حکومت کوئی غلط کام کرتی ہے تو یہ ضروری نہیں کہ اس ملک کے اکثریتی مذہب نے ان کو یہ سکھایا ہے.اگر سارے ہندو یا مسلم بھی غلط ہوجائیں تب بھی یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان کے اسلام یا ہندو ازم یا کسی بھی اور دین کی تضحیک کی جائے۔ اسی لیے میں نےجواب میں لکھا کہ
” اگر ان سے بھی میں نے ہی پوچھنا ہے تو آپ کیا کریں گے؟ میں نے ایک معقول بات کی ہے۔ کسی کے بھی مذہب کا مذاق اڑانے سے اسلام منع کرتا ہے آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ اگر ہندو کہیں کچھ غلط کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ہم بھی غلط کریں”
جس کے جواب میں عامر لیاقت نے لکھا کہ
“ہم غلط نہیں کررہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں ہم تو ان کے بھگوانوں کی عزت کررہے ہیں بیچ نہیں رہے۔”
اس کے جواب میں میں نے قرآن پاک کی سورة انعام کی آیت نمبر 108 کا اسکرین شارٹ سینڈ کیا
تو اس کے جواب میں تو انہوں نے کچھ نہ لکھا لیکن دو مزید ٹویٹس کر دی جس میں وہ اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئےلکھتے ہیں کہ۔
“معصوم کشمیریوں کے قتل عام کا درد مذہب کے نام پر سہا
تقسیم کے وقت ٹرینیں مذہب کے نام پر کاٹی گئیں ہم چپ رہے
بابری مسجد شہید کردی گئی، زبان امن کی خاطر بند رکھی
گائے کا گوشت مسلمانوں پر حرام ہے، تب بھی کچھ نہ کہا
آدیتیا ناتھ نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں 1/2”
“لیکن اگر بھارت کو آئینہ دکھانے کے لیےفطرت بتادیں کہ وہ تو اپنےبھگوانوں کی عزت نہیں کرتے پھر رامائن میں پریت کے پاٹ کیاجانیں؟ تو یہاں خونی لبرلز ایکٹو ہوجاتے ہیں اور “مذہب کو کچھ نہ کہو ” کی چیخ پکار مچادیتے ہیں ، ہم کسی مذہب کو کچھ نہیں کہتے، بھارتی محبت میں الزام نہ لگاؤ 2/2″
اور یہیں بس نہیں کرتے بلکہ مزید دو اور ٹویٹس کرتے ہیں اور اس میں لکھتے ہیں کہ
“دیوار فلم میں ، میں نے نہیں امیتابھ نے مندر میں گاڑی گھسا کر شیو کے سامنے کھڑے ہوکر کہا تھا'”آج خوش تو بہت ہوگے تم'” ہمیں یہ انداز بھی برا لگا تھا ،ہندوستان کے دھرم ادھیکاری دوسروں کے کیا اپنے مذہب کی عزت نہیں کرتے، بھروم شاستر کا مذاق اڑاتے ہیں اور گیتا پر جھوٹی قسم کھاتے ہیں”
اور آخر شاید تھوڑا احساس ندامت ہوا تو کور کرنے کے لیے اپنی ہی ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ
“سیدھی سی بات ہے جواقبال کہہ گئے اور یہی بوزیراعظم نے بھارت سے کہا
شکتی بھی شانتی بھی بَھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے
(امن و طاقت ہم وطنوں کے گیتوں میں ہے جنگ میں نہیں، نجات تو ہمیشہ پیار میں ہوتی ہے نفرت میں نہیں)
“#IndianGovtAgainstPeace
The post عامر لیاقت کا ٹوئٹ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2NEM3JC








No comments:
Post a Comment