عمران خان کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کی معیشت کو درست سمت کی جانب لے جا کر وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے صرف عاطف میاں کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ اس کے لیے وطن عزیز میں موجود انتہاپسندی کی سوچ کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کی بھی ضرورت ہے. جس دن جناح کے پاکستان سے اس انتہا پسندی کی سوچ کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا اس دن کے بعد سے پاکستان اس ہی سمت کی طرف چل پڑے گا جو خواہش بانی پاکستان محمد علی جناح کرتے تھے۔ انہوں نے اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنی قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ :
”آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے،آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔”‘
عاطف میاں وہ مشہور پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ معاشیات ہیں جنہیں آئی ایم ایف نے 2014 میں دنیا کے 25 قابل ماہرِ معاشیات کی فہرست میں شامل کیا اور انکا اس میں نمبر 16واں تھا۔ مگر افسوس کہ عاطف میاں کا تعلق ایک ایسے پاکستانی اقلیتی گروہ سے ہے جس گروہ سے نفرت کرنا آئینی طور پر ہر پاکستانی پر فرض قرار دیا جا چکا ہے. یہی وجہ ہے کہ آج وطن عزیز کے قیام کے ستر سال بعد بھی کچھ ‘محب وطن ‘ اور محب اسلام اعتراض کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ عاطف میاں کو اکنامکس ایڈوائزری کونسل سے نکالا جائے. جن محب وطنوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے یہ وہی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان آج اس نہج پر پہنچ چکا ہےکہ جس میں عاطف میاں کو پاکستان کی ضرورت نہیں، بلکہ پاکستان کو عاطف میاں کی ضرورت پیش آئی ہے۔
سابق ڈپٹی سپیکر سندھ اور پیپلزپارٹی کی سینئررکن شہلا رضا اپنے ٹویٹ میں عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ :
“‘پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں اور سو دن میں صوبہ جنوبی پنجاب کا جھوٹ پہلے دن ہی سمجھ آگیا تھا،لیکن اس منافقت کی توقع شاید کسی کو بھی نہیں تھی کہ ریاست مدینہ کو آئیڈیل قرار دینے والے عمران خان مرزا غلام احمد قادیانی کے پڑپوتے کو قریبی مشیر مقرر کریں گے”۔
اس ٹویٹ کے بعدشہلا رضا صاحبہ کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور اعلیٰ قیادت کے دباؤ کے بعد انہیں اس ٹویٹ کو ڈلیٹ کرنا پڑا.
ایسی سوچ رکھنے والے’ محب وطن ‘ وہی ہیں جو وزیر اعظم عمران خان سے گزارش کرنا چاہ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں اقلیتوں کو صرف جھاڑو مارنے اور چپڑاسی کے کام کی حد تک ہی رکھاجائے۔ ہم اپنی عیسائی برادری کے ساتھ بھی تو یہی کرتے ہیں کیونکہ اس سے ہی ہمارے دل راضی ہوتے ہیں ۔ لہذا عاطف میاں کو اکنامکس کونسل کے میٹنگ روم میں جھاڑو لگانے کے کام کی حد تک ہی رکھا جائے مزید یہ کہ کونسل کے مسلمان اور محب وطن ممبران کے لیے دو وقت کی چائے ملائی مار کر پیش کرنے کا کام بھی دے دیا جائے.
ایسے محب وطنوں کی خواہش کے مطابق جناح صاحب کو بھی یہی کرنا چاہیے تھا کہ سر ظفرالہ خان کو وزیر خارجہ کے دفتر میں چپڑاسی کے عہدہ پر رکھ دیتے، مگر جناح صاحب شاید اتنے محب وطن نہیں تھے جتنے یہ ہیں تبھی تو انہوں نے سر ظفرالہ خان کو پاکستان کا پہلا فارن منسٹر نامزد کردیا.
اب سوال یہ ہے کہ اگر اصل حب وطن یہی ہے جیسی ان انتہا پسندو کی ہے، تو پھر ہم کیا کریں؟ کیا ہم اپنے اکنامکس کونسل میں ایسے افراد بھرتی کردیں جن کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ ڈنڈے ہوں؟
The post عاطف میاں کو چپڑاسی کا کام دیا جائے appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2NRUWeP
No comments:
Post a Comment