کہا جاتا ہے عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچانے میں طالب علموں اور نوجوانوں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ چاہے وہ گلی کوچوں ،محلوں اور درسگاہوں میں بحث مباحثے ہوں یا ووٹ ڈالنے کا دن ہو ہر موقع پر طالب علموں اور ہاتھوں میں ڈگریاں تھا مے اورآنکھوں میں امید لیے نو جوانوں نے بڑھ چڑھ کر عمران خان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں مدد کی اور عمران خان کو اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کو 2018 کے انتخابات میں اس آس پہ ووٹ ڈلوایا کہ شاید سسٹم بدل جائے، شاید ان کی بھی سنی جائے۔
خان صاحب مسائل بہت زیادہ ہیں مگر وقت بہت کم ہے اور قوم بہت جلد باز ہے کم از کم وہ تو کر جائیں جو آپ کر سکتے ہیں۔ ان کی تو سن لیں جس طبقے نے آپ کو ووٹ دیا۔ کم از کم انتظامی معاملات تو درست کرلیں اس کام کے لیےآپ کو سعودیہ یا آئی ایم ایف بھی نہیں جانا پڑے گا ،کسی سے بھیک بھی نہیں مانگنی پڑے گی اوربجٹ میں پیسے بھی نہیں رکھنے پڑیں گے ۔آپ ملک کے وزیراعظم ہیں کم از کم اتنی تو آپ کی اس ملک میں چلنی چاہیے کہ 300 سے زائد طالب علموں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچالیا جائے۔ان کے والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر ان بچوں کی فیسیں ادا کی، انہیں پڑھایا لکھایا اس امید پر کہ ان کا مستقبل روشن ہو ۔خان صاحب !جس ملک میں قلم کی جنبش سے حل ہونے والے کام سالوں لٹکے رہتے ہیں اس ملک میں آپ ہمیں یہ کیسے یقین دلائیں گے کہ آپ معیشت کو بہتر کر لیں گے ،روزگار اور گھر مہیا کردیں گے ۔ خدارا ہمیں کچھ تو جلوہ دکھائیں ۔۔ ہم کیوں آپ کو پانچ سال مہلت دیں ؟ آپ ہمیں روزگار نہیں دے سکتے نہ دیں پر ہماری ڈگریوں کو وہ حیثیت دلوادیں جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔اس ملک میں ہمیں روزگار نہیں بھی ملتا تو دنیا کے دروازے تو کھلے ہیں ہم وہاں جاکر بھی آپ کو ڈالر بھیجیں گے جس کے لیے آپ آج مارے مارے پھر رہے ہیں خدارا ہمارا مسئلہ حل کروادیں۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ میڈیکل کے شعبے کی سر فہرست یونیورسٹی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذیلی کالج ڈاؤ ڈینٹل کالج کا قیام نومبر 2012 میں ہوا جس میں ہر سال 50 بچوں کو داخلہ دیا جارہا ہے۔ کالج میں ایڈمیشن حاصل کرتے وقت طلب علموں کو داخلہ فارم کے ساتھ منسلک جو پراسپیکٹس دیا جاتا ہے اس میں واضح طور پر یہ بات لکھی ہوتی ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے ماتحت چلنے والا یہ ڈاؤ ڈینٹل کالج پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے منظور شدہ ہے۔
اس کے علاوہ ڈاؤ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی ویب سائٹ پر ایک وقت تک یہ درج رہا کہ یہ کالج پی۔ایم۔ڈی۔سی سے منظور شدہ ہے
لیکن بعد میں اسے تبدیل کردیا گیا۔
چار سالہ بیچلر پروگرام کے تحت پاس آؤٹ ہونے والے طالب علموں پر 2017 میں 01 سالہ ہاؤس جاب کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ڈاؤ ڈینٹل کالج پی۔ایم۔ڈی۔سی سے منظور شدہ ہی نہیں۔
یہ سراسر دھوکہ اور فراڈ ہے اس کا فوری طور پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔ ڈاؤ ڈینٹل کالج کے طلبہ و طالبات جن کی تعداد اب 300 ہوچکی ہے نے بارہا ڈاؤ یونیورسٹی اور اپنے کالج کی انتظامیہ کے دروازوں پر دستک دی لیکن ماسوائے بہانوں اور صبر کی تلقین کے طلبہ کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔
آج 300 بچوں کا مستقبل اور ان سے جڑے والدین کے خواب اور امیدیں انصاف کی طلبگار ہیں۔ کالج انتظامیہ اور پی۔ایم۔ڈی۔سی کی نا اہلی کی وجہ سے آج یہ طلبہ و طالبات بے روزگاری کا شکار ہیں. ان مظلوم ینگ ڈینٹیسٹ کے پاس ڈگری ہوتے ہوئے بھی عوام کی خدمت کا لا ئسنس نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز اعلی حکام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم صاحب یہ انتظامی معاملہ آپ کی توجہ کا طلبگار ہے۔ خدارا ان بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچایا جائے۔ صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب آپ تو خود ڈینٹسٹ ہیں اپنی کمیونٹی کا مسئلہ حل کرنے میں ان کی مدد کیجیے ۔ان بچوں کی دعائیں آپکو اور زیادہ بلندیوں تک لے جائیں گی آپ ہی درخواست کر دیں وزیراعظم سے ۔ یہ طالب علم امید بھری نظروں سے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں. کچھ کر جائیں۔ آپ کی جماعت کے موجودہ گورنر سندھ جناب عمران اسماعیل اس مسئلہ کے حل کی یقین دہانی بھی کرواچکے ہیں لیکن کوئی عملی قدم اب تک نہیں اٹھایا جاسکا۔
جناب صدر اور وزیراعظم صاحب ہمیں نہیں معلوم ہمارے حق کی ادائیگی میں کیا امر مانع ہے۔ ہمیں نہیں معلوم یہ معاملہ صوبائی ہے یا وفاقی ،ہمیں نہیں معلوم کے اٹھارویں ترمیم میں اعلی تعلیم کا شعبہ صوبائی سطح پر حل ہوگا یا دفاقی سطح پر ،ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہم نے آپ کو ووٹ دیا اور آپ چاہیں تو چند دنوں میں یہ معاملہ حل ہوسکتا ہے۔ خدارا ہمیں صوبائی اور مرکزی اختیارات کی لڑائی کا ایندھن بننے سے بچائیں۔
The post نجی ڈینٹل کالج کے طلبہ کی وزیر اعظم پاکستان سے مدد کی اپیل appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2OUcFqw



No comments:
Post a Comment