Tuesday, February 19, 2019

دکھاوا، خود پسندی اور بناوٹ

اس کی”تیاری ” تکمیل کے آخری مرحلے میں تھی۔مختلف اقسام کی برانڈڈ چاکلیٹس وہ کل ہی مارکیٹ سے لے آئی تھی۔باہر سے آتی گھنٹی کی آواز سنتے ہی وہ تقریباَ بھاگتے ہوئے بیرونی دروازے تک پہنچی۔جہاں ڈیلوری بوائے گیس بھرے غبارے اور ایک عدد گلاب کے پھولوں کا دستہ ہاتھ میں تھامے کھڑا تھا۔بل کی ادائیگی کے بعد وہ فوری طور پر اپنے کمرے میں موجود تھی۔اس نے پیکنگ کے ڈبے تہہ در تہہ جوڑے، ایک میں چاکلیٹس، دوسرے میں دو ننھے منے ٹیڈی بیئرز اور تیسرے میں چند تصاویر اور گلدستہ رکھ کر خوبصورت سی پیکنگ میں تبدیل کر دیا۔ اب زمین پر چھوٹے چھوٹے دیئوں سے “دل” کی شکل بنانے کی کمی پوری کرتی ، اور چند پھول کی پتیاں گزرگاہ کی طرف بچھاتے اس کا کام تقریباَ مکمل ہو چکا تھا۔آج اس نے سرخی مائل رنگت کی قمیص پہنی ، جو کہ اسی دن کی مناسبت سے لی گئی تھی۔اب بس انتظار “ڈرامے ” کی تشکیل کا تھا۔ ٹھیک ایک گھنٹے بعد کام سے واپس آئے اپنے شوہر کے ہاتھ میں موبائل تھماتے ہوئے وہ اس کو پورا “اسکرپٹ” سمجھا چکی تھی۔

آنکھوں پر پٹی باندھے وہ بیڈروم کے دروازے کے ساتھ جا لگی تھی، جہاں سے کیمرہ کی ریکارڈنگ شروع کر دی گئی۔بظاہر رف سی لُک میں اپنے ہی ہاتھوں پیک کیےہوئے گفٹ کو دیکھتے ہوئے وہ …. “اوہ مائی گاڈ” ، ” دس از فار می” اور ” امیزنگ” کہتی رہی۔ چہرے پر سجی مصنوعی خوشی کا اظہار بھی توازن کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔اس کے دھیمے دھیمے انداز میں کہیں بھی عجلت نہ دکھائی دیتی تھی۔ “سین ” مکمل ہو چکا تو ریکارڈنگ بند کر دی گئی۔ مگر ابھی اس کا کام باقی تھا۔ مختلف ہیش ٹیگز ، اور ویلنٹائن کے فلٹر سیٹ کرنے کے بعد وہ تصاویر اور ویڈیو سوشل ایپس پر ڈال چکی تھی۔ اب وہ مطمئن تھی۔کیونکہ آج کی ذمہ داری بخوبی ادا ہو گئی تھی۔

یہی حال ہمارا ہے، نہ تو بسے بسائے گھر میں ایسے سرپرائز ہوتے ہیں اور نہ اتفاقاَ سب تیار ملتے ہیں۔ جہاں مرد حضرات اپنی چیزیں ڈھونڈ نہیں پاتےوہاں یہ ڈیکوریشن کی اشیاء انھیں کیسے مل جاتی ہیں؟ یہ سب ہم اس لیے کرتے ہیں کہ گنتی کے چند لوگوں میں ہمارا مقام بڑھ جائے۔ دراصل ہر ایک شخص کے اکاؤنٹ میں ایک ایسا بندہ یا بندی ضرور ہوتا ہے ، جس کو” دکھانے “کے لیے اسے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔ ہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ میں اس “پوز” میں کتنی مطمئن ہوں۔ یاد رہے اس لسٹ میں دوست دشمن سب شامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ مقصد صرف ریس ہے، چاہے اس کا اپنی ذات کو کوئی فائدہ نہ ہو۔ خود کے بازار میں گم رہنا ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جو آپ کی نشونما روک دیتا ہے، آپ کو صرف سراہے جانے کی عادت ہو جاتی ہے، اس لیے ماہر نفسیات خود پسندی کو بیماری تجویز کرتے ہیں نہ کہ قابل تعریف۔

The post دکھاوا، خود پسندی اور بناوٹ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ http://bit.ly/2V5FX4k

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny