Friday, April 20, 2018

سندھ میں قومی زبان کے ساتھ سندھی زبان کی روشنی بھی مدہم نہیں پڑنی چاہئیے

پاکستان کی تمام مقامی زبانیں انتہائی میٹھی اور محبت سے لبریز ہیں۔ انسان جب اپنی ماں کی گود میں پروان چڑھتا ہے اور اس کے کان اس کی میٹھی بولی سے آشنا ہوتے ہیں تو فطری طور پر وہی زبان اس کے دل و دماغ اور روح میں بس جاتی ہے۔ اپنی مادری زبان سے محبت ہونا اچھنبے کی بات نہیں۔ حیرت اس وقت ہو نی چاہئیے جب کوئی اپنی مادری زبان سے رشتہ توڑ بیٹھے۔

پاکستانی ہونے کے ناطے جہاں ہم دنیا کی دیگر زبانوں کی اہمیت سمجھتے ہیں اور انہیں سیکھنے اور سمجھنے کی جانب مائل ہونا بہت سی وجوہات کی بناء پر ضروری سمجھتے ہیں وہیں پاکستان کی علاقائی زبانوں کے ساتھ ہماری بیزاری اور بے گانگی ہمارے رویوں میں واضح نظر آتی ہے۔ قومی زبان اردو سے ہماری رغبت اور اس کی ترقی و ترویج کی کوشش جہاں ہمارا فرض ہے وہیں ہمیں اپنے ملک کی دیگر زبانوں کے احیاء کے اقدامات کی تائید بھی کرنی چاہئیے۔

گذشتہ روز سے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن سوشل میڈیا پر زیرِ بحث بنا ہوا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن میں ہدائیت کی گئی ہے کہ سندھ یونیورسٹی اور اس کے کیمپسز کی عمارتوں اور اس میں لگے سائن بورڈ میں صرف دو زبانیں انگریزی اور سندھی کا استعمال کیا جائے گا۔

31045310_1396971690409359_5917600649029091328_n

اندرونِ سندھ میں اس عمل سے ملک کی قومی زبان کو تو کوئی خطرہ نہیں لیکن سندھی زبان کی اہمیت بڑھانے کے لیے یہ ایک احسن قدم ہے۔ سندھی زبان کی اہمیت ملک کی تمام زبانوں کی لحاظ سے اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کا اپنا رسم الخط ہے جو عربی رسم الخط سے ہم آہنگ ہے۔

سندھی زبان ایک قدیم اور تاریخی اہمیت کی حامل زبان ہے اور ہمارے ملک کی ہی ایک زبان ہے۔ اس کی ترویج کے لیے جو بھی قدم اٹھایا جائے، ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چا ہئیے۔

اردو زبان عالمی پہچان رکھتی ہے۔ ملکی بنیادوں پر پاکستان کی تمام بولیوں کو ذاتی انا اور تعصب کو بالائے طاق رکھ کر انہیں اجاگرکرنے کی ہر کوشش کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے۔ وطن کی ایک نہیں تمام زبانوں کو روشناس ہونا چاہیے۔ ہمیں اس کی راہ میں روڑے اٹکانے اور تنقید کرنے کے بجائے اس کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے تاکہ ایک مثبت مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

ہاں اگر تنقید اس بات پر ہو کہ سندھ یونیورسٹی کی عمارت اور اس کی کیمپسز اور سائن بورڈز پر سندھی کے ساتھ انگریزی زبان غیر ضروری ہے تب تو بات سمجھ آتی ہے۔ لیکن یونی ورسٹی تو کجا سندھ کے دیگر اداروں اور سائن بورڈز پر بھی صرف سندھی زبان ہی نظر آئے تو اس سے پاکستان کی قومی زبان کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچنے کا کوئی احتمال نہیں۔

اندورنِ سندھ میں سندھی زبان کی روشنی پھیلانے کے لیے سندھ دھرتی کے ہر باسی کا فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کا دیا جلائے۔ اردو اپنی پوری آب و تاب سے ملک کے ہر حصے میں روشن ہے۔ اس کے مدہم ہو نے کی فکر میں سندھی زبان کی ترقی کی کوششوں پر بلا وجہ جواز تنقید کرنا نہ تو قومی زبان سے محبت کا اظہار ہے نہ ہی وطن سے۔ سندھ میں سندھی زبان کو جاگر کرنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری اور سندھی زبان کا حق ہے جو اسے پورے وقار کے ساتھ دیا جانا چاہئیے۔

The post سندھ میں قومی زبان کے ساتھ سندھی زبان کی روشنی بھی مدہم نہیں پڑنی چاہئیے appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2HgefPX

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny