Saturday, May 26, 2018

جمہوریت کے منہ پرطمانچے

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ جمہوریت ایسا نظام ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ ان جیسے صاحب فراست شخص کی دیدہ بینا نے اس نظام کو گہرائی تک پہچان لیا تھا کہ یہ ایک دکھاوے کا نظام ہے۔ اس میں کسی کی صلاحیت قابلیت اور اخلاق کو کبھی بھی نہیں پرکھا اور جانچا جائے گا بلکہ صرف بندوں کو گنا جائے گا۔ ایک نیم پاگل شخص اور ارسطو زمانہ کے ووٹ کو برابر اہمیت حاصل ہوگی۔

آج کے تناظر میں اگر حضرت اقبال کے شعر کی بنیاد پر جمہوریت کو پرکھیں تو واقعی یہ بات درست لگتی ہے۔ آزادی بیان اور آزادی رائے کی آڑ میں بد اخلاقی کے مظاہرے کا نام جمہوریت بن چکا ہے۔ مغرب سے آنے والے اس نظام کی نظر عام آدمی کو کچھ حقوق دئے گئے ہیں کہ وہ بھی کارہائے حکومت میں اپنا کچھ حصہ ڈال سکے اور اپنی رائے دے سکے۔یہ نظام ایک ہی ملک کے ایک ہی علاقے کے رہنے والے افراد کے درمیان اختلاف رائے کی قدر کرنے کا درس دیتا ہے۔ ایک شخص جو کسی بھی عہدے کا امیدوار ہے وہ اسی ملک اور اسی علاقے کا باشندہ ہے۔ وہ اسی مٹی سے تعلق رکھتا ہے جس سے اس کے مخالف امیدوار کا تعلق ہے۔ اگر اختلاف ہے تو وہ نظریے کا ہے۔ خیالات کا ہے منشور کا ہے۔ اور مخالفت ہے تو خیالات سے ہے نظریات سے ہے اور منشور سے ہے۔ اور یہ مخالفت بھی ایک حد میں رہتے ہوئے اخلاقیات کا دامن تھام کر کرنی ہے۔ جتنی بھی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں وہ ہمارے ہی ملک کی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ ان کے نظریات سے اختلاف کو ہر فرد کا جمہوری حق جانا اور مانا جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں خاص طور پر ایسا چلن نہیں ہے۔ ہمارے ہاں کچھ عرصہ سے گالی گلوچ کی سیاست آ گئی ہے۔ کوئی کنٹینر پر چڑھ کر گالیاں دیتا ہے تو کوئی وہیل چئیر پر بیٹھ کر اور کوئی جلسہ گاہ میں گندی زبان استعمال کر تا ہے۔ ان پارٹیوں کے پیرو کار اپنے رہنمائوں سے چار ہاتھ آگے نکل چکے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی سیاستدان کی عزت محفوظ نہیں ان گندے اور بازاری جملوں اور حملوں سے۔ ہمارے نام نہاد رہنمائوں نے ہماری یہ تربیت کی ہے کہ ہم بھری محفل میں مخالف کو ماں بہن کی گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ کبھی کسی پر سیا ہی پھینک رہے ہیں تو کبھی کسی پر جوتا پھینک رہے ہیں۔ اور تو اور برداشت کی حد ختم ہو گئی ہے اور اب ہم مرنے مارنے تک پہنچ چکے ہیں۔ اب سر عام جلسوں میں نوجوان پستول کی گولی سیدھی سیاسی مخالفین پر چلا رہے ہیں۔

کیا کسی کی ماں بہن کی عزت اچھالنا جمہوریت ہے؟ ایک پارٹی کا سوشل میڈیا اس بات پر فخر کرتا ہے کہ آج اس نے مخالف کی ماں بہن کو گالیاں دیں اور اس پر اتنے ہزار کمنٹس آئے اتنے ہزار افراد نے اسے پسند کیا۔ دوسری پارٹی کو سوشل میڈیا والے اس سے بھی بڑھ کر جوابی کارروائی کرتے ہیں اور یوں تمام سیاستدان بے عزت کئے جا رہے ہیں۔ کیا یہ جمہوری طرز عمل ہے؟

کیا اخلاقیات اور جمہوریت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں؟ کیا اب صرف ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالنا ہی جمہوریت کہلاتا ہے؟ اس نا پسندیدہ مہم میں آج کے نام نہاد صحافی بھی برابر کے شریک ہیں۔ میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں یا مال کمانے کے چکر میں ایسے ایسے چغادری بٹھا رہا ہے کہ خدا کی پناہ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سفید داڑھیوں والے اینکرزگالی گلوچ سے پرہیز نہیں کر رہے۔ وہ جنہیں ہم اپنے لئے ماڈل سمجھتے انہوں نے ہمیں اس کام پر اکسایا ہے کہ ہم مخالف کی ٹانگیں کھینچیں۔ مخالف کی ذاتی زندگی کو زیر بحث لائیں اور بحث جیتیں اور اپنی بلے بلے کرائیں۔

الزام در الزام اور اخلاقیات سے بیگانگی کا اب یہ عالم ہے کہ عوام کسی اینکر صحافی یا سوشل میڈیا ورکر کو اس وقت تک پسند ہی نہیں کرتی جب تک کہ وہ مخالف کی ذاتی زندگی نہیں اچھالتا اور اسے چند گالیاں نہیں دے لیتا۔

میری تمام سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ اب بھی وہ اس صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ اپنے ہم خیال صحافیوں اور اینکرز کو ہدایت جاری کریں کہ وہ مخالفین کی ذاتی زندگی سے گریز کریں اور نوجوانوں کو بھڑکانے کی بجائے انہیں ٹھنڈا کریں ورنہ شکار تو انہوں نے ہی ہونا ہے۔ گالیاں انہیں ہی پڑنی ہیں جس میں اینکرز اور صحافیوں کو بھی حسسب توفیق حصہ ملے گا۔ جمہوریت کو اخلاقیات کا پابند کریں۔ اور تحمل اور برداشت سے کام لیں۔ مخالفین کے منہ پر تھپڑ مارنے کی بجائے انہیں اپنے اچھے اخلاق سے رام کرنے کی کوشش کریں۔ جمہوریت کے منہ پر طمانچے مت ماریں کہ یہ آپ سے روٹھ ہی جائے۔

The post جمہوریت کے منہ پرطمانچے appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2KRDkxR

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny