روز اول سے تنازعات کا شکار ہونا اس کا وتیرہ رہا ہے۔ کبھی غالب فلم دیکھی ہے، پوچھنا تو کبھی لسانی تفریق قائم کرنا۔ کچھ لوگ ہوتے ہی ہیں متنازعہ رہنے کو۔ ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں ٹرمپ کی بات نہیں کرتے۔ ٹرمپ سے پہلے ہی ہمارے وطن پاکستان میں ایسے کئی کردار موجود رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام عامر لیاقت کا ہے۔
عامر لیاقت اب تک رمضان ٹرانسمیشن میں اپنے منفرد انداز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں مگر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسا ضرور کر جاتے ہیں۔ جس کے سبب دنیا ان کے خلاف ہو جاتی ہے اور وہ اپنی مخالف ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
متنازعہ تو قندیل بلوچ ہوئیں تھیں مگر آج وہ اسکرین پر نہیں بلکہ زیرِ زمین دفن ہوچکی ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کے قتل کے معمے کو اب تک کفن نصیب نہیں ہوا۔ مگر اک روز یہ بھی ہو جائے گا۔
بات عامر لیاقت کی کریں تو ان کی ٹی وی اسکرین پر آمد کس کی پرچی پر ہوئی یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ممکن ہے بہت سوں کو نہ معلوم ہو مگر اکثریت جانتی ہے۔ وہی جنہوں نے نمائش میں مذہبی جلوس میں عامر لیاقت کے خلاف لگنے والے نعروں کے باجود انہیں زندگی اور پروگرام کو جاری رکھنے کا پروانہ فراہم کیا۔ یہ تھا پہلا تنازعہ اسے کون بھول سکتا ہے۔
Hate Speech یا نفرت انگیز گفتگو انجانے میں ہی سہی ہو جائے تو اس کا انجام سوائے آخری انجام کے کچھ نہیں ہوتا۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہی سچائی ہے۔ نفرتوں کو دبا رہنے دیں۔ ایک چنگاری سے ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جس سے نفرت کو ہوا دینے والا بھی اس کی زد میں آکر سوختہ ہو سکتا ہے۔
بھارت سے موصول ہونے والی ایک کال کا جواب دینے کی بجائے بلند آواز میں کالر کا تعلق ذاکر نائیک سے جوڑ دینا ہی عامر لیاقت کی جانب سے ہیٹ اسپیچ کا سبب بنا۔ اس پر سامنے موجود ایک عالم قاری خلیل پر اپنا سارا غصہ نکال کر ایک اچھے میزبان کا ثبوت نہ دینا بھی آگ لگانے کا باعث بنا۔ عامر لیاقت کا عالم کی تضحیک کے بعد شو چھوڑ دینا اور پھر ایک دوسرے مسلک کے عالم کا قاری خلیل سے زیادتی ناقابل برداشت ہے۔
عامر لیاقت کب تک نفرت بھری سانسیں لے کرمذہبی اور لسانی منافرت کی آگ کو بھڑکاتے رہیں گے یہ سوائے اوپر والے کے کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اس مرتبہ ان کی نئی سیاسی جماعت بھی انہیں بچا نہ سکے گی اور پرانی جماعتیں توان کی دشنام طرازی کی وجہ سے ویسے ہی ان سے بیزار نظر آتی ہیں۔
ان کی ہیٹ اسپیچ کے نشر ہونے کے بعد بین عامر لیاقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل نکلا اوراس میں میڈیا سے وابستہ افراد پہلی مرتبہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آئے۔ سب سے اہم کہ پیمرا کی ویب سائٹ پر کمپلین کرنے کی اپیل بھی کی جاتی رہی۔ پیمرا پر مہم کا نتیجہ تو آنا تھا ہی۔
طارق حبیب جو پرانے صحافی ہیں انہوں نے ٹویٹ کی”پیمرا نے عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی عائد کردی۔ تمام جدوجہد کرنے والے دوستوں کو مبارک باد۔ اب اگلا قدم اس کے خلاف ایف آئی آر ہونا چاہئیے۔”
پیمرا نے عامر لیاقت کے پروگرام رمضان میں بول ، اور ایسا نہیں چلے گا پر پابندی عائد کر دی _ تمام جدوجہد کرنے والے دوستوں کو مبارک باد ،
اب اگلا قدم اسکے خلاف ایف آئی آر کا ہونا چاہیے#BanAamirLiaqat
— Tariq Habib (@tariqhabib1) May 25, 2018
سرزمین ہزارہ سے تعلق رکھنے والے صحافی زبیر نے لکھا ”بندر کے ہاتھ استرا آجائے تو وہ خود کو بھی زخمی کر تا ہے۔ اپنے بندر ساتھیوں اور لوگوں کو بھی زخمی کرے گا۔ یہ ہی مثال عامر لیاقت جیسوں پر فٹ آتی ہے جو ٹی وی پر بیٹھ کر ڈرمے بازیاں اور فرقہ واریت پھیلا رہا ہے۔ جس کو نہ صحافت کا پتا نہ دین کا۔ ”
بندر کے ہاتھ میں استرا آجائے تو وہ خود کو بھی زخمی کرتا ہے ، اپنے بندر ساتھیوں اور لوگوں کو بھی زخمی کرئے گا ۔ یہ ہی مثال عامر لیاقت جیسوں پر فٹ آتی ہے جو کہ ٹیلی وژن پربیٹھ کر ڈرامے بازیاں اور فرقہ واریت پھیلا رہاہے۔ جس کو نہ صحافت کا پتا نہ دین کا#BanAamirLiaqat #AmirLiaquat
— Mohammad Zubair Khan (@HazaraZubair) May 25, 2018
کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی نعمت خان نے لکھا ”مجھے لوگوں کو جانچنے کی عادت نہیں مگر میں عامر لیاقت کو گزشتہ پندرہ برس سے جانتا ہوں۔ وہ از خود تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ میرے خیال میں اگر شیطان انسانی روپ میں آئے تو وہ یہ جعلی ڈاکٹر ہوگا۔ ”
I am not in habit of judging people but since I know @AamirLiaquat for the last fifteen years and he intentionally makes controversies, I think if Devil could appear in form of human being he would be this fake Doctor #BanAamirLiaqat #BANAmirLiaquat @fawadchaudhry @DrAwab
— Naimat Khan (@NKMalazai) May 25, 2018
اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سے پی ایچ ڈی کے اسکالر ابوالحسن فراز نے ٹویٹ کی” ہیش ٹیگ بین عامر لیاقت۔ ۔ ۔ محترم سب کا شکریہ۔ پی ٹی آئی والوں سے بھی ملاقات بہت ضروری ہے کہ اس کو پارٹی سے نکالیں۔ انتہائی کرپٹ انسان ہے۔ امید ہے کہ آ پ میں سے بااثر ساتھی مشورہ اور کوشش کریں گے۔ ”
#BanAamirLiaqat mohtaram sabka buhat shukria.#PTI karachi walon se bhee mulaqat buhat zaroori hai ke isko party se nikalen.
Intihai currupt insaan hai.
Umeed hai aap main se ba Asar sathi mashwara aur koshish karengay.
— أبـو الـحـسـن فــراز (@abuhasanfaraz) May 25, 2018
سبحان احمد نجمی نے لکھا ”کہاں مر گئے بیٹیاں دینے والے کا طعنہ دینے والا شیطان عامر لیاقت ایک مرتبہ پھر فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے لیکن اس بار تمام مسالک کے باشعور مسلمان اور علمائے کرام تم جیسے شیطان کا بائیکاٹ کریں گے۔ ”
“کہاں مر گئے بیٹیاں دینے والے” کا طعنہ دینے والا شیطان عامر لیاقت ایک بار پھر فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے، لیکن اس بار تمام مسالک کے باشعور مسلمان اور علما کرام تم جیسے شیطان کا مکمل بائیکاٹ کرینگے اور فرقہ واریت پھیلانے والے جاہل انسان کو منہ توڑ جواب دینگے۔ #BanAamirLiaqat pic.twitter.com/Y7KutiQVIf
— Subhan Ahmed Najmi (@sa_najmi) May 25, 2018
کوہ نور نے ٹویٹ کی”میں ذاتی طور پر فرقوں پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم مسلمان ہیں اور متحد ہیں۔ ہمیں کسی کو نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ ”اس کے ساتھ ہی انہوں نے پیمرا میں عامر لیاقت پر پابندی کیلئے جو رپورٹ کی اس کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔ جو پچیس دسمبر کو رات دس بج کر چوالیس منٹ پر ننانوے ہزار اٹھ سو تین تھا۔
Personally I dont believe in Firqas, We are Muslim and we are united, We shouldn’t Allow any one to sprading hate. #BanAmirLiaquat #BanAamirLiaquat pic.twitter.com/H2Od3RhR9k
— KohiNoor (@KohiNoorz) May 25, 2018
سوشل میڈیا پر عامر لیاقت کا دفاع کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے کیونکہ فرحان ورک اور ان کے ساتھی تو پہلے ہی عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے خلاف باقاعدہ مہم چلا چکے تھے تو وہ اب کیسے دفاع کرتے بھلا۔
ٹویٹر اور فیس بک کے علاوہ یو ٹیوب پر علماء کی جانب سے جوابی بیانات بھی شروع ہوگئے۔ اگر پیمرا عامر لیاقت کی نفرت انگیز گفتگو کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پروگرام اور عالم نما اینکرعامر لیاقت پر پابندی نہ لگاتا تو عین ممکن ہے مذہبی فسادات کاسلسلہ شروع ہو جاتا۔ مذہبی پروگراموں کا ایک رابطہ کار بھی بنانا چاہیئے اور متنازعہ افراد کو تاحیات مذہبی پروگرام کرنے سے روک دینا ہی بہترہوگا۔
ابن خلدون نے کہا تھا کہ انسان دو ہی چیزوں پر یکجا ہوتا ہے۔ ایک زبان اور دوسرا مذہب اور ان میں مذہب زیادہ طاقتور عنصر ہے۔ خدارا ملک میں فرقہ واریت کی آگ نہ لگائیں ورنہ سارا ملک بلکہ ساری دنیا نیم عالم کی وجہ سے جل جائے گی۔ سوچئے گا ضرور۔
The post نفرت پھیلانے پر عامر لیاقت پابندی کا شکار appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2J95APb

No comments:
Post a Comment