Saturday, May 26, 2018

نفرت پھیلانے پر عامر لیاقت پابندی کا شکار

روز اول سے تنازعات کا شکار ہونا اس کا وتیرہ رہا ہے۔ کبھی غالب فلم دیکھی ہے، پوچھنا تو کبھی لسانی تفریق قائم کرنا۔ کچھ لوگ ہوتے ہی ہیں متنازعہ رہنے کو۔ ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں ٹرمپ کی بات نہیں کرتے۔ ٹرمپ سے پہلے ہی ہمارے وطن پاکستان میں ایسے کئی کردار موجود رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام عامر لیاقت کا ہے۔

عامر لیاقت اب تک رمضان ٹرانسمیشن میں اپنے منفرد انداز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں مگر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسا ضرور کر جاتے ہیں۔ جس کے سبب دنیا ان کے خلاف ہو جاتی ہے اور وہ اپنی مخالف ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

متنازعہ تو قندیل بلوچ ہوئیں تھیں مگر آج وہ اسکرین پر نہیں بلکہ زیرِ زمین دفن ہوچکی ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کے قتل کے معمے کو اب تک کفن نصیب نہیں ہوا۔ مگر اک روز یہ بھی ہو جائے گا۔

بات عامر لیاقت کی کریں تو ان کی ٹی وی اسکرین پر آمد کس کی پرچی پر ہوئی یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ممکن ہے بہت سوں کو نہ معلوم ہو مگر اکثریت جانتی ہے۔ وہی جنہوں نے نمائش میں مذہبی جلوس میں عامر لیاقت کے خلاف لگنے والے نعروں کے باجود انہیں زندگی اور پروگرام کو جاری رکھنے کا پروانہ فراہم کیا۔ یہ تھا پہلا تنازعہ اسے کون بھول سکتا ہے۔

Hate Speech یا نفرت انگیز گفتگو انجانے میں ہی سہی ہو جائے تو اس کا انجام سوائے آخری انجام کے کچھ نہیں ہوتا۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہی سچائی ہے۔ نفرتوں کو دبا رہنے دیں۔ ایک چنگاری سے ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جس سے نفرت کو ہوا دینے والا بھی اس کی زد میں آکر سوختہ ہو سکتا ہے۔

بھارت سے موصول ہونے والی ایک کال کا جواب دینے کی بجائے بلند آواز میں کالر کا تعلق ذاکر نائیک سے جوڑ دینا ہی عامر لیاقت کی جانب سے ہیٹ اسپیچ کا سبب بنا۔ اس پر سامنے موجود ایک عالم قاری خلیل پر اپنا سارا غصہ نکال کر ایک اچھے میزبان کا ثبوت نہ دینا بھی آگ لگانے کا باعث بنا۔ عامر لیاقت کا عالم کی تضحیک کے بعد شو چھوڑ دینا اور پھر ایک دوسرے مسلک کے عالم کا قاری خلیل سے زیادتی ناقابل برداشت ہے۔

DeEiaw6W0AAJgLU

عامر لیاقت کب تک نفرت بھری سانسیں لے کرمذہبی اور لسانی منافرت کی آگ کو بھڑکاتے رہیں گے یہ سوائے اوپر والے کے کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اس مرتبہ ان کی نئی سیاسی جماعت بھی انہیں بچا نہ سکے گی اور پرانی جماعتیں توان کی دشنام طرازی کی وجہ سے ویسے ہی ان سے بیزار نظر آتی ہیں۔

ان کی ہیٹ اسپیچ کے نشر ہونے کے بعد بین عامر لیاقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل نکلا اوراس میں میڈیا سے وابستہ افراد پہلی مرتبہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آئے۔ سب سے اہم کہ پیمرا کی ویب سائٹ پر کمپلین کرنے کی اپیل بھی کی جاتی رہی۔ پیمرا پر مہم کا نتیجہ تو آنا تھا ہی۔

طارق حبیب جو پرانے صحافی ہیں انہوں نے ٹویٹ کی”پیمرا نے عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی عائد کردی۔ تمام جدوجہد کرنے والے دوستوں کو مبارک باد۔ اب اگلا قدم اس کے خلاف ایف آئی آر ہونا چاہئیے۔”

سرزمین ہزارہ سے تعلق رکھنے والے صحافی زبیر نے لکھا ”بندر کے ہاتھ استرا آجائے تو وہ خود کو بھی زخمی کر تا ہے۔ اپنے بندر ساتھیوں اور لوگوں کو بھی زخمی کرے گا۔ یہ ہی مثال عامر لیاقت جیسوں پر فٹ آتی ہے جو ٹی وی پر بیٹھ کر ڈرمے بازیاں اور فرقہ واریت پھیلا رہا ہے۔ جس کو نہ صحافت کا پتا نہ دین کا۔ ”

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی نعمت خان نے لکھا ”مجھے لوگوں کو جانچنے کی عادت نہیں مگر میں عامر لیاقت کو گزشتہ پندرہ برس سے جانتا ہوں۔ وہ از خود تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ میرے خیال میں اگر شیطان انسانی روپ میں آئے تو وہ یہ جعلی ڈاکٹر ہوگا۔ ”

اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سے پی ایچ ڈی کے اسکالر ابوالحسن فراز نے ٹویٹ کی” ہیش ٹیگ بین عامر لیاقت۔ ۔ ۔ محترم سب کا شکریہ۔ پی ٹی آئی والوں سے بھی ملاقات بہت ضروری ہے کہ اس کو پارٹی سے نکالیں۔ انتہائی کرپٹ انسان ہے۔ امید ہے کہ آ پ میں سے بااثر ساتھی مشورہ اور کوشش کریں گے۔ ”

سبحان احمد نجمی نے لکھا ”کہاں مر گئے بیٹیاں دینے والے کا طعنہ دینے والا شیطان عامر لیاقت ایک مرتبہ پھر فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے لیکن اس بار تمام مسالک کے باشعور مسلمان اور علمائے کرام تم جیسے شیطان کا بائیکاٹ کریں گے۔ ”

کوہ نور نے ٹویٹ کی”میں ذاتی طور پر فرقوں پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم مسلمان ہیں اور متحد ہیں۔ ہمیں کسی کو نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ ”اس کے ساتھ ہی انہوں نے پیمرا میں عامر لیاقت پر پابندی کیلئے جو رپورٹ کی اس کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔ جو پچیس دسمبر کو رات دس بج کر چوالیس منٹ پر ننانوے ہزار اٹھ سو تین تھا۔

سوشل میڈیا پر عامر لیاقت کا دفاع کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے کیونکہ فرحان ورک اور ان کے ساتھی تو پہلے ہی عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے خلاف باقاعدہ مہم چلا چکے تھے تو وہ اب کیسے دفاع کرتے بھلا۔

ٹویٹر اور فیس بک کے علاوہ یو ٹیوب پر علماء کی جانب سے جوابی بیانات بھی شروع ہوگئے۔ اگر پیمرا عامر لیاقت کی نفرت انگیز گفتگو کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پروگرام اور عالم نما اینکرعامر لیاقت پر پابندی نہ لگاتا تو عین ممکن ہے مذہبی فسادات کاسلسلہ شروع ہو جاتا۔ مذہبی پروگراموں کا ایک رابطہ کار بھی بنانا چاہیئے اور متنازعہ افراد کو تاحیات مذہبی پروگرام کرنے سے روک دینا ہی بہترہوگا۔

ابن خلدون نے کہا تھا کہ انسان دو ہی چیزوں پر یکجا ہوتا ہے۔ ایک زبان اور دوسرا مذہب اور ان میں مذہب زیادہ طاقتور عنصر ہے۔ خدارا ملک میں فرقہ واریت کی آگ نہ لگائیں ورنہ سارا ملک بلکہ ساری دنیا نیم عالم کی وجہ سے جل جائے گی۔ سوچئے گا ضرور۔

The post نفرت پھیلانے پر عامر لیاقت پابندی کا شکار appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2J95APb

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny