Monday, July 16, 2018

یہ ہمارے صغیر و کبیر لیڈر

لیڈر یعنی رہنما ہر جگہ پر پائے جاتے ہیں۔ چند معصوم بچے جو گلی میں کھیل رہے ہوں اُن میں سے بھی ایک لیڈر ہوتا ہے جو کھیل کھلا رہا ہوتا ہے۔ اور دوسرے عام بچے اُس سے پوچھ پوچھ کر کھیلتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ ہمارے بڑے لیڈروں کی طرح قوم کی دولت سے نہیں کھیل رہے ہوتے نہ ہی اُنہوں نے کوئی سوسائیٹی یا این جی او یا آف شور کمپنی بنائی ہوتی ہے۔ بنا کر کھیلنا ہوتا ہے اور نہ ہی سیاسی جماعت بنا کر ملک و ملت سے کھیلنا ہوتا ہے۔

لیڈروں کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں۔ ہر شخص اپنے اندر بچپن سے ہی کچھ لیڈرانہ خصوصیات رکھتا ہے۔ اور اگر رکھتا نہیں تو وہ سوچتا ضرور ہے۔ مگر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو لیڈر بن جاتے ہیں۔ جس طرح سرکاری ملازمت ’موقع‘ ملنے سے ملتی ہے اسی طرح لیڈر بھی موقع ملنے سے بنتے ہیں۔

سرکاری محکموں کی انجمنوں کے لیڈروں سے لے کر ملک کی سب سے بڑی پارٹی تک ہمارے ہاں لیڈر ہی لیڈر ہیں۔ لیڈر کی مختلف اقسام تو ہوتی ہی ہیں ان اقسام کے لحاظ سے ان کی خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً سرکاری و نیم سرکاری ادارے کا لیڈر (یونین لیڈر) وہ بنتا ہے جو خود تو کوئی کام نہیں کرتا ساتھ میں اپنے ساتھیوں سے بھی دفتری کام نہ کروائے۔ جس طرح کہ کالج کے طلباء یونین کے لیڈر کہ خود کلاسیں نہیں پڑھتے اور اسی وجہ سے دوسرے پڑھنے والے طلباء سے بھی کلاسوں کا بائیکاٹ کر وا لیتے ہیں تاکہ تعلیمی معیار یکساں رہے کیونکہ لیڈر شپ کا تقاضا یہی ہوتا ہے اور منشور کا حصہ بھی ہوتا ہے کہ یکساں تعلیمی معیار ہو۔

بات ہو رہی تھی دفتری لیڈروں کی تو وہ بھی کام کے معیار کو یکساں کرنے کے لئے دفتری ساتھیوں کو کام نہیں کرنے دیتے اور جب لیڈر بن جاتے ہیں تو پھر اپنے اعلیٰ افسران کے منظور نظر بن جاتے ہیں۔ اور اپنے ذمے کا کام بھی اپنے ساتھیوں سے کرواتے ہیں۔ افسران ایسے بھی لیڈروں کو پسند کرتے ہیں جو کہ خوب استحصالی زوق کے حامل ہوتے ہیں۔

یہ لیڈر جو اپنے ہم نواؤں کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے ہیں لیڈر بننے پر خود ہی جیتے یعنی عیش کرتے ہیں سرکاری خرچے پر اور خود ہی مرتے ہیں نیب کے ہاتھوں۔

کچھ سرکاری افسران اعلیٰ کو بھی عوامی لیڈر بننے کا شوق چراتا ہے۔ ایسے افسران کو یا تو اہنیں او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے۔

یا پھر دوردراز علاقوں میں تعینات کر دیا جاتا ہے۔ سرکاری افسران کی لیڈری یہ ہوتی ہے کہ وہ غریب عوام کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھنے کا وعدہ کر لیتے ہیں۔ اور اُن کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں

اس کے علاوہ بھی بہت سی اقسام کے لیڈر ہوتے ہیں کچھ لوگ قومی سطح کے لیڈر ہوتے ہیں جو جب گرفتار ہوتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ قومی لیڈر اس لئے تھے کہ انہوں نے پوری قوم کے ساتھ فراڈ کیا تھا اسی طرح صوبائی اور ضلعی اور تحصیل سطح کی لیڈر شپ بنتی ہے۔

ہمارے ہاں جو سب سے عام قسم ہے وہ ہے مذہبی لیڈروں کی۔ ہر مدرسے کا ہر عالم اگرچہ لیڈر ہوتا ہے یا بننے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ مدرسے کے لیڈر بھی اپنے بڑی ستے ہوتے ہیں۔ ان بیچاروں کا نان لقمہ تو رس میدے سے چلتا ہے جو دردِ دل رکھنے والے اُن یتیموں و غریب طلباء کو دیتے ہیں جو اُن کے ہاں زیرِ تعلیم ہوتے ہیں۔ مدرسے کا بڑا لیڈر اِسی مدرسے کا ہوتا ہے جس کو چندہ زیادہ ملتا ہے کہ اُ س کے پاس گاڑی بھی ہوتی ہےڈبل کیبن والی وغیرہ اور گھر بھی کسی اچھے پوش علاقے میں ہوتا ہے۔ ان ساری چیزوں کے باوجود وہ مولوی سادہ زندگی گزارتا ہے کیا ہواکہ اس نے دو یا اُس سے زیادہ شادیاں کر لیں۔

سیاسی جماعتوں کے لیڈر، لیڈروں کی ایک اور قسم ہے جو گلی محلے سے لے کر اسلام آباد تک جاتی ہے۔ سیاسی لیڈر بننے کے لئے دو چیزیں بہت ہی اہم ہوتی ہیں یہ سیاسی لیڈر قومی لیڈر بن جاتے ہیں اور ان کا ذریعہ ’’میڈیا‘ ‘ ہوتا ہے جو سرکاری ہو یا غیر سرکاری۔

ہمارے لیڈر اپنے منشور پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں اور اپنے اصول کی خلاف ورزی کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ ان کا منشور ایک ہی ہوتا ہے مگر طریقہ تکمیل مختلف ہوتا ہے۔ ذاتی مفاد کے اصول پر کاربند رہتے ہیں۔ یہ ذاتی مفاد کچھ لیڈر حکومت کی مخالفت کر کے حاصل کرتے ہیں اور کچھ حکومت کی ہاں میں ہاں ملا کر۔ زیادہ فائدے میں وہ رہتے ہیں جو ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ حکومت اگر ایک قدم ٹھیک بھی اُٹھاتی ہے تو مخالفت کرنے والے نے مخالفت کرنا ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ اسے اپنا اصولی موقف سمجھتے ہوئے وصولی جو کرنا ہوتی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کسی بھی حکومت کے ٹھیک چلنے کے لئے اپوزیشن کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

پھر یہ اپوزیشن لیڈر بھی اپنی قسم کے آپ ہوتے ہیں۔ مخالفت تو ہر بات میں کرتے ہیں مگر بات ایک ہی کہتے ہیں کہ حکومت کا فیصلہ اگرچہ اصولی ہے مگر وقت سے پہلے کر لیا گیا ہے۔ اس طرح کے گول مول مخالفت۔ اور ان کے تو کیا کہنے جو حامی لیڈر ہوتے ہیں۔ وہ عہدہ بھی قبول نہیں کرتے مگر فوائد عہدہ داروں سے زیادہ وصول کر تے ہیں۔ حکومت نے ابھی کسی کام کا اشارہ کیا ہوتا ہے کہ یہ اُس کی تعریفوں کے پل باندھنا شروح کر دیتے ہیں۔ صریحاً غلطی کو بھی یہ کبھی غلطی تسلیم نہیں کرتے اگر ایسا کریں تو یہ اُن کے منشور کے خلاف ہوتا ہے۔ کچھ سیاسی و مذہبی لیڈر بھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ دوسرے فائدے اُٹھاتے ہیں۔ حکومتی پالیسی کی تائید یا مخالفت کرنے کا فائدہ اور اپنی مذہبی جماعت کے چندہ کا فائدہ۔

لیڈر خواہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھے مقصد اُ س کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ہر لیڈر اپنے میدان میں بہت طاق ہوتا ہے۔ اُسے کئی کٹھن مراحل سے گزر کر اس مقام تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اُس میں سودے بازی کی ’مک مکا‘ کی صلاحیت بدرجہ اُتم ہوتی ہے بلکہ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ کچھ لیڈر ایسے بھی ہیں جو صرف ایک آدھ بار جیل جانے سے لیڈر بن جاتے ہیں۔ اور پھر ساری زندگی اسی قربانی کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور عیش کر تے رہتے ہیں۔ اور اس قربانی کو کیش کرتے رہتے ہیں۔

ایسے ہی رہنماؤں کی وجہ سے پاکستان یا کوئی بھی ملک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا ہے اور اور

ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے تک ان کے مشکور ہو جاتے کہ یہ حکومت میں آتے ہی یا لائے جاتے ہی ان کے قرضے کی واجب الادا قسطیں جمع کرا دیتے ہیں۔

The post یہ ہمارے صغیر و کبیر لیڈر appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2zGToSt

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny