اس سے پہلے کہ میں اپنے ٹوٹی کمر والے چارہ گروں کو نوید دوں اور اپنے باڑ کے پار دشمنوں کو خبر کروں کہ اپنے وطن کی مٹی کا جو قرض وہ اپنی جان پر رکھتے تھے، ان 128 خاندانوں نے آج اس حساب کو چکا دیا ہے۔
میں برملا یہ اقرار کرتا ہوں کہ اب مجھے اور کسی دوست دشمن کی ضرورت ہی نہیں کہ میں بے حس ہو چکا ہوں۔
مہذب دنیا میں وزارت اطلاعات و نشریات کا عہدہ ہی ختم اور میری ارض پاک میں وزیر اطلاعات کا عہدہ سب سے معتبر جو مجھ جاہل کو نظریاتی سرحدوں سے لیکر جغرافیائی سرحدوں کے محفوظ ہونے کی خبر کرتا ہے اورسب اچھا کی لوری سناتا ہے تو میں مطمعن ہو کر کسی خود کش دھماکے میں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے، دھواں دھواں جسم اور اڑتے چیتھڑوں کی خبر کو جھوٹ اور اغیار کی سازش سمجھ کے ٹی وی چینل بدل کر ‘مائوں بہنوں کا رکھوالا، شیر ہمارا شیر ہمارا’ کا نعرہ لگا لیتا ہوں۔ جلسوں میں جاتا ہوں، ناچتا گاتا ہوں اور اپنے “محبوب قائد دے نعرے وجن گے” والے نعروں پہ دھمال ڈالتا ہوں۔ تھک کر شاہ جمال جا کر پپو سایئں کی دھول کی تھاپ پر لہکتا ہوں کہ میرے علم کا ذریعہ، ذرائع ابلاغ، ہی مجھے جاہل کر چکا ہے۔ میرا شام 5 بجے سے لیکر رات 12 بجے تک کا وقت کیپیٹل ٹاک شوز، رپورٹرزاور آج کامران خان کے نام اور میری سوچ میڈیا کی مرہون منت کہ میرا ووٹ اس پارٹی کا جس کا سیاسی گیت سب سے اچھا اور جس کا جلسہ ڈرون کیمرے میں بڑا نظر آئے۔
اب کالعدم تنظایموں کو الیکشن لڑنے کی کھلی چھٹی ملتی ہے تو ملے، سیاستدان وفاداریاں بدلے تو بدلے، تہمت زدہ جمہوریت کی طوائف اپنے پیروں میں شخصی آمریت کی پازیب پہن کر ناچے تو ناچے، پارٹی ٹکٹوں کی دال جوتیوں میں بٹتی ہے تو بٹے، ووٹ بریانی ایک پلیٹ پہ بکتا ہے تو بکے، ریحام خان جھوٹی سچی کہانیاں لکھتی ہے تو لکھے، رانا ثناء اللہ، نواز شریف کے دیدار کو حج سمجھتا ہے تو سمجھے اور “جی کردا میں تینوں ویکھی جاواں” کی مالا جپے تو جپے، میں تو سارا دن اپنے فیورٹ سیاستدان کے حق میں ٹویٹ کر رہا ہوں، فیس بک پوسٹیں لگا رہا ہوں، اسکے گیت گا رہا ہوں اور میں ہی کہیں دورغوریوں، شاہینوں اور بابروں کے سائے میں دشمنوں کے بچوں کو پڑھاتے پڑھاتے اپنےان پڑھ جوانوں کے بال بیرنگ زدہ لاشے اٹھا رہا ہوں۔
شمالی وزیرستان جل رہا ہے۔ مستونگ کسی بچے کی مانند سہما سہما چل رہا ہے۔ کوئٹہ ہزراہ برادری کی سیسہ زدہ چھلنی لاشوں کا مشک و کافور اپنے ماتھے پر مل رہا ہے۔ گوادر پانی کی بوند بوند کو ترستا مجھے شرم سے پانی پانی اور بے کل کر رہا ہے اور مجھے فلسطین کا غم اہم لگ رہا ہے- پشاور سے کوئٹہ تک آہوں، درد اور سسکتی، تڑپتی انسانیت کا نوحہ ہے تو “شیر آیا شیر آیا” اور “جب آئے گا عمران” کو کس دیوار پر دے ماروں اور کس طرح “دشمنوں کے بچوں کو پڑھانا ہے” کی آرتھی اتاروں؟ جب میری لاش کی قیمت 10 لاکھ اور میرے زخموں کی قیمت 5 لاکھ تو ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے جابجا سٹریٹیجک ڈیپتھ کی گریٹ گیم میں بکتے ہوئے، پشاور، بنوں اور مستونگ کے کوچہ و بازار میں خاک میں لتھڑے ہوئے اور خون میں نہلائے ہوئے جسموں سے کیسے صرف نظر کر لوں کہ لوٹ جاتی ہے ادھر بھی نظر کیا کیجے۔ اب بھی “میرے وطن، میرے وطن! تیری جنت میں آئیں گے اک دن” کا حسن دلکش مگر کیا کیجے کہ ہر روز میرا پشاور کشمیر اور میرا کوئٹہ کابل ہے۔
یہ صرف 128 خاندانوں کے جنازے نہیں، یہ میرے اس زرائع ابلاغ کے جنازے ہیں جو چوبیس گھنٹے مجھے اپنی رنگ برنگی سکرینوں پر اینیمیشنز اورسنسناتی موسیقی اور اشتہاروں کی بھرمار کے درمیان سیاستدانوں کی شادیوں، عقیقوں اور طلاقوں کی جھماکے دار بریکنگ نیوز دیتے ہیں۔ جہاں پر سیاستدانوں اور ادراوں کے پے رول پر موجود اینکرز میرے سامنے اپنے ان داتائوں کے ایسے ایسے ویوز دیتے ہیں کہ ان کے نچڑے دامن سے بے اختیار وضو کرنے کا دل چاہتا ہے۔ یہ میرے ملک کے اس نیوز چینل زدہ میڈیا کے جنازے ہیں جو ہزاروں میل دور سے مجھے برما اور فلسطین کے لوگوں پر عرصہ حیات کی تنگی کی بریکنگ نیوز تو دیتا ہے لیکن اپنے ہی ملک میں اپنے ہی لوگوں کے اڑتے ہوئے چیتھڑے دکھانے سے قاصر ہے۔ جو راکھائن تک تو پہنچ سکتا ہے لیکن مستونگ تک جانے کی اجازت نہیں۔ جو سری نگر میں ہونے والے جنازوں کی لایئو کوریج تو کر سکتا ہے لیکن درین گڑھ میں مرغ بسمل کی طرح تڑپتے لاشے دکھانے کی توفیق حاصل نہیں۔ جو ٹی آر پی کے لیے ایک ہائی پروفائل مجرم، کہ جس کی نہ تو چشم نم دیدہ، نہ ہی دل رنجیدہ، نہ جاں شوریدہ اور نہ ہی کوئی پوشیدہ و ظاہر تہمت عشق وطن کہ وہ اپنی بنائی گئی جائیدادوں کا حساب دینے سے انکاری، کا لندن سے اڈیالہ تک کا ایک ایک انچ چلنے، بیٹھنے اور اڑنے کا سفر دکھا سکتا ہے لیکن میرے بلوچستان کے بازاروں میں پابجولاں، دست افشاں، مست و رقصاں، خاک بر سر، خون بہ داماں چلتے، جینے کی تمہت کے ساتھ تیر الزام و سنگ دشنام سہتے سسکتے اور مرتے لوگوں کی آہیں اور چیخیں سنانے سے منکر۔ جو جب الیکشن الیکشن اور ‘کس شیرو گیدڑ کی آمد ہے’ کے شور و غوغے میں شہباز شریف کی ریلی کے ریگل چوک میں چکر گنائے تو کون ہے میرے بلوچوں کے لاشے گنے جن کے لیے سرد خانوں میں جگہ کم پڑ جائے۔
یہ 128 جنازے ان چینلوں کے ہیں کہ جہاں پر پیڈ کانٹینٹ انسانی جان سے اہم ہے، جہاں پر خودکش دھماکوں کی بارود کی بدبو کڑکتے نوٹوں کی مشک و عنبر کی بھینی بھینی خوشبو میں کہیں گم ہے، جہاں پر راحت فتح علی خان کے سیاسی گیت، یاسیت و درد میں ڈوبے انسان ہونے کی تہمت لیئے لوگوں کے لاشوں کے سرہانے بیٹھی بوڑھی مائوں کے بینوں سے زیادہ اہم ہیں۔ یہاں ابو ظہبی سے طیارہ پہنچنے کی خبر اہم ہے اور ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کے اسپتال نہ پہنچنے کی خبر ایک ٹکر جتنی اہم بھی نہیں۔ یہاں جہاز میں سے سب سے پہلے آپ کو ویژولز دکھانے ضروری ہیں کہ خودکش حملے میں مرنے والے تو مر گئے۔
اے الیکشن کے پرچموں کی بہارو، پھول برسائو کہ میرا محبوب تا حیات قائد، میرا دلوں کا وزیراعظم گرفتاری دینے آیا ہے۔ چاہے میرے ہم وطنوں کے اڑتے چیتھڑوں کی قبروں کو کاغذی پھول بھی میسر نہ ہوں۔ آج یہ 128 جنازے نہیں، آج شائد پیمرا کے کسی آرڈیننس کو دفنایا گیا ہے۔ آج مستونگ کی کچی دیواروں کو انسانی خون سے نہیں، میری انسانیت کی تکریم کے خون سے نہلایا گیا ہے۔ میرے انسانی جان کی حرمت والے چنیدہ چنیدہ اصولوں کو ایک مجرم کی کوریج کرتے کیمروں کے بنے شمشان گھاٹ پر جلایا گیا اور پھر اسکی راکھ کو اڈیالہ جیل کے ساتھ بہتے نالہ لئی میں بہایا گیا۔
میرے دشمنوں کو نوید ہو کہ میرے غوری اور میرے شاہین ہار گئے اور میرے اثاثے جیت گئے۔
میرے معصوم ہار گئے اور میرے مجرم جیت گئے۔
میرے مظلوموں کے آنسو ہار گئے، میرے ظالم ہنستے ہنستے جیت گئے۔
میرے اسیران گلشن ہار گئے، میرے سیاسی مہاشے جیت گئے۔
میرے محب وطن ہار گئے، میرے اغیار جیت گئے۔
میرے زمینی حقائق ہار گئے، میرے تبصرے جیت گئے۔
میرے عدم کے مسافر ہار گئے، میرے لندن کی پرواز کے مسافر جیت گئے۔
میرے تاجدار وطن ہار گئے، میرے وطن کے سوداگر جیت گئے۔
میرے مستونگ کے کچے ڈیرے پہ خبریں سنانے والے ہار گئے، میرے ہائی ڈیفینیشن میڈیا چینل جیت گئے۔
میرے زخم جس میں نہاں رہے، میرا درد جس میں چھپا رہا۔
میرے چارہ گر تیرا شکریہ، وہ قبا بھی تو نے اتار دی۔
The post مستونگ کا نوحہ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2mii2yW
No comments:
Post a Comment