Saturday, July 21, 2018

جسٹس شوکت عزیز کے تحفظات اور میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج محترم جسٹس شوکت صدیقی نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے آرمی چیف سے اپیل کی کہ وہ اپنے لوگوں کو روکیں۔ وہ ججز کو اپروچ کر رہے ہیں۔ ججز کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔ ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔

جسٹس صدیقی نے کہا کہ آپ کے لوگ اپنی مرضی کے بنچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آرمی چیف کو پتہ ہونا چاہئیے کہ ان کے لوگ کیا کر رہے ہیں۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں لکھا کہ حساس ادارے اپنی آئینی ذمہ داری کو سمجھیں۔ عدلیہ، ایگزیکٹیو اور دیگر اداروں میں مداخلت روکی جائے۔ حساس ادارے ملک کے دفاع اور سکیورٹی پر توجہ دیں۔ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم کیا جائے۔ اگر دیگر اداروں میں مداخلت کو نہ روکا گیا تو فوج اور ریاست کیلئے تباہ کن ہو گا۔

گذشتہ روز ایک سابق پولیس آفیسر ذوالفقار چیمہ نے اسی موضوع پر ایک نجی اخبار میں کالم لکھا۔ اس کالم میں انہوں نے اپنے گرائیں جنرل باجوہ صاحب سے درخواست کی ہے کہ وہ نوٹس لیں کہ ایک عدالتی پراسیس کی تکمیل میں ان کے باوردی افسران کی مداخلت کس لیے تھی اور کس کے حکم پر تھی؟ یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی پولیس آفیسر نے اخبار کے ذریعے اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا ہو۔

ایک جگہ انہوں نے لکھا کہ ‘جنرل صاحب پشاور میں ہارون بلور کے جنازے پر جو نعرے لگتے رہے وہ آپ نے بھی سنے ہوںگے۔ میں تو سن کر بے حد تشویش میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ ‘

چیمہ صاحب نے اپنی تحریر میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب پنجاب میں لوگوں کا موڈ دیکھ کر خوف آنے لگا ہے۔ اس لیے کہ وطنِ عزیز کے بارے میں بھارت اور دیگر دشمنوں کے خطرناک عزائم بہت واضح ہیں۔ ہمارے ازلی دشمن کی فوج کو تعداد اور اسلحے میں جو برتری حاصل ہے وہ ہماری پاک فوج عوام کی پر جوش حمایت اور مدد سے پوری کرتی ہے لیکن اگر پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے خلاف جنگ شروع کردی جائے تو کیا وہ مدد اور حمایت برقرار رہی گی؟ کیا اِسوقت فوج متنازع بننے کی متحمل ہو سکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ایک مقبول جماعت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ کونسی ایسی مجبوری ہے جس کی بنا پر ایسا کیا جارہا ھے؟ یہ جنرل یحییٰ کی بدروحوں یا مشرف کی باقیات کی خواہش تو ہو سکتی ہے ادارے کی ضرورت ہرگز نہیں، ادارے کی ضرورت سوفیصد غیر سیاسی اور غیر جانبدار رہنا ہے۔

سابق پولیس آفیسر نے ملک کی سالمیت کے خاطرجنرل باجوہ سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کر کے اسے ختم کرائیں تاکہ پوری قوم خصوصاً پنجاب، آزاد کشمیر اور جی بی جیسے حساس علاقوں میں فوج کے بارے میں عوام کے اندر منفی جذبات پروان نہ چڑھیں۔ دہشت گردی کے عفریت نے پھر سر اٹھا لیا ہے فوج کے تمام وسائل، وقت اور صلاحیتیں دہشت گردی کو کچلنے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہونی چاہئیے۔

عدلیہ کے علاوہ میڈیا بھی سنسر شپ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں مشہور اینکرپرسن عاصمہ شیرازی نے نواز شریف کے ساتھ کیے جانے والے انٹرویو کو آن ائیر نہ کرنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی تھا۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر نواز شریف کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ فون پر عاصمہ شیرازی سے انٹرویو کی بابت سوال کر رہے تھے۔ عاصمہ شیرازی نے جواب دیا کہ انٹرویو کو اگر چلایا گیا تو پیمرا کا کہنا ہے کہ وہ چینل بند کروا دیں گے۔

مشہور اینکر پرسن طلعت حسین کا بھی ایک پراگرام جس میں انہوں نے شہباز شریف کی ریلی کی کوریج کی تھی، ان کے چینل نے پراگرام چلانے سے انکار کر دیا تھا جس پر طلعت حسین نے ایک احتجاجی ٹویٹ لکھی۔ ان کی ناراضگی کا خیال کرتے ہوئے ان کا پراگرام بعد میں نشر کر دیا گیا تھا۔

حالیہ ملک کے مشہور انگریزی اخبار کے مالک کی جانب سے اسی طرز کا بی بی سی کو انٹرویو دیا گیا۔ اس انٹرویو کا مقصد واضح طورپر نظر آتا ہے یہ آوازیں انٹرنیشنل لیول پر اٹھائی جائینگی۔ اس سے پہلے ایک سیاسی جماعت کبھی خلائی مخلوق کا نام لیکر تو کبھی محکمہ زراعت کا لقب استعمال کرکے ایک مخصوص سمت میں اشارہ کرتی رہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آرمی چیف ان دونوں اپیلوں کا کیا جواب دیتے ہیں اور کس طرح اپنے ادارے کی پوزیشن واضح کرتے ہیں۔

The post جسٹس شوکت عزیز کے تحفظات اور میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندی appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2JH1LwQ

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny