اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسہ نے گذشتہ جمعرات کو اسرائیل کو یہودی مملکت قرار دینے کا قانون منظور کر لیا ہے، جسے قانون میں پوشیدہ نسل پرستی کی معراج قرار دیا جارہا ہے۔ ”قومی مملکت ” کے نام نہاد قانون کے تحت، اسرائیل، یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کیا گیا ہے جس میں اسرائیل میں آباد عرب اقلیت کوقطعی کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔ اسرائیل میں یہودیوں کی آبادی 65 لاکھ ہے اور اٹھارہ لاکھ عرب آباد ہیں۔
کنیسہ میں آٹھ گھنٹے کی بحث کے بعد یہ قانون 55 کے مقابلہ میں 62 ووٹوں سے منظور کیا گیا ہے۔ کنیسہ میں عرب اراکین کی شدید مخالفت میں انسانی حقوق کے حامی ممتاز یہودی اراکین نے بھی ساتھ دیا اور اس قانون کو ملک میں نسلی تفریق کے نظام کا قیام قرار دیا۔ یہی نہیں اسرائیل کے صدرریوون ریو لن اور اٹارنی جنرل مینڈل بلٹ نے بھی اس قانون کی بعض دفعات کو نسل پرست قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتھن یاہو نے البتہ اس قانون کی منظوری کو صہیونیت اور اسرائیل کی تاریخ میں اہم لمحہ قرار دیا ہے۔
کنیسہ میں قانون پیش کرنے والے رکن ایوی ڈچسٹر نے قانون کی منظوری کے بعد، عرب اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے نعرہ لگایا۔ ”ہم آپ سے پہلے اس سرزمین پر تھے اور ہم آپ کے بعد بھی اس سر زمین پر رہیں گے”۔
یہودی مملکت قرار دیئے جانے کے قانون کی گیارہ دفعات میں کہا گیا ہے کہ یہودیوں کو اسرائیل میں حق خودارادیت حاصل ہوگا۔ ایسے کہ اب تک یہودیوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا۔ قانون میں یروشلم کو اسرائیل کے دار الحکومت کی حیثیت کی توثیق کی گئی ہے۔
اسرائیل میں عربوں کی 20 فی صد آبادی ہے اور نئے قانون کے تحت عربی جو اب تک سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کی جاتی تھی اب وہ اس حیثیت سے محروم ہو جائے گی۔ نئے قانون میں فلسطینیوں کی سر زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کو توسیع دینے کا اعلان کیا گیا ہے اور اب فلسطینیوں کے دیہی علاقوں میں بھی یہودیوں کو آباد کیا جائے گا۔ آئندہ اسرائیل میں ہر معاملہ میں صرف یہودیوں کو ترجیح دی جائے گی۔
نئے قانون کی منظوری کے وقت عرب رکن کنیسہ، ایمن اودھ نے ایوان میں سیاہ پرچم لہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شر سے بھرپور قانون ہے۔ قانون کی منظوری کے بعد ایمن اودھ نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ” آج میں اپنے بچوں سے اور فلسطین کے عرب بستیوں کے بچوں سے کہوں گا کہ اسرائیل کی مملکت نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہمارا اپنے وطن میں رہنے کو کوئی حق نہیں ہے۔ ”
فلسطینی رہنمائوں نے بھی نئے قانون پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین PLO کے سیکرٹری جنرل صایب اریقاط نے نئے قانون کو نہایت خطرناک نسل پرست قانون قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فلسطینی بھر پور عزم کے ساتھ اس اقدام کی مزاحمت کریں گے۔ فلسطینوں کا کہنا ہے کہ نیتھن یاہو نے یہ قدم در اصل صدر ٹرمپ کی بھر پور شہہ اور حمایت کے بل پر کیا ہے۔
سپر طاقت کے بل پر فلسطینیوں کے ساتھ اس ہمہ گیر ناانصافی پر اور دنیا کی مجرمانہ خاموشی پر یہی کہا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ” دل کو لہو کریں کہ گریباں رفو کریں”۔
The post دل کو لہو کریں کہ گریباں رفو کریں؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.
from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2Lsc10P





No comments:
Post a Comment