Saturday, July 21, 2018

اساتذہ کو ان کے حقوق کون دلوائے گا؟

عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
فرش کے سارے خدائوں سے الجھ بیٹھا ہوں۔

کسی معاشرے یا قوم کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے۔ تعلیمی شرح جتنی زیادہ ہو گی ملک اتنی تیزی سے ترقی کرے گا۔ تعلیمی عمل کے دو بڑے عناصر معلم و متعلم، تعلیم دینے والا اور تعلیم لینے والا، سکھانے والا اور سیکھنے والا یعنی استاد اور شاگرد ہیں۔ طلبہ کے حقوق یعنی بہتر انداز تدریس، جسمانی سزا نہ دینے، کمرہ جماعت میں دوستانہ فضا، انفرادی توجہ وغیرہ پر تو کسی نہ کسی صورت بات ہوتی رہتی ہے۔ پالیسیاں بنتی ہیں، ورکشاپس ہوتی ہیں، ٹریننگ کورسز کا انعقاد ہوتا ہے کہ تعلیم و تدریس کا عمل بہتر طریقے سے سر انجام پائے۔ طلبہ کی ذہنی صلاحیتیں جلا پائیں، ان کی ہمہ پہلو تربیت ہو۔ مگر افسوس کہ اس عمل کے اتنے ہی اہم عنصر یعنی اساتذہ کے حقوق پر بات نہ ہونے کے برابر ہے۔

تعلیمی ادارے گورنمنٹ ہوں یا پرائیویٹ اساتذہ کے حقوق پر کوئی بات نہیں کرتا۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اساتذہ خاص طور پر خواتین اساتذہ کا کمال کی حد تک استحصال کیا جاتا ہے۔ مگر کوئی اس طرف توجہ نہیں دیتا۔ آخر کیوں؟ اگر استاد کو اس کے حقوق نہیں ملیں گے تو وہ دل لگا کر کیسے پڑھائے گا؟ قابلیت کے مطابق تنخواہ نہ دینا، مقررہ وقت سے پہلے بلانا، چھٹی کے بعد بھی روکنا، اضافی کاموں کے لیے کوئی اضافی معاوضہ نہ دینا، معمولی غلطیوں پر تنخواہ میں سے کٹوتیاں، اساتذہ کو صرف پڑھانے تک محدود نہ رکھنا بلکہ ان سے سکول کی تزئین و آرائش کا کام بھی لینا، ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ چند ایک اچھے سکولوں کو چھوڑ کر باقی تمام سکولوں کے مالکان کا شعار ہے۔

یہ واقعہ تو میری ایک دوست کے ساتھ پیش آنے والا مبنی بر حقیقت ظلم ہے کہ اس کا ایک عزیز صبح پانچ بجے وفات پا گیااس نے اسی وقت سکول اطلاع دے کر چھٹی مانگی۔ چھٹی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کا جانا ناگزیر تھا چنانچہ اس کی تنخواہ کاٹ لی گئی یہ کہ کر کہ ایک دن پہلے کیوں نہیں بتایا۔ اور دو دن کی کٹوتی ہوئی کہ یہ پیر کا دن تھا اور پیر کو چھٹی کی اجازت نہیں۔ ایک ٹیچر کی والدہ کا بلڈ پریشر اتنا زیادہ ہوا کہ ان کو ہسپتال لے جانا پڑا، بیٹی ہونے کے ناطے اس کا ساتھ جانا ضروری تھا۔ آدھے دن کی چھٹی مانگنے پر اسے یہ کہا گیا کہ کوئی اور ساتھ چلا جائے، آپ کا جانا ضروری تو نہیں۔ ایسے حالات میں کون سا استاد کیسے خون جگر دے کر ان نوخیز پودوں کی آبیاری کرے گا؟

استاد کی عزت کی بات ہو تو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی عزت خود کروائے اپنے کام سے، محنت سے، طلبہ سے محبت سے۔ وہ یہ سب کرے گامحنت سے پڑھائے گا، طلبہ کو آگے لے کر جائے گامگر خدارا آپ اس کو اس کے بنیادی حقوق تو دیں۔ ارباب عقل و دانش سے سوال ہے کہ ساڑھے سات بجے سکول جانے، تین بجے واپس آنے، پانچ سے آٹھ تک اکیڈمی پڑھانے، آٹھ سے گیار ہ تک ہوم ٹیوشن پڑھانے والا اور اس کے بعد اتنا کمانے والا کہ بنیادی ضروریات بمشکل پوری ہو سکیں استاد کیسے اگلے دن کا لیکچر تیار کرے گا؟کیسے سوچے گا کہ تدریس کے نئے اور بہتر طریقے کیا ہو سکتے ہیں؟اس کے ساتھ ساتھ سکول کا ماحول منتظمین کا اعانت آمیز رویہ بھی بونس کے طور پر ملے۔ کسی استاد کی تقرری پر پالیسی سائن کروائی جاتی ہے کی کہ آپ جب چاہے نکال سکتے ہیں جب کہ استاد کا ایک ماہ قبل بتانا ضروری ہے ورنہ سیکورٹی نہیں ملے گی واپس نہ تنخواہ(محض اس لیے کہ آپ حاکم ہیں اور وہ محکوم)۔

۲۔ پہلے سال تو چھٹیوں کی تنخواہ ملے گی نہیں اگلے سال سے ملے گی مگر جون جولائی کی تنخواہ نومبر دسمبر میں(وہ اپنے گھر کے اخراجات کیسے پورے کریں جون جولائی میں)۔

۳۔ کام مکمل ہونے پر بھی چھٹی کے بعد بھی آدھ گھنٹہ رکنا ضروری ہے۔ (اس کا جواز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟چھٹی کے بعد سب بچوں کا گھر جانا آپ کی ذمہ داری ہے یا استاد کی؟)۔

۴۔ متبادل دنوں میں ہفتے کی چھٹی صرف نام کی ہوتی ہے۔ یہ چھٹی کینسل ہوتی ہے امتحانات کے دنوں میں، میٹنگ کی صورت میں، کورسز کے لیے۔

۵۔ پیپرز کی کمپوزنگ کا کام بھی ٹیچرز سے لیا جاتا ہے۔

الغرضیکہ اسے اتنا دبایا جاتا ہے کہ وہ تدریس پر کماحقہ توجہ نہیں دے پاتا۔ پھر یہ گلہ ہوتا ہے کہ استاد محنت سے نہیں پڑھاتے۔

میری درخواست ہے چیف جسٹس صاحب سے کہ آپ یقیناً بہت اعلیٰ کام کر رہے ہیں۔ انصاف کے فروغ کے لیے خدارا ایک ازخود نوٹس لے کر ان اداروں کے مالکان کا بھی احتساب کریں کہ تعلیم کے نام پر کاروبار کیوں ہورہا ہے؟اور اساتذہ کے حقوق کا اتنا استحصال کیوں؟

ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب
ہاں اگر حرف غلط ہیں تو مٹا دو ہم کو

منجانب،
ایک استانی

The post اساتذہ کو ان کے حقوق کون دلوائے گا؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.



from دنیا اردو بلاگ https://ift.tt/2JIWJjp

No comments:

Post a Comment

May or later: Rocket Lab may launch a small probe to Venus

By Unknown Author from NYT Science https://ift.tt/OPbFfny